Gull Ahmad

Gull Ahmad

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Gull Ahmad, Digital creator, Quetta.

11/02/2026
زڈیرہ غازی خان: دن دیہاڑے قتل ملزمان تاحال آزاد، مدعی اور اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، پولیس کی خاموشی پر سوالات اٹھ رہے ہیں 
ڈیرہ غازی خان (19 ستمبرز 2025) کو تھانہ دراہمہ کیص حددود میں دن دیہاڑے ہونے والا لرزہ خیز قتل، انصاف کا منتظر ہے۔ مقتول سیف اللہ اعوان کو سرعام بے دردی سے گولیاں مار کر قتل کرنے والے نامزد ملزمان تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہیں، جبکہ مدعی مقدمہ مظہر حسین اور اس کے اہلِ خانہ کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
مدعی مظہر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قتل کے واضح شواہد اور نامزد ملزمان کے باوجود پولیس نہ صرف ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے بلکہ متاثرہ خاندان کو کوئی تحفظ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ
“ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں، ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور ہم ہر وقت خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔”
واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، شہری حلقوں میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ اگر دن دیہاڑے ہونے والے قتل کے ملزمان بھی قانون کی گرفت میں نہ آ سکیں تو عام شہری کہاں جائے؟ اہلِ علاقہ اور سول سوسائیی نے بھی پولیس کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ مدعی مظہر حسین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے فوری نوٹس لینے، اہلِ خانہ کو سیکیورٹی فراہم کرنے اور قاتلوں کی بلا تاخیر گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
Maryam Nawaz Sharif Government of Pakistan 11/02/2026

زڈیرہ غازی خان: دن دیہاڑے قتل ملزمان تاحال آزاد، مدعی اور اہلِ خانہ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، پولیس کی خاموشی پر سوالات اٹھ رہے ہیں ڈیرہ غازی خان (19 ستمبرز 2025) کو تھانہ دراہمہ کیص حددود میں دن دیہاڑے ہونے والا لرزہ خیز قتل، انصاف کا منتظر ہے۔ مقتول سیف اللہ اعوان کو سرعام بے دردی سے گولیاں مار کر قتل کرنے والے نامزد ملزمان تاحال پولیس کی گرفت سے باہر ہیں، جبکہ مدعی مقدمہ مظہر حسین اور اس کے اہلِ خانہ کو مسلسل جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ مدعی مظہر حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ قتل کے واضح شواہد اور نامزد ملزمان کے باوجود پولیس نہ صرف ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے بلکہ متاثرہ خاندان کو کوئی تحفظ بھی فراہم نہیں کیا جا رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں، ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں اور ہم ہر وقت خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔” واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے، شہری حلقوں میں یہ سوال زور پکڑتا جا رہا ہے کہ اگر دن دیہاڑے ہونے والے قتل کے ملزمان بھی قانون کی گرفت میں نہ آ سکیں تو عام شہری کہاں جائے؟ اہلِ علاقہ اور سول سوسائیی نے بھی پولیس کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، تاکہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ مدعی مظہر حسین نے وزیر اعلیٰ پنجاب، انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سے فوری نوٹس لینے، اہلِ خانہ کو سیکیورٹی فراہم کرنے اور قاتلوں کی بلا تاخیر گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ Maryam Nawaz Sharif Government of Pakistan

Want your business to be the top-listed Media Company in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address

Quetta