Azmat Akbar
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Azmat Akbar, Public Figure, UG 350 Deans Trade Canter Peshawar, Peshawar.
27/03/2026
( آبنائے ھرمز کا سبق،اور حضرت ابو جندل و ابو بصیر رض کی دفاعی اسٹریٹجی )
صرف آبنائے ھرمز ھی نہیں، دنیا کے تین بر
اعظموں ایشیا، یورپ اور افریقہ کو زندہ رکھنے والی دو مزید شہ رگیں اور سانس کی نالیاں، تنگ نائے باب المندب اور نہر سویز کی صورت میں قدرت حق نےعالم اسلام کی دسترس اور شکنجے میں تھما دی ھیں، مگر کاش عالم اسلام خوئے غلامی سے آزاد ھوتا، اور صلح حدیبیہ کے دو گمنام ہیرو صحابیان رسول ص، حضرت ابو جندل اور حضرت ابو بصیر کی سنت کو سب متحد ھو کر تازہ کرتے، تو پوری دنیا قدموں میں پڑی ھوتی،ابھی تو پاسداران ایران کے ھرمز پر ذرا سی گرفت دکھانے سے دنیا ھل کر رہ گئی ھے، اگر احرار یمن نے باب المندب بھی روک دیا تو مغرب سے مشرق کی طرف آنے والا سارا ٹریفک بھی بند ھونے سے سانسیں مزید سکڑ جائیں گی، اور اگر مصری حکومت غلاماں صہیون کی نہ ھوتی تو فدائیان وادئ نیل سویز کو بھی جیسے چاھتے کھولتے اور بند کرتے،
غاصب وظالم دشمن کو ڈھیر کرنے کی یہی وہ حکمت عملی تھی جسے مذکورہ بالا صحابیان پیغمبر،ص، نے صلح حدیبیہ کی غیر عادلانہ شرائط کو ختم کرنے کے لئے اختیار کی تھی، یہ دونوں چند نو مسلم نوجوانوں کے ساتھ قریش کی تجارتی شاھراہ پر جابیٹھےاور کفارمکہ کا کوئی قافلہ ان کے انتقام سے نہ بچ سکا،حتی کہ قریش خود صلح کی ظالمانہ شقوں سے دستبرداری کی درخواست دربار نبوی میں پیش کرنے پر مجبور ھو گئے،اور صلح فتح مبین میں تبدیل ھو گئی، اسوقت جنگ بندی ھوئی تو شرائط اسی کی روشنی میں طے ھونگی،
ان شاءاللہ
21/03/2026
ایران کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر علی لاریجانی کے جانشین کےلیے حسین دہغان کو مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا مختصر تعارف جو سامنے آیا ہے کافی خطرناک ہے، خصوصاً ام_ریکہ کےلیے۔
حسین دہغان مینجمنٹ سائنس میں پی ایچ ڈی ہیں۔ خمینی انقلاب کے بعد امریکی ایمبیسی سے سی آئی اے کے ایجنٹس اور عملے کو یر_غم_ا_ل بنا لیا گیا تھا۔ اس حملے میں سٹوڈنٹس کو جو شخص لیڈ کر رہے تھے وہ یہی حسین دہغان تھے۔ حسین دہغان لبنان میں آئی آر جی سی کے کمانڈر رہے ہیں۔ انیس سو اٹھاسی میں بیروت میں امریکی میرین کور کی بیرکس پہ ب۔م دھ۔ماکے ہوئے۔ ان حملوں کے ماسٹر مائنڈ بھی یہی حسین دہغان تھے۔ علی لاریجانی ایک بہترین سیاست دان دانشور اور فلسفی تھے عصراعیل نے ناحق قتل کیا۔ اب متبادل کے طور پر ایران نے وہ بندہ آگے لایا ہے جو مُنجھا ہوا ماسٹر مائنڈ ہے کہ چلو اب موج کرو۔
اب امریکہ میں بحث چھڑی ہے کہ نیا بندہ پہلے سے سخت آ گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ایک مارتے ہیں جو نیا آتا ہے پچھلے سے دو ہاتھ آگے نکلتا ہے۔ ایرانی قوم واقعی عجوبہ ہے۔ جو بات سب سے زیادہ حیران کرتی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں جس کے چوٹی کے پچانوے لیڈرز مارے جائیں اور وہ سروائیو کر جائے۔ ایران کے پچانوے اعلیٰ ترین دماغ جن میں کچھ سیاست دان تھے، کچھ کمانڈر تھے کچھ بیوروکریٹس تھے اور کچھ دانشور اور علماء تھے امریکہ نے مار دیے۔ توقع یہ تھی کہ ایران ختم ہو جائے گا کیونکہ لیڈر شپ کے اتنے بڑے فقدان کو دنیا کی کوئی قوم پورا نہیں کر سکتی۔ مگر حیران کن طور پر ایران میں جو بھی اگلا لیڈر جس شعبے میں بھی آیا ہے وہ پچھلوں سے بھی بڑھ کر ثابت ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ایران میں وڈیروں اور جاگیر داروں کی سیاست نہیں ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ دنیا کی واحد پارلیمنٹ ہے جس میں اسی فیصد پی ایچ ڈی ہیں۔
دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران پچھلے چالیس سال سے اس جنگ کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ چالیس سالوں سے جانتے تھے کہ ایک وقت ائے گا حکومت گرانے کی کوشش ہو گی جس میں جنگ ہو گی۔ اور اس چالیس سالہ عرصے میں وہ صفِ اول کی قیادت کے بعد قیادت کی دوسری اور تیسری صف پہ کام کرتے رہے۔ ان کو پتہ تھا کہ ایک لیڈر مارا گیا تو اگلا کون ہو گا اور اسی حساب سے نچلے لیول پر لیڈر تیار کرتے رہے۔ تیسری بڑی وجہ آیت اللہ کا عہدہ ہے جس کے منہ سے نکلے ہر لفظ کو عبادت سمجھ کر پورا کیا جاتا ہے۔ اداروں میں ٹکراؤ نہیں ہے آیت اللہ کے احکامات کے مطابق ادارے اپنی حدود میں رہ کے کام کرتے ہیں۔
چوتھی اور آخری بڑی وجہ ایرانی قوم کی علم سے محبت ہے۔ ایران میں خواتین سائنس دانوں کی شرح مسلم دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ شرح تعلیم اسی اور نوے فیصد کے درمیان ہے۔ آیت اللہ کا انتخاب کرنے والی اٹھاسی رکنی کمیٹی میں کوئی ایک بھی رکن ایسا نہیں ہوتا جو کم سے کم تیس سال تک علم حاصل نا کرتا ہو۔ ان کےلیے لازم ہوتا ہے کہ دینی تعلیم کے ساتھ جدید عصری تعلیم میں اعلی ڈگریز لیں۔ وہ اٹھاسی علماء جائیدادیں اور بینک بیلنس نہیں بنا سکتے نا ان کے گھر والے بنا سکتے ہیں۔ عام درویش لوگوں کی طرح رہتے ہیں۔ اعلی عہدوں پر ترقی صرف قابلیت نہیں بلکہ قابلیت اور تقوی کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ قومیں ایسے بنتی ہیں، سات براعظموں میں دولت کے انبار لگا لینے سے قومیں نہیں بنا کرتیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Peshawar
25000