Areej Fatima
cricketer
ایک واقعہ سناؤں آپ سب کو؟
کسی اسکول میں میتھس کی کلاس ہو رہی ہوتی ہے، ایک اسٹوڈنٹ سب سے پیچھے کی لائن میں بیٹھا ہوتا ہے، اور بوریت کی وجہ سے اسے نیند آجاتی ہے، کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھلتی ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ میتھس کی کلاس ختم ہو چکی ہے، سر اور کچھ اسٹوڈنٹس بھی جا چکے ہیں جبکہ کچھ اسٹوڈنٹس جانے کی تیاری کر رہے ہیں، پھر وہ بورڈ کی جانب دیکھتا ہے تو اسے ایک سوال لکھا نظر آتا ہے، اسے لگتا ہے کہ یہ ہوم ورک ملا ہے تو وہ جلدی سے اسے اپنی کاپی پر اتارتا ہے اور کلاس سے چلا جاتا ہے، اگلے دن کلاس ہو رہی ہوتی ہے تو وہی اسٹوڈنٹ سر کو کاپی دے کر کہتا ہے کہ اس نے ہوم ورک کے طور پر دیا گیا سوال حل کرلیا ہے، سر جب اس کی کاپی لے کر جواب چیک کرتے ہیں تو حیران رہ جاتے ہیں، پوری کلاس بھی حیرت زدہ سی اسے دیکھ رہی ہوتی ہے، پھر سر کہتے ہیں کہ یہ سوال میں نے ہوم ورک کے طور پر نہیں دیا تھا، بلکہ میں تو بتا رہا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے یہ سوال کوئی بھی حل نہیں کر پایا ہے، پر تم نے یہ کرلیا، اور میں حیران ہوں کہ کیسے کیا؟ آپ لوگ بتا سکتے ہیں کہ اس نے یہ کیسے کیا؟"
آپ یہ ہی سوچیں گے کہ وہ بہت جینیئس ہوگا، لیکن وجہ یہ نہیں ہے!
وجہ یہ ہے کہ وہ بے خبر تھا، وہ بے خبر تھا اس بات سے کہ جو وہ کرنے جا رہا ہے اسے کئی لوگوں نے ناممکن قرار دے دیا ہے، اگر باقی اسٹوڈنٹس کی طرح اس کے ذہن میں بھی یہ بات بیٹھ جاتی کہ یہ کام اکثریت ناممکن قرار دے چکی ہے تو وہ بھی یہ ہی سوچ کر اس سوال کو حل کرنے کی کوشش نہیں کرتا کہ جب اتنے قابل لوگ نہیں کر سکے تو میں کیسے کر سکتا ہوں؟ اسے لگا یہ تو معمول کا کام ہے اس میں بھلا کیا مشکل! میں یہ کرسکتا ہوں۔
ان سب باتوں سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں کسی بھی کام یا مسلے کو کبھی خود سے بڑا نہیں سمجھنا چاہئے، کیونکہ کسی بھی کام کو مشکل یا آسان ہمارا حوصلہ بناتا ہے۔ اپنی سوچ کو I Can't Do It کہ بجائے I Can Do It سے بدلیں، تب ہی آپ کی حالت بدلے گی، تب ہی آپ کے حالات بدلیں گے۔ 🌼
از فریال خان۔۔۔۔۔!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
987654