Four Friends
حج و عمرہ سروسز کا ایک با اعتماد ادارہ
28/08/2025
مغربی کھڑکی کے سامنے — وہ لمحہ جہاں دل بے اختیار جھک جاتا ہے
مدینہ منورہ کی فضا میں وہ ایک گوشہ ایسا ہے جہاں وقت تھم سا جاتا ہے۔ یہ ہے روضۂ رسول ﷺ کی مغربی کھڑکی۔ یہاں کھڑا ہونا دل کی سب سے قیمتی آرزو ہے، آنکھوں کے لیے سب سے حسین منظر ہے، اور روح کے لیے سب سے بڑی راحت۔ یہی ہے اصل قرب، وہ قرب جس میں محبوبِ خدا ﷺ کا حجرۂ مبارک اور آپ کا مسکنِ اقدس واقع تھا۔
یہ وہ زمین ہے جس پر اللہ کے محبوب ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی، وہیں آپ ﷺ کے مبارک قدموں کی چاپ گونجی، وہیں سے ہدایت کے چراغ روشن ہوئے۔ یہاں کے ذرے ذرے میں نور ہے، فضا میں برکت ہے، اور ہر لمحہ دل کو یقین دلاتا ہے کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے سچائی نے دنیا کو منور کیا۔
یہاں کھڑا ہو کر خیالات مہک جاتے ہیں، دل کی دھڑکنیں تیز ہو جاتی ہیں، اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔ قلم لرزنے لگتا ہے، شاعری رک جاتی ہے، اور الفاظ اپنی طاقت کھو بیٹھتے ہیں—کیونکہ یہاں جذبات اپنی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جسے اصل پڑوس کہا جا سکتا ہے: وہ پڑوس جس میں اللہ کا محبوب ﷺ بستا تھا۔
یہی تو وہ بستی ہے جہاں سے صداقت کی باتیں نکلیں، جہاں سے رحمت بھری روایتیں چلیں، اور جہاں سے انسانیت کو روشنی ملی۔ خوش نصیبی یہ ہے کہ کوئی انسان سیرت پڑھتے پڑھتے اچانک اس جگہ کھڑا ہو جائے، وقت کو محسوس کرے اور تاریخ کو اپنے دل سے لگا لے۔ اور سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ کوئی یہاں آ کر یہ دعا مانگے کہ یا اللہ! ہمیں اپنے نبی ﷺ کا پڑوس نصیب فرما، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اپنے نبی ﷺ کی قربت اور ہمسائیگی نصیب فرما، اور جنت میں بھی ہمیں اُن کے جوار میں جگہ عطا فرما۔ جس طرح تُو نے ہمیں ان کے در کی حاضری کا شرف بخشا ہے، اسی طرح قیامت کے دن بھی ہمیں اُن سے جدا نہ کرنا۔ ہمیں ہمیشہ اُن کے پڑوس اور اُن کی دیدار کی نعمت سے بہرہ مند فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
#مسجدِنبوی
#مدینہ
#سیرت
23/08/2025
انصار کی فیاضی: میزبانِ رسولﷺ کلثوم بن ھدمؓ اور شہیدِ بدر سعد بن خثیمہؓ
ایک پل کی قربانی عمر بھر کا خیر ثابت ہوتی ہے اور نیکی میں آگے بڑھنے والے امر ہو جاتے ہیں۔ اسلام کی تاریخ ایسے ہی بے شمار روشن ستاروں سے بھری پڑی ہے۔ ایسے ہی دو عظیم صحابہ کرام، کