Muhammad Essa Roshan

Muhammad Essa Roshan

Share

Central Information Secretary of Pashtoonkhwa National Awami Party

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 16/05/2026

#پښین - ،د پښتونخوا نېشنل عوامي پارټۍ د پشېن ضلعې کمېټۍ غونډه په کلي ملک فيضو کې د ملک عزيز خان په کور ( پښنون مېنه) کې د پارټۍ صوبايي صدر نصرالله خان زېري په صدارت کښی ترسره سوه -
په غونډه کې د لویه اختر د څلرمې ورځې د” برشور بازار “” د عظیم الشان جلسه عام په حواله مهمې پرېکړې وسوې. چې په ياد جلسه کې به د پارټۍ مرکزي چيئرمين او د قامې اسمبلې غړې خوشال خان کاکړ ګډون کوي۔او د پښتون دشمن ماینز منرل ایکټ په خلاف به اولس ته ویناوې کېژی -
په غونډه کې د پارټۍ مرکزي سېکرټري اطلاعات محمد عیسئ خان روښان، صوبايي سیکرټرې اول خوشحال کاسی ، پروفېسر اسد ترين، سيد احسان آغا، محمود رياض، سينيئر معاون سېکرټري سردار فيصل خان ترين او د ضلعې کمېټۍ غړو هم ګډون درلود ۔

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 11/05/2026

تاریخ : 2026-11-05
کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی جنوبی پشتونخوا کی صوبائی کمیٹی کا دو روزہ اہم اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت بیادِ مرحوم عبدالرحیم خان مندوخیل، کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا، سینئر سیکریٹری سید قادر آغا ایڈووکیٹ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکریٹری اللہ نور خان، مرکزی سیکریٹری محترمہ صاحبہ بڑیچ، مرکزی سیکریٹری ڈاکٹر بایزید روشان، صوبائی سیکریٹری برائے خواتین و انسانی حقوق محترمہ عارفہ صدیق سمیت صوبائی ایگزیکٹو کے دیگر اراکین صدارتی مجلس میں شامل تھے۔ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت حافظ صادق شیرانی نے حاصل کی، جبکہ پارٹی کے مرحوم اراکین اور دیگر مرحومین کیلئے دعائے مغفرت پارٹی کے علماء ونگ کے آرگنائزر مولانا فضل کریم نے کرائی۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض پارٹی کے صوبائی سیکریٹری اول فقیر خوشحال کاسی نے انجام دیے۔ اجلاس میں جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع کے ضلعی سیکریٹریوں نے اپنی گزشتہ تنظیمی سرگرمیوں، سیاسی صورتحال، عوامی رابطہ مہم اور پارٹی کی تنظیمی کارکردگی سے متعلق تفصیلی رپورٹس پیش کیں۔ اسی طرح صوبائی ایگزیکٹو اور پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پی ایس او) کی کارکردگی رپورٹس بھی اجلاس میں پیش کی گئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے سیاسی، تنظیمی اور عوامی لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں پارٹی تنظیم کو مزید فعال، منظم اور عوامی سطح پر مؤثر بنانے کیلئے مختلف تجاویز اور سفارشات بھی پیش کی گئیں۔ اجلاس سے پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ، صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے ، سینئر ڈپٹی چیئرمین رضا محمد رضا ، مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ ملکی، علاقائی اور پشتونخوا وطن کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ پشتونخوا وطن اس وقت سیاسی، معاشی، سماجی اور قومی حوالے سے انتہائی نازک اور تشویشناک دور سے گزر رہا ہے، جہاں عوام بدامنی، بے روزگاری، مہنگائی، وسائل کی لوٹ مار اور سیاسی ، معاشی اور قومی محکومی کے باعث سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ نے کامیاب، منظم اور مؤثر اجلاس کے انعقاد پر جنوبی پشتونخوا کے صوبائی ایگزیکٹو اور صوبائی کمیٹی کے اراکین کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پشتون قومی تحریک کو اپنے مقاصد میں کامیابی دلانے کا واحد راستہ پارٹی کو نظریاتی، سیاسی اور تنظیمی بنیادوں پر مزید مضبوط اور فعال بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط، منظم اور عوامی بنیادوں پر استوار سیاسی جماعت ہی پشتون ملت کے قومی ارمانوں، قومی حقوق اور قومی نجات کی جدوجہد کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ خوشحال خان کاکڑ نے کہا کہ پارٹی کو عوام کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط اور قریبی بنانے ہوں گے۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے باشعور افراد، نوجوانوں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں، خواتین، دانشوروں اور مختلف سماجی و عوامی تنظیموں کو منظم کرکے انہیں پشتون ملت کو درپیش موجودہ غلامی، بدحالی، محرومی، سیاسی بے اختیاری اور قومی مسائل سے آگاہ کرنا ہوگا تاکہ وہ قومی تحریک کا حصہ بن سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت غیور پشتون ملت اپنی تاریخ کے بدترین حالات سے گزر رہی ہے۔ پشتونخوا وطن میں بدامنی، معاشی بدحالی، بے روزگاری، وسائل پر قبضے اور سیاسی محرومی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان تمام مسائل کا حل صرف ایک مضبوط، منظم، نظریاتی اور عوامی سیاسی تحریک کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے انتہائی کم عرصے میں عوام کے درمیان اپنی سیاسی اور تنظیمی بنیادیں مضبوط کی ہیں، جو پارٹی کارکنوں، رہنماؤں اور تنظیمی ساتھیوں کی مسلسل قربانیوں، جدوجہد اور محنت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی تنظیمی سرگرمیوں کو مزید تیز کریں، ابتدائی یونٹوں کو فعال بنائیں، عوامی رابطہ مہم کو وسعت دیں اور ہر گاؤں، ہر محلے اور ہر علاقے میں پارٹی کا پیغام پہنچائیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی پشتون ملت کے قومی حقوق، قومی وحدت، وسائل پر اختیار، جمہوریت، سماجی انصاف اور قومی خودمختاری کی جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھے گی اور کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 11/05/2026

کوئٹہ (پ ر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں 12 مئی 2007ء کے کراچی کے خونی سانحے کو ریاستی سرپرستی میں ہونے والی بدترین دہشت گردی، آمریت کے وحشیانہ اقدام اور جمہوری آوازوں کو بندوق کے زور پر خاموش کرانے کی ایک شرمناک سازش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سیاہ دن کراچی کی سڑکیں معصوم شہریوں، سیاسی کارکنوں، وکلاء اور جمہوریت پسند عوام کے خون سے رنگ دی گئی تھیں۔ یہ سانحہ ملکی تاریخ کا ایک المناک اور سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اُس وقت کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی آمریت اپنے اقتدار کو طول دینے اور جمہوری تحریک کو دبانے کیلئے ہر حد پار کر چکی تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی غیر آئینی معطلی کے خلاف ملک بھر میں اٹھنے والی عوامی، سیاسی اور وکلاء تحریک نے آمریت کی بنیادیں ہلا دی تھیں، جس کے ردعمل میں ریاستی طاقت، خوف، جبر اور مسلح جتھوں کے ذریعے عوامی آواز کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ 12 مئی کو چیف جسٹس کی کراچی آمد کے موقع پر پورے شہر کو عملاً یرغمال بنا دیا گیا، شاہراہیں بند کی گئیں، مسلح عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی اور دن دہاڑے نہتے شہریوں پر فائرنگ کرکے قتلِ عام کیا گیا، جن میں اکثریت پشتون سیاسی کارکنوں کی تھی اور پشتونوں کے جائیدادوں کی لوٹ مار اور ٹرانسپورٹ کے درجنوں گاڑیوں کو جلایا گیا اور پشتونخوا نیپ کے کارکن مہتاب آفریدی شہید اور درجنوں کارکن زخمی ہوئے ۔ جبکہ ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے رہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ 12 مئی کا سانحہ محض ایک سیاسی تصادم نہیں تھا بلکہ یہ جمہوریت، آئین، آزاد عدلیہ، انسانی حقوق اور شہری آزادیوں پر کھلا حملہ تھا۔ کئی گھنٹوں تک کراچی خون میں نہاتا رہا، ٹی وی اسکرینوں پر لاشیں گرتی رہیں، زخمی سڑکوں پر تڑپتے رہے، گاڑیاں اور املاک جلتی رہیں، مگر اُس وقت کے حکمران اقتدار کے نشے میں مست رہے اور انسانی جانوں کے ضیاع پر کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ سانحہ 12 مئی نے ثابت کر دیا تھا کہ آمریت اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ جمہوری قوتوں، وکلاء، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے طاقت اور دہشت کا استعمال کیا گیا تاکہ عوامی جدوجہد کو کمزور کیا جا سکے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر اور آمریت کبھی بھی عوامی شعور اور جمہوری جدوجہد کو شکست نہیں دے سکتے۔ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ آج بھی 12 مئی کے شہداء کے خاندان انصاف کیلئے دربدر ہیں، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ اس قومی سانحے کے اصل کرداروں، منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کو آج تک قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا سکا۔ انصاف میں یہ تاخیر اور مجرمانہ خاموشی ملک کے عدالتی، سیاسی اور انتظامی نظام پر ایک بدنما داغ ہے، جو ریاستی اداروں کی سنجیدگی پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سانحہ 12 مئی کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کر کے تمام ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو جمہوریت، انسانی حقوق اور آئین پر حملہ کرنے کی جرات نہ ہو۔ بیان میں کہا گیا کہ جب تک اس خونریز سانحے کے مجرموں کا مکمل احتساب نہیں ہوگا، ملک میں جمہوریت، آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے دعوے محض نعرے ہی رہیں گے۔ بیان کے آخر میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے 12 مئی کے شہداء کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوامی حقوق، جمہوریت، صوبائی خودمختاری، آزاد عدلیہ، آئین کی حکمرانی اور انسانی آزادیوں کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ پارٹی نے واضح کیا کہ آمریت، جبر، سیاسی دہشت گردی اور عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد ہر سطح پر جاری رکھی جائے گی اور شہداء کی قربانیوں کو مشعلِ راہ بنا کر جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد کو مزید منظم اور مؤثر بنایا جائے گا۔

