True Friends
Funny, action clips and pictures
04/05/2022
"خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا"
پاکستانی تاجروں اور دکانداروں کی پہلی بددیانتی!
پاکستان میں تاجر اور دکاندار گاہکوں کا جس طرح استحصال کر رہے ہیں اس کی مثال کسی مہذب ملک میں نہیں ملتی۔
فرض کریں آپ نے اپنے لئے یا گھر کے کسی دوسرے بندہ کے لئے کوئی جوتا خریدا ہے یا کوئی ڈرس وغیرہ۔ اب گھر آکر آپ نے محسوس کیا کہ جوتے یا ڈرس سائز ڈیزائن یا کلر پسند کا نہیں یا جوتا تنگ ہے اور آپ کو بے چین کرے گی۔ یا جوتے کمپرٹیبل نہیں ہے۔
دوسرے دن آپ واپس کرنے یا تبدیل کرنے کے لئے دکان واپس گئے۔ دکان دار کہنے لگا:
"اس کے بدلے میں کوئی اور شے دیکھ لیجئے"
"دیکھا! کوئی پسند نہ آئی"
عرض کیا یہ "واپس لے لیجیے۔"
"پیکٹ سے نکالی ہی نہیں ۔ ٹیگ اس کے ساتھ لگے ہیں۔ رسید یہ ہے۔"
"لہذا میری رقم واپس دے دیجئے۔"
دکان دار :
"ریفنڈ فنڈ (رقم کی واپسی) ہماری پالیسی میں نہیں ہے۔ اب بحث کا فائدہ نہیں۔ "
باہر کی دنیا میں چھوٹے سے لے کر بڑے برانڈ تک سب کی refund پالیسی ہوتی ہے۔ تین ڈالر کا یا تین لیرے کا رومال خریدیں یا بچوں کے لیے ایک ڈالر کا کیلکولیٹر، دو صفحے کی ری فنڈ پالیسی رسید کے ساتھ دی جاتی ہے۔ بڑی سے بڑی کمپنی، بڑے سے بڑے برانڈ کے سربراہ سے چند منٹوں میں براہ راست بات ہو سکتی ہے۔
لندن سے خریدا ہوا کوٹ ایک چھوٹے سے قصبے میں اسی برانڈ کی دکان پرایک سال بعد واپس کیا جاسکتا ہے۔ اشیائے خورونوش سے لے کر ملبوسات تک اور صابن سے لے کر دوا تک ہر شے، رسید دکھا کر، واپس کر سکتے ہیں۔ مدت کا تعین بھی دیا ہوا ہوتا ہے۔ کہیں دس دن، کہیں دو ہفتے، کہیں ایک ماہ کے اندراندر۔ کتابوں کی بین الاقوامی کمپنی ’’بارڈرز‘‘ خریدی ہوئی کتاب ایک ماہ کے بعد بھی واپس لے لیتی ہے۔
ہاں! کامن سینس کی بات ہے کہ واپس کی جانے والی شے استعمال نہ ہوئی ہو، ٹیگ موجود ہو اور رسید بھی دکھائی جائے۔
پاکستان میں عوام کے ساتھ سب سے زیادہ ظلم کرنے والا طبقہ تاجر برادری کا ہے کیونکہ کہ عوام کا ہر روز ان سے واسطہ پڑتا ہے۔
صبح سے لے کرشام تک کئی بار بازار جانا پڑتا ہے۔ ڈبل روٹی سے لے کر بلب تک، پھلوں سے لے کر ادویات تک، ملبوسات سے لے کرشادی کے زیورات اور لہنگوں تک، مکان کی تعمیر کے لیے ٹائلوں سے لے کر غسل خانے کی ٹونٹی تک، ہر شے کے لیے تاجر کے حضور حاضر ہونا ہوتا ہے اور تاجر کہتا ہے کہ :
"خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں ہو گا"
"اب تبدیل تو ہونے لگا ہے، واپس نہیں ہوتا"
یہ دستور پوری دنیا میں نرالا اور انوکھا ہے۔
اصل معاملہ ری فنڈ پالیسی کا نہ ہونا ہے۔ اس ضمن میں صارفین کو بیدار ہونا ہوگا۔ پاکستانی صارفین، تاجروں کے زرخرید غلام ہیں نہ ماتحت۔ یہ صارفین ہی ہیں جن کی بدولت یہ تاجر، یہ معروف برانڈ، یہ سیٹھ اور یہ کمپنیاں کروڑوں اربوں کھربوں روپیہ کما رہے ہیں۔
اصارفین کوئی شے خریدیں تو پوچھیں کہ ری فنڈ پالیسی کیا ہے؟ جواب یہی ملے گا، نہیں ہے۔
پوری دنیا میں خریدا ہوا مال واپس کرلیا جاتا ہے۔ آپ کیوں نہیں کرتے؟
اپنی پالیسی میں تبدیلی لائیے۔ ورنہ ہم آپ کے برانڈ کا بائی کاٹ کریں گے۔ ماضی قریب میں پھلوں کی مہنگائی کا توڑ، بائی کاٹ کے ذریعے کامیابی سے کیا گیا ہے۔
گاہک کو اس کے حقوق دینے ہوں گے۔
دوسری بڑی طاقت سوشل میڈیا کی ہے۔ بڑے بڑے کارنامے عوام نے سوشل میڈیا کے ذریعے سرانجام دیئے ہیں۔ اس معاملے میں بھی سوشل میڈیا پر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
صارفین پر زور دیا جائے کہ شے خریدتے وقت ری فنڈ پالیسی کا پوچھیں۔ کمپنی سے رابطہ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں اور آخری حربے کے طور پر بائی کاٹ کریں۔
معلوم نہیں کہ ’’صارفین کی عدالتیں‘‘ (Consumer Courts) اس ضمن میں کیا کردار ادا کرسکتی ہیں؟
کیا یہ پہلو ان کے دائرہ کار میں آتا ہے یا نہیں؟
Click here to claim your Sponsored Listing.