SAYA

SAYA

Share

Marketing, Investment, Town planer, Builder

20/02/2026

آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تُو
آہ، کس کی جُستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تُو، رہرو بھی تُو، رہبر بھی تُو، منزل بھی تُو
کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا
ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تُو
دیکھ آ کر کوچۂ چاکِ گریباں میں کبھی
قیس تو، لیلیٰ بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تُو
وائے نادانی کہ تُو محتاجِ ساقی ہو گیا
مے بھی تو، مِینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تُو
شُعلہ بن کر پھُونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو
خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تُو
بے خبر! تُو جوہرِ آئینۂ ایّام ہے
تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

نظم :شمع اور شاعر
(فروری ۱۹۱۲ء)

TikTok · Bin suliman Travels 14/01/2026

TikTok · Bin suliman Travels Check out Bin suliman Travels’s video.

Photos from SAYA's post 10/01/2026

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں امرتسر کے نواحی علاقے ”ترن تارن“ میں پیدا ہوئے۔ بنیادی اعتبار سے نظام کا تعلق ایک غریب لوہار خاندان سے تھا۔بوڑھی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بیٹے نظام کو تعلیم دلوا رہی تھی۔گھر میں نظام کی ایک جوان بہن بھی تھی،انگریز حکومت کے اہلکاروں کا مفلس کسانوں پر ظلم دیکھ کر نظام اکثر اسی سوچ میں گم رہتا کہ عام لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ چنانچہ وہ انگریز کا ایک خاموش مخالف بن گیا اور ابتدائی طور پر اپنی ہی بھٹی میں ہتھیار بنانا شروع کر دیے ۔تلواریں ، برچھیاںا ور چھرے بناتا اور جمع کرتا رہا ۔ ایک رات جب وہ کہیں سے واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی ماں مرچکی ہے اور جوان بہن کے کپڑے تارتار ہیں۔ استفسار پربہن نے بتایا کہ تمہارے بعد انگریز پولیس افسر سپاہیوں کے ساتھ آیا تھا،اس نے گھر کی تلاشی لی اور تمہارے ہتھیار ڈھونڈ لیے ،ماں کو اس قدر مارا کہ وہ مرگئی۔ میں نے مزاحمت کی کوشش کی، تو مجھے بھی بری طرح زودکوب کیا۔نظام کے لئے یہ واقعہ اس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔اسی رات اس نے اپنی بہن کو ساتھ لے جا کے اپنے دوست محمد شفیع سے شادی کردی اور خود گھر بار چھوڑ کر ایک ویران حویلی میں پناہ لے لی جو آج بھی ککراں والی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔دوسری رات نظام تھانے پہنچا اور انگریز پولیس افسر کو ق۔ت۔ل کردیا جس نے اس کی ماں کا خون کیا تھا اور اسکی بہن کی بے عزتی کی تھی ، پھر یہ فرار ہوگیا۔اگلی صبح جب انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل کی خبر علاقے میں پھیلی تو لوگ خوشی سے دیوانے ہو گئے،کیونکہ یہ انگریز پولیس افسر عورتوں کی بے حرمتی کرتا اور غریب کسانوں سے بیگار لیتا تھا۔انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل پر ابھی لوگ خوش ہورہے تھے کہ سینئر سپرٹنڈنٹ پولیس رونالڈ کے ق۔ت۔ل کی اطلاع آگئی ۔اس کے بعد انگریز حکومت کے لئے نظام لوہارایک چیلنج بن گیا۔پولیس اسکے پیچھے تھی ۔انہی دنوں ایک روز نظام لوہار کی ملاقات اپنے علاقے کے مشہور باغی سوجا سنگھ کی ماں سے ہوئی جو بین کرتی جا رہی تھی۔ نظام نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سوجھا سنگھ کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے۔نظام نے تسلی دی اور خود سوجھا سنگھ کو چھڑانے کے لئے ”ٹبہ کمال چشتی“کی طرف چل پڑا۔ پولیس سے مقابلے کے بعد نظام لوہار نے سوجھا سنگھ کو چھڑا لیا۔اس پر سوجھا سنگھ کی ماں نے نظام لوہار کو اپنا بیٹا بنا لیا ا ور وہ اسی کے پاس رہنے لگا۔اس کے بعد نظام لوہار اور سوجھا سنگھ نے مل کر اوپر تلے انگریزوں کے چار اعلیٰ افسروں کو ق۔ت۔ل کر ڈالا۔ دونوں نے انگریز حکومت کے خلاف منصوبہ بنایا اور علاقے کو بانٹ کر کسانوں کو ساتھ ملانے کے لئے راتوں کو گاؤں گاؤں پھرنے لگے۔آخر کار فیصلہ ہوا کہ میلوں اور عرسوں میں جاکر انگریز پولیس افسروں کو یہ کہہ کر ق۔ت۔ل کیا جائے گا کہ پنجاب سے نکل جاؤ۔اب نظام لوہار انگریز پولیس کے لئے ایک خوف کی علامت بن چکا تھا،مگر سوجاسنگھ کی ماں کی بیماری کا سن کر واپس حویلی آگیا۔وہاں پہنچ کر نظام کو معلوم ہوا کہ سوجھا سنگھ ساتھ والے گاؤں ”جٹاں دا کھوہ“ کی ایک لڑکی چھیما ماچھن سے پیار کرنے لگا ہے۔نظام کو یہ بات پسند نہ آئی اس نے چھیماماچھن کو بلا کر سمجھایا کہ توسوجھاسنگھ سے پیارکرنا چھوڑ دے، کہ پیار محبت انسان کو بزدل بنا دیتے ہیں اس پر چھیما نے سوجھا سنگھ کو نظام لوہار کے خلاف بھڑکایا تو وہ نظام کے خلاف ہوگیا۔اس نے دس ہزار روپے اور چار مربع زمین کے لالچ میں تھانہ بھیڑیالہ میں اطلاع کردی کہ نظام لوہار آج ہمارے گھر میں ہوگا اور کل واپس کالا کھوہ چلا جائے گا۔نظام لوہار جس کمرے میں سویا ہوا تھا پولیس نے چاروں طرف سے اسے گھیر لیا اور چند سپاہی چھت پر چڑھ کمرے کی چھت کو توڑنے لگے۔ نظام کو پتہ چل گیا،اس نے خوب مقابلہ کیا مگر اسکے پاس گو۔لیاں بہت کم تھیں چنانچہ جلد وہ انگریز پولیس کی گو۔لیوں کا نشانہ بن گیا ۔یہ 1877 کا سال تھا پنجاب کے بہادر اور دلیرہیرو کے آخری دیدار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔حکومت نے اعلان کر دیا،جو مسلمان نظام کے جنازے میں شریک ہو گااسے دو روپے ادا کرنے ہوں گے۔اس طرح 35ہزار روپے اکٹھے ہوگئے۔نظام کی قبر پر لوگوں نے اتنے پھول ڈالے کہ قبر پھولوں کاپہاڑ بن گئی۔نظام قصور شہر کے بڑے قبرستان میں دفن ہے۔جب سوجھا سنگھ کی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے بیٹے نے مخبری کرکے نظام لوہار کو مروایا ہے تو اس ماں نے سوجھا سنگھ کو خود اپنے ہاتھ سے برچھی مار کر ق۔ت۔ل کر ڈالا اور کہا میں تمہیں کبھی اپنا دودھ نہیں بخشوں گی،تم نے نظام کی مخبری کرکے پنجاب کے ساتھ غداری کی ہے۔