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 11/05/2026

#کوټه - د پښتونخوا سټوډنټس ارګنائزیشن تر نظارت لاندې سیمینار، چې موضوع یې “بابائے افغان عبدالرحیم خان مندوخېل؛ د جدید پښتون نېشنلزم باني” وه، د زونل سیکرټري وارث افغان په صدارت کښې په کوټه پریس کلب کښې ترسره شو۔

یاد سیمینار ته د پښتونخوا نېشنل عوامي ګوند سینئر ډپټي چیئرمېن رضا محمد رضا لالا، مرکزي سینئر سیکرټري سید عبدالقادر آغا ایډوکیټ، او مرکزي اطلاعات سیکرټري محمد عیسی روښان سیاسي، تنظيمي، عملي او نظریاتي ویناوې وکړې۔

زونل سیکرټري وارث افغان صدارتي وینا وکړه، او د نظامت چارې سینئر معاون سیکرټري ایمل څاروان ترسره کړې۔

په یاد سیمینار کښې د ګوند مرکزي سیکرټري ډاکټر بایزید روښان، صوبایي صدر نصرالله خان زیري، نائب صدر قیوم وکیل صاحب، صوبایي سیکرټري خوشحال کاسي، صوبائی ډپټي سیکرټریز پروفیسر اسد ترین او سلیمان بازئي، محمود ریاض ، د بوري ضلع سیکرټري مصطفی کمال کاکړ، او د سازمان صوبایي، علاقایي او یونټ ایګزیګټیوزو ګډون درلود۔

11/05/2026

کوئٹہ - پشتونخوا نیپ کے اہتمام پر پشتون قومی سیاسی تحریک کے عظیم رہنما اور پشتونخوا میپ کے سینئر ڈپٹی چیئرمین، ممتاز پارلیمنٹیرین اور نامور تاریخ دان عبدالرحیم خان مندوخیل کی نویں برسی کا جلسۂ عام سے مرکزی سیکرٹری اطلاعات محمد عیسیٰ خان روشان خطاب کر رہے ہے -

Photos from Muhammad Essa Roshan 's post 10/05/2026

#کوته - د پشتونخوا نیشنل عوامي پارټۍ د جنوبي پښتونخوا صوبایي کمېټې غونډه دویمه ورځ هم د صوبایي صدر نصراللہ خان زیرې په صدارت کښې روانه دہ - غونډې ته د پارټۍ چیرمین او د قومي اسمبلۍ غړي ګران خوشال خان کاکړ، مرکزی سیکټری اطلاعات او نشریات محمد عیسئ خان روشان او نورو مرکزي او صوبایي مشرانو تفصیلي ویناوې وکړې۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Pknap Central Office
Quetta
87300