Harf e Junoon
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Harf e Junoon, Digital creator, Punjab, Sialkot.
21/05/2026
اسکے نزدیک غم ِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی
اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھ
ابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں
اے شمار آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھنا
جانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں
اب ہتھیلیوں سے تقدیر کی لکیریں بھی ماند پڑنے لگی ہیں۔اسکو کھونے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گردشِ ایام نے سب کچھ چھین لیا ہو، اور اب دامن میں سوائے خلاء کے کچھ باقی نہ رہا ہو۔
میلہ سر پر آ کھڑا ہوا ہے، محض چند روز باقی ہیں، مگر اس بار بھی کوئی پیغام واصل نہ ہوا۔ خط کے اوراق پر صرف خاموشی کا سکوت طاری ہے، وہی خاموشی جو دل کے گوشے گوشے میں بس گئی ہے۔ نہ ملاقات کا وعدہ، نہ وصال کی کوئی رمق—گویا سب کچھ عدم میں گم ہو گیا ہو۔
اگر کل جدائی مقدر ٹھہری ہے تو پہلے سوچ لو، وفا کے عہد محض جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں باندھے جاتے۔
میں خاموش ہوں، یہ خاموشی بےحسی نہیں، بلکہ اس امر کا پیش خیمہ ہے کہیں میرا درد تماشا نہ بن جائے۔ تم شاید گمان کرتے ہو کہ تم سے مجھے کوئی گلہ نہیں جبکہ میرے سینے میں درد کا سمندر تمہاری مسلسل بےرخی کا نتیجہ ہے
اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ نگاہوں میں یہ انتظار اسی طرح قائم رکھنا۔ کون جانے کس لمحے وہ لوٹ آئے۔
21/05/2026
جہاں زاد اب نہ آنا کوئی دوست داری کرنے
میرا حال ِ درد سننے میری غم گساری کرنے
کہ جو ذات پہ گراں تھا وہ سمے گزر گیا ہے
وہ جو دریائے فغاں تھا تہہِ جاں اُتر گیا ہے
تیری غفلتوں کے پیچھے میرے دن بدل گئے ہیں
میں غموں میں ڈھل گیا ہوں غم مجھ میں ڈھل گئے ہیں
سو یہ دوست داری کرنے میری غم گساری کرنے
جہاں زاد اب نہ آنا۔۔۔!!!
جہاں زاد اب نہ آنا، نہ دوستی جتانے، نہ میرا درد سننے اور نہ مجھے تسلی دینے۔ جس وقت مجھے تمہاری پروا کی ضرورت تھی، وہ وقت نکل گیا۔ میرا درد اتنا گہرا ہو گیا ہے کہ اب وہ میرے اندر ہی اتر چکا ہے۔ تمہاری بےرخی نے میری زندگی بدل دی، اب میں خود غم میں ڈھل گیا ہوں اور غم مجھ میں سما گیا ہے۔ اس لیے اب تمہارا آنا اور جھوٹی ہمدردی دکھانا بےکار ہے۔
20/05/2026
کبھی بھلا کے کبھی اس کو یاد کر کے مجھے
جمال قرض چکانے ہیں عمر بھر کے مجھے
ابھی تو منزل جاناں سے کوسوں دور ہوں میں
ابھی تو راستے ہیں یاد اپنے گھر کے مجھے
جو لکھتا پھرتا ہے دیوار و در پہ میرا نام
بکھیر دے نہ کہیں حرف حرف کر کے مجھے
محبتوں کی بلندی پہ ہے یقیں تو کوئی
گلے لگائے میری سطح پر اتر کے مجھے
چراغ بن کے جلا جس کے واسطے اک عمر
چلا گیا وہ ہوا کے سپرد کر کے مجھے
زندگی یاد و فراموشی کی کشمکش میں گزرتی ہے۔ کبھی دل چاہتا ہے سب بھلا دے، اور کبھی وہی یادیں وجود کا سہارا بن جاتی ہیں۔ راستے طویل ہیں، منزل ابھی کوسوں دور، اور دل پھر بھی اپنے گھر کی خوشبو میں کھویا رہتا ہے۔
ڈر یہی ہے کہ جو ہر طرف میرا نام لیتا پھرتا ہے، کہیں یکایک میرے وجود کا ذرّہ ذرّہ بکھیر کر نہ رکھ دے۔
میں نے درِ جاناں کی سمت قدم بڑھا تو دیا ہے، مگر ابھی سفر بہت طویل ہے اور راہیں دشوار۔ سچی محبت انا کے خاتمے کا نام ہے۔ دعوے بلند ہوں تو کیا،محبت کاثبوت تب ملتا ہے جب انسان دوسرے کی سطح پر اتر کر اسے گلے لگائے۔
سب سے گہرا المیہ یہ ہے کہ جس کو میں نے عمر بھر اپنی ہستی سے روشن رکھا، جس کی خاطر میں چراغ کی مثل جلتا رہا اسی نے مجھے ہوا کے سپرد کر دیا۔
20/05/2026
آج ہلکی ہلکی بارش ہے
اور سرد ہوا کا رقص بھی ہے،
آج پھول بھی نکھرے نکھرے ہیں
اور ان میں تیرا عکس بھی ہے
آج بادل کالے گہرے ہیں
آج چاند پہ لاکھوں پہرے ہیں
کچھ ٹکڑے تمہاری یادوں کے
بڑی دیر سے دل میں ٹھہرے ہیں
آج یادیں الجھی الجھی ہیں
اور اب تک یہ نہ سلجھی ہیں،
آج یاد بہت تم آئے ہو۔۔۔
مجھے یاد بہت تم آئے ہو!
اچھا موسم اپنے ساتھ ہمیشہ ایک خاص احساس لایا ہے، اور اس احساس کے بیچ جب محبوب کی یاد آ جائے تو ہر چیز اور بھی گہرا رنگ پکڑ لیتی ہے۔ ہلکی بارش کے قطرے جب پھولوں کی پنکھڑیوں پر گرتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے ہر قطرہ محبوب کے چہرے کا عکس دکھا رہا ہو۔ ہرا بھرا باغ، نم مٹی کی خوشبو اور بادلوں سے چھننی ہوئی روشنی سب کچھ اسی ایک شخص کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ اسی خوبصورتی کے ساتھ دل میں پرانی یادیں بھی پھر سے زندہ ہو جاتی ہیں، اور دماغ ان یادوں میں الجھ کر رہ جاتا ہے۔ جو لمحے گزر چکے ہوتے ہیں وہ اچانک زندہ ہو کر سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، اور انسان بس انہی خیالوں میں کھو کر رہ جاتا ہے۔
17/05/2026
وہ تہی دَست بھی کیا خوب کہانی گر تھا
باتوں باتوں میں مجھے چاند بھی لا دیتا تھا
ہنساتا تھا مجھ کو تو پھر وہ رُلا بھی دیتا تھا
کر کے وہ مجھ سے اکثر وعدے بھلا بھی دیتا تھا
بے وفا تھا بہت مگر دل کو اچھا لگتا تھا
کبھی کبھار باتیں محبت کی سنا بھی دیتا تھا
کبھی بے وقت چلا آتا تھا ملنے کو
کبھی قیمتی وقت محبت کے گنوا بھی دیتا تھا
تھام لیتا تھا میرا ہاتھ کبھی یوں ہی خود
کبھی ہاتھ اپنا میرے ہاتھ سے چھڑا بھی لیتا تھا
عجیب دھوپ چھاؤں سا مزاج تھا اُس کا
معتبر بھی رکھتا تھا نظروں سے گرا بھی دیتا تھا!...