29/12/2025

ہمیں یہ بھی غلط پڑھایا گیا کہ "انصاف ہونا چاہیے"۔
حالانکہ قرآن میں انصاف کا کوئی تصور نہیں ہے۔
یہ ایک غیر قرآنی اور غیر اسلامی اصطلاح ہے۔
اسلام ہمیں انصاف کا نہیں، عدل کا حکم دیتا ہے۔

"انصاف" دراصل ایک مہذب شکل میں ظلم ہے —
یا یوں کہیے کہ یہ ظلم کی مہذب شکل ہے،
جو صدیوں سے ہمیں نظامِ عدل کے نام پر پڑھائی، سکھائی اور نافذ کی گئی ہے۔

1️⃣ تین لوگ ہیں: ایک طاقتور، ایک درمیانہ، اور ایک کمزور۔
آپ تینوں کو 10، 10 اینٹیں اٹھانے کو کہیں — یہ "انصاف" ہوگا، کیونکہ برابر دیا گیا۔
لیکن طاقتور کو 15، درمیانے کو 10، اور کمزور کو 5 اینٹیں دی جائیں —
تو یہ عدل ہے۔ ہر ایک کو اس کی طاقت کے مطابق ذمہ داری ملی۔

2️⃣ تین طلبہ ہیں: ایک اندھا، ایک ذہین، اور ایک جسمانی معذور۔
اگر آپ تینوں کو ایک جیسے سوالات والا پرچہ دیں — تو یہ "انصاف" ہے۔
لیکن دراصل یہ ظلم ہے، کیونکہ سب کی صلاحیتیں برابر نہیں۔
عدل یہ ہے کہ ہر طالب علم کا پرچہ اس کی استعداد کے مطابق ہو۔

3️⃣ تین افراد آپ کے پاس آتے ہیں: ایک بچہ، ایک بیمار، اور ایک صحت مند بالغ۔
آپ کے پاس تین روٹیاں، تین دودھ کے پیک، اور تین جوس ہیں۔
اگر آپ تینوں کو ایک ایک چیز دیں تو "انصاف" تو ہو جائے گا — مگر نتیجہ ظلم ہوگا۔
عدل یہ ہے کہ بچہ دودھ لے، مریض جوس لے، اور صحت مند روٹی لے —
جسے جو ضرورت ہو، وہی دیا جائے۔

4️⃣ پاکستان میں ایک رکشے والے کو 2000 روپے کا جرمانہ کیا جائے
اور مرسیڈیز والے کو بھی اتنا ہی —
تو یہ "انصاف" تو ہے، لیکن درحقیقت یہ بھی ظلم ہے۔
رکشے والا راشن کاٹ کر جرمانہ بھرے گا
اور مرسیڈیز والا جیب سے نوٹ نکال کر —
یہ کہاں کا انصاف ہے؟ یہاں عدل ہوتا تو جرمانہ آمدنی کے مطابق ہوتا۔

5️⃣ فن لینڈ میں واقعی ایسا ہوتا ہے —
جرمانے آمدنی کے حساب سے دیے جاتے ہیں۔
ایک امیر آدمی اگر تیز رفتاری کرے، تو لاکھوں روپے جرمانہ ہوتا ہے
اور ایک مزدور وہی قانون توڑے تو چند یورو کا چالان۔
یہی عدل ہے — سب پر قانون ایک ہو، مگر جزا و سزا ان کی حیثیت کے مطابق ہو۔

ہم سب کو ایک جیسا پرچہ دیتے ہیں، ایک جیسا قانون، ایک جیسا جرمانہ —
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ یہ معاشرہ ظالم کیوں بن گیا۔
یاد رکھیے: برابری ضروری نہیں، ضرورت کے مطابق دینا ضروری ہے۔
اور یہی عدل ہے۔

📖
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

> "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ"

"بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
(سورہ النحل، آیت 90)

Want your business to be the top-listed Autos & Automotive Service in Swabi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address

Hidayat Market Jehangira Road
Swabi

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 07:00 - 17:30
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 19:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00