Mehran Ali Shah

Mehran Ali Shah

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mehran Ali Shah, Non-Governmental Organization (NGO), Goth Ibrahim Haidari, Sindh.

12/02/2025

دریائے سندھ کے حقوق کا قانون ایک نامکمل خواب، ماحولیاتی تحفظ پر عملدرآمد کی جدوجہد

مہران علی شاہ

2019 میں، پاکستان فشر فوک فورم نے ماحولیاتی تحفظ کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا اور دریائے سندھ کے حقوق کا قانون"Indus River Rights Act"
تیار کیا تھا۔ یہ ایک انقلابی قانون تھا جس کا مقصد دریائے سندھ کو ایک زندہ وجودکے طور پر تسلیم کرنا تھا، جس کے بنیادی حقوق ہوں، جیسے آزادانہ بہاؤ، آلودگی سے پاک ماحول، اور بحالی کا حق۔ لیکن تقریباً پانچ سال گزرنے کے باوجود، اس قانون پر عمل نہیں کیا گیا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت واقعی ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے؟ اور کیا پاکستان کے آبی وسائل کا مستقبل محفوظ ہے؟ یہ قانون اس لیے بنایا گیا تھا کیونکہ دریائے سندھ شدید ماحولیاتی مسائل کا شکار ہے۔ جنگلات کی کٹائی، صنعتی آلودگی، زہریلا زرعی پانی اور حد سے زیادہ پانی کے استعمال کی وجہ سے دریا کی صحت خراب ہو رہی ہے۔ یہ قانون دریائے سندھ کے حقوق کو قانونی حیثیت دے کر حکومت اور نجی اداروں کو اس کی حفاظت کا پابند بناتا۔ قانون کے مطابق دریا کے لیے ایک "قانونی سرپرست" مقرر کیا جانا تھا جو عدالتوں اور حکومتی اداروں میں دریا کے حقوق کی نمائندگی کرتا۔ اس کی مثال دنیا کے دیگر ممالک سے لی گئی، جیسے نیوزی لینڈ میں وانگانوی دریا کو قانونی شخصیت دی گئی اور ایکواڈور میں قدرتی وسائل کے حقوق کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔اس قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں پاکستان کو معاشی بحران، توانائی کے مسائل اور سیاسی عدم استحکام جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس صورتحال میں ماحولیاتی مسائل اکثر پس پشت چلے جاتے ہیں۔ حکومت کے لیے یہ قانون شاید کم ترجیح رکھتا ہو۔ یہ قانون صنعتوں، زراعت اور پن بجلی منصوبوں پر سخت پابندیاں لگاتا ہے تاکہ وہ دریا کو آلودہ نہ کریں اور اس کا پانی کم استعمال کریں۔ لیکن چونکہ یہ شعبے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، وہ اس قانون کی مخالفت کر سکتے ہیں کیونکہ اس سے ان کا منافع کم ہو سکتا ہے۔ اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے نئی سرکاری تنظیمیں بنانی ہوں گی، جیسے دریائے سندھ کا قانونی سرپرست ادارہ۔ اس کے علاوہ، دریا کی صحت کی نگرانی کے لیے واضح اصول بھی بنانے ہوں گے۔ یہ سب کچھ وقت، رقم اور سیاسی ہم آہنگی کا تقاضا کرتا ہے، جو اس وقت مشکل نظر آتا ہے۔ اگرچہ ماحولیاتی کارکن اور کچھ مقامی کمیونٹیز اس قانون کے حق میں ہیں، لیکن عوام کی بڑی تعداد کو اس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں۔ جب تک عام لوگ اس کی حمایت نہیں کریں گے، حکومت پر دباؤ نہیں پڑے گا۔ پاکستان کی توانائی کا بڑا حصہ ہائیڈرو پاور یعنی پانی سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں پر منحصر ہے۔ یہ قانون نئے ڈیم بنانے پر پابندی لگاتا ہے اور بعض غیر ضروری ڈیموں کو ختم کرنے کا کہتا ہے، جو حکومت کی توانائی پالیسی سے متصادم ہو سکتا ہے۔ اگر یہ قانون نافذ نہیں ہوتا، تو اس کے منفی نتائج پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔ دریائے سندھ پاکستان کے لیے ایک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ زراعت کے لیے سب سے اہم ذریعہ ہے لاکھوں لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کرتا ہے جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام کے لیے اہم ہے ۔سندھ کے ساحلی علاقوں میں سمندر کا بڑھتا ہوا دائرہ کار، دریائے سندھ کے پانی کی کمی، اور انسانی لاپرواہی نے انڈس ڈیلٹا کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، گزشتہ صدی میں نہری نظام اور ڈیموں کی تعمیر نے دریائے سندھ کی رگوں کو سوکھنے پر مجبور کر دیا، جس کے نتیجے میں سمندر نے 35 لاکھ ایکڑ زرعی زمین نگل لی اور ہزاروں گاؤں ویران ہو گئے۔ 1890 میں پنجاب میں نہری نظام کی تعمیر کے بعد سے ہی انڈس ڈیلٹا میں میٹھے پانی کی کمی شروع ہوئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دریائے سندھ پر بیراجوں اور ڈیموں کی تعمیر نے پانی کے بہاؤ میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ 1991 میں ڈاؤن سٹریم کوٹری میں 30 ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑنے کا فیصلہ ہوا، مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ نتیجتاً، ڈیلٹا کی زمینیں بنجر ہو گئیں اور سمندر نے آگے بڑھ کر کھارو چھان جیسے قصبے کو نگل لیا۔ 1979 اور 2015 کی سیٹلائیٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ سمندر نے بڑے پیمانے پر زمین کو اپنے اندر سمو لیا ہے۔ دریائے سندھ کا پانی اور ریت نہ آنے کی وجہ سے سمندر کا کٹاؤ بڑھ گیا، جس سے کھاڑیاں 2 کلومیٹر سے 4 کلومیٹر تک پھیل گئی ہیں۔ ٹھٹہ اور بدین کے علاقوں میں ہزاروں ماہی گیر اپنا روزگار کھو چکے ہیں، جبکہ کاشت کاری کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ سجن واری گوٹھ میں پہلے یہاں میٹھے پانی کی ندی تھی، اب کھارا پانی ہر طرف پھیل گیا ہے۔ لوگوں کو پینے کے لیے ٹینکر منگوانا پڑتا ہے، جانور پالنے کے لیے پانی نہیں۔ مہمانوں کو خشک دودھ کی چائے پلانا پڑتی ہے۔" ماہی گیر کہتے ہیں، "گہرے سمندر میں بڑے ٹرالر مچھلیاں لے جاتے ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں بچتا۔" پاکستان فشر فوک فورم کے سربراہ محروم محمد علی شاہ کا کہنا تھا، "1986 تک یہاں پھل اور گندم کے کھیت تھے، مگر اب سب کچھ ختم ہو چکا۔ سمندر کی پیش قدمی نے نہ صرف معیشت بلکہ اگر پانی کا بہاؤ برقرار نہ رکھا گیا تو 2050 تک ثقافت اور جنگلی حیات کو بھی تباہ کردیا۔ ارضیاتی ماہرین "geologist "کے مطابق کراچی بھی سمندر کی نذر ہو سکتا ہے اور دریا کی تباہی یونہی جاری رہی، تو یہ مستقبل میں پانی کے بحران، ماحولیاتی تباہی، اور صحت کے
کی ذمعداریاں بھی مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ، پاکستان اپنی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اپنی اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف SDGs پوری نہیں کر پائے گا۔ یہ قانون پاکستان کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے ایک ضروری قدم ہے۔ اس پر عملدرآمد ہونے سے نہ صرف دریائے سندھ کی بقا ممکن ہوگی، بلکہ یہ ایک عالمی مثال بھی قائم کرے گا کہ قدرتی وسائل کو قانونی حقوق کیسے دیے جا سکتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس قانون کو فوری طور پر نافذ کرے اور اس کے لیے مناسب بجٹ اور ادارے قائم کرے۔ ماحولیاتی تنظیموں، سول سوسائٹی اور عوام کو اس قانون کے بارے میں آگاہی بڑھانی چاہیے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ میڈیا کو اس مسئلے کو اجاگر کرنا چاہیے تاکہ عام لوگ بھی اس کے تحفظ کی مہم میں شامل ہوں۔ دریائے سندھ صرف ایک دریا نہیں، بلکہ پاکستان کی ثقافت، معیشت، اور قدرتی ورثے کی علامت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں بھی اس دریا سے فائدہ اٹھائیں، تو ہمیں اس کے حقوق کی حفاظت کرنی ہوگی۔ دریائے سندھ کے حقوق کا قانون اس کے تحفظ کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔ اب سوال یہ ہے: کیا ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے؟

Photos from Mehran Ali Shah's post 02/11/2024

ماهيگيرن جا بنيادي مسئلا حل نه ٿيڻ سنڌ سميت بدين ۾ ڊنڊن ڊورن تي بااثرن پاران قبضا ڪرڻ خلاف ۽ وفاقي حڪومت پاران ڇھ نوان ڪينال ڪڍڻ ڻ خلاف سيد مھراڻ شاه ۽ سيده ياسمين شاه جي اڳواڻي ۾ ھزارين ماهيگيرن مردن عورتن پاران شھيد بينظير چوڪ کان بدين پريس ڪلب تائين ريلي ڪڍي سخت احتجاج ڪيو ويو.

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Sindh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address

Goth Ibrahim Haidari
Sindh