پروین شاکر
وہ شخص بات کرنے میں اتنا ہنرمند تھا کہ ہر بات کو کہانی بنا دیتا تھا۔ اس کے لفظ اتنے میٹھے تھے کہ لگتا تھا جیسے وہ باتوں ہی باتوں میں میرے لیے چاند بھی توڑ لائے گا۔
کبھی وہ مجھے ہنساتا تھا، دل کو ہلکا کر دیتا تھا، اور کبھی بلا وجہ رلا بھی دیتا تھا۔ اکثر بڑے بڑے وعدے کرتا تھا، لیکن پھر انہیں بھول بھی جاتا تھا۔
میں جانتا تھا کہ وہ وفادار نہیں ہے، پھر بھی اس کی باتیں سن کر دل کو سکون ملتا تھا۔ کبھی کبھی وہ محبت کی باتیں بھی کرتا تھا، جس سے لگتا تھا کہ شاید اس کے دل میں کچھ ہے۔
کبھی وہ اچانک بے وقت چلا آتا تھا ملنے کے لیے، اور کبھی محبت کے قیمتی لمحات بھی ضائع کر دیتا تھا
کبھی وہ خود ہی میرا ہاتھ تھام لیتا تھا، جیسے اسے میری ضرورت ہو۔ اور کبھی بلا وجہ میرا ہاتھ چھوڑ دیتا تھا، جیسے اسے کچھ فرق ہی نہ پڑتا ہو۔
اس کا مزاج ہی عجیب تھا — کبھی دھوپ جیسا گرم، کبھی چھاؤں جیسا ٹھنڈا۔ کبھی وہ مجھے عزت دیتا تھا، اور کبھی اپنی ہی نظروں میں مجھے گرا بھی دیتا تھا۔
17/05/2026
نظم: اترن
کبھی کہیں پر
سنا ہے تم نے؟
کہ کوئی اپنے پرانے کپڑے، کہیں غریبوں میں بانٹ دے اور
پھر کبھی ان سے جا کے پوچھے
کہ کس نے پہنا وہ سرخ جوڑا
وہ سبز چادر کسے ملے تھی
کسے ملی میری نیلی جیکٹ؟"
نہیں سنا نا؟
کسی کو حاجت نہیں ہے لڑکے
کہ رفتگاں کا عذاب جھیلے
پرانی بازی کو پھر سے کھیلے
کسی کے ہونے کو اپنے جینے کی شرط کر لے
اسی لیے تو
مجھے نہیں ہے یہ فکر بالکل
کہاں تمہاری یہ عمر بیتی
یا کیسی حالت میں وقت کاٹا
بچھڑ کے مجھ سے کسے ملے تم
مجھے نہیں ہے یہ فکر بالکل
کہ میری اترن کو کس نے پہنا!!
16/05/2026
وہ لوگ جن کو تھا بھلا دینے میں سکون
کوشش کے باوجود دھیان سے نہیں گئے
اے زندگی ہمارا کلیجہ تو دیکھ کہ ہم
اتنی گھٹن میں زندہ ہیں جان سے نہیں گئے
کبھی کبھی انسان چاہتا ہے کہ کچھ یادیں، کچھ لوگوں کو بھول کر سکون پا لے۔ دل یہی کہتا ہے کہ اب بس کافی ہے، اب آگے بڑھ جاؤ۔ لیکن دماغ اور دل مانتا نہیں۔ چاہے کتنی بھی کوش کر لو، وہ چہرے، وہ باتیں، وہ لمحے ذہن سے نکلتے ہی نہیں۔
دوسری طرف زندگی بھی عجیب ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ اندر اتنا دباؤ، اتنی گھٹن ہے کہ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ پر پھر بھی انسان جی رہا ہوتا ہے۔ مر نہیں رہا، بس جی رہا ہے۔ ہر روز اسی گھٹن کے ساتھ اٹھنا، کام کرنا، لوگوں کے سامنے نارمل رہنا۔ زندہ تو ہے، لیکن اس زندگی میں وہ جان نہیں ہوتی جو پہلے تھی۔
16/05/2026
ہم ایک شہر میں جب سانس لے رہے ہوں گے
ہمارے بیچ زمانوں کے فاصلے ہوں گے
وہ چاہتا تو یہ حالات ٹھیک ہو جاتے
بچھڑنے والے سبھی ایسا سوچتے ہوں گے
یہ بے بسی سے تری راہ دیکھنے والے
گئے دنوں میں ترے خواب دیکھتے ہوں گے
کہا بھی تھا کہ زیادہ قریب مت آؤ
بتایا تھا کہ تمہیں مجھ سے مسئلے ہوں گے
وہی صفات و خصائل ہیں اور وہی لہجے
یہ لوگ پہلے کبھی بھیڑیے رہے ہوں گے
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہیں، روزانہ ایک دوسرے کے آس پاس سے گزرتے ہیں، لیکن دلوں کے درمیان اتنا فاصلہ آ جاتا ہے کہ وہ صدیوں جتنا لگتا ہے۔ انسان چاہتا ہے کہ سب ٹھیک ہو جائے، پرانی باتیں بھول کر دوبارہ قریب آ جائے، لیکن کچھ رشتوں میں جو دراڑ آ جاتی ہے وہ آسانی سے بھر نہیں پاتی۔ راتیں انتظار اور یادوں میں گزرتی ہیں، اور دن صرف گزرنے کے لیے گزرتے ہیں۔ قریب آنے سے اکثر مسئلے اور بڑھ جاتے ہیں، اس لیے فاصلہ ہی بہتر لگتا ہے۔
16/05/2026
اسی گمان میں اکثر مکاں بدلتے ہیں
زمیں بدلتی ہے تو آسمان بدلتے ہیں
ہمیں تو ہیں جو تجسس بھری نگاہوں سے
تمام شب کی پریشانیاں بدلتے ہیں
اسی لیے تو ترے در پہ گر گیا تھا میں
میں جانتا تھا مقدر یہاں بدلتے ہیں
تری نگاہ سے قوسِ قزح نکلتی ہے
وگرنہ دشت کے منظر کہاں بدلتے ہیں
وہ جب یہاں تھا تو ہم دیکھتے نہ تھے اس کو
وہ جارہا ہے تو ہم کھڑکیاں بدلتے ہیں
جب کوئی اپنا دور ہو جاتا ہے تو انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کے آس پاس کی ہر چیز بدل گئی ہے۔ جو جگہ پہلے عام لگتی تھی وہی اب خالی اور سنسان لگنے لگتی ہے۔ انسان اکثر اس وقت تک کسی کی قدر نہیں سمجھتا جب تک وہ ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ چلا جاتا ہے تو ہر پل، ہر یاد اور ہر خاموشی اس کی کمی محسوس کراتی ہے۔ اسی وقت سمجھ آتا ہے کہ محبت اور موجودگی ہی زندگی کو رنگ دیتی ہیں۔ کھو دینے کے بعد ہی انسان کو احساس ہوتا ہے کہ اس نے اصل میں کیا کھویا ہے، اور یہی احساس سب سے زیادہ بھاری پڑتا ہے۔
15/05/2026
حال دل ہم بھی سناتے لکین
جب وہ رخصت ہوا تب یاد آیا
بیٹھ کر سیاہ گل میں ناصر
ہم بہت روئے وہ جب یاد آیا
وہ چلا گیا تو پتہ چلا کہ دل کتنا بھرا ہوا تھا۔ جب تک وہ ساتھ تھا، کچھ کہنے کا خیال ہی نہ آیا۔ لگتا تھا وقت ایسے ہی گزرتا رہے گا، اور خاموشی بھی بُری نہ لگے گی۔ مگر اس کے جانے کے بعد گھر کی ہر چیز خالی لگنے لگی۔ دیواریں بھی خاموش ہو گئیں، اور وہ باتیں جو کبھی کہی نہ گئیں، اب دل پر بوجھ بن گئیں۔
اب جب یاد آتا ہے تو آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں۔ دن میں ہزار کاموں کے بیچ بھی وہی چہرہ سامنے آ جاتا ہے۔ رات ہوتی ہے تو تنہائی اور بڑھ جاتی ہے۔ تنہائی میں بیٹھے بیٹھے بس وہی لمحے یاد آتے ہیں—وہ ہنسی، وہ باتیں، وہ چھوٹی چھوٹی عادتیں۔ اور دل بے اختیار رو پڑتا ہے، جیسے برسوں کا درد ایک ساتھ نکل رہا ہو۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Sialkot