Kahuta Express

Kahuta Express

Share

Kahuta Express is all about Kahuta and its community.

31/05/2026

ملتے ہیں چند دن بعد

31/05/2026

# # کہوٹہ کے معمار: علم کی شمع یا استحصال کا اندھیرا؟
کہتے ہیں کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اس کے نظامِ تعلیم کو مفلوج کر دو، اور اگر کسی معاشرے کو عروج پر پہنچانا ہو تو اس کے اساتذہ کو وہ مقام اور عزت دے دو جس کے وہ حقدار ہیں۔ استاد صرف کتابی اسباق نہیں پڑھاتا، وہ نسلوں کی آبیاری کرتا ہے۔ وہ بچوں کے کچے ذہنوں میں انصاف، سچائی، اور دیانت داری کے بیج بوتا ہے۔ لیکن افسوس! اجالے بانٹنے والے یہ معمار خود کس تاریکی میں زندگی گزار رہے ہیں، اس کا اندازہ کہوٹہ کے نجی اسکولوں کی صورتحال دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
آج کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو ہاتھ بچوں کو 'انصاف' لکھنا سکھاتے ہیں، وہ خود مروجہ سماجی اور معاشی انصاف سے یکسر محروم ہیں۔ کہوٹہ کے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان والدین سے تو گراں قدر فیسیں وصول کرتے ہیں، لیکن جب باری ان اساتذہ کو ان کا جائز حق دینے کی آتی ہے، تو مالکان کی جیبیں تنگ ہو جاتی ہیں۔ یہاں پڑھانے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی ماہانہ اجرت ایک عام دہاڑی دار مزدور سے بھی کم ہے۔ کیا یہ ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک تازیانہ نہیں؟ یہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پورے معاشرے کے اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ جب علم کا سوداگر محل کھڑے کر رہا ہو اور علم کا امین دو وقت کی روٹی کو ترسے، تو وہاں تقدسِ علم صرف ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔
حکومتِ پنجاب نے مزدوروں اور نجی ملازمین کے تحفظ کے لیے کم از کم تنخواہ کا ایک قانون وضع کر رکھا ہے۔ یہ قانون کسی خیرات کے طور پر نہیں، بلکہ ایک شہری کے بنیادی معاشی حق کے طور پر بنایا گیا ہے۔ لیکن کہوٹہ کے اکثر نجی اسکولوں میں اس قانون کو پاؤں تلے روندا جا رہا ہے۔ ایم اے اور ایم ایس سی کی ڈگریاں رکھنے والے نوجوان چند ہزار روپوں پر صبح سے دوپہر تک خون پسینہ بہاتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان بااثر اسکول مالکان کو قانون کی دھجیاں اڑانے کی اجازت کس نے دی؟
اب وقت آ گیا ہے کہ کہوٹہ کی مقامی انتظامیہ، بالخصوص اسسٹنٹ کمشنر صاحب اس معاملے پر اپنی مجرمانہ خاموشی کو توڑیں۔ عوام اور متاثرہ اساتذہ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا انتظامیہ ان اسکولوں کا گزشتہ ایک سال کا مالی ریکارڈ طلب کرے گی؟ کیا ان کے بینک اکاؤنٹس اور کیش رجسٹرز کی پڑتال ہوگی؟ یہ دیکھنا اسسٹنٹ کمشنر کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ کیا اساتذہ کو حکومتِ پنجاب کی مقرر کردہ کم از کم تنخواہ دی جا رہی ہے یا ان کا بدترین استحصال کیا جا رہا ہے۔
اگر اب بھی نوٹس نہ لیا گیا، تو "کہوٹہ ایکسپریس" کے ذریعے اٹھائی جانے والی یہ آواز صرف ایک چیخ بن کر رہ جائے گی۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک مجبور، مقہور اور معاشی طور پر پسا ہوا استاد کبھی ایک خوددار اور غیرت مند نسل تیار نہیں کر سکتا۔ اگر ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل عزیز ہے، تو ہمیں ان کے اساتذہ کے حقوق کے لیے کھڑا ہونا ہوگا۔ یہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ پورے کہوٹہ کے مستقبل اور ضمیر کا سوال ہے!

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Rawalpindi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Kahuta
Rawalpindi
46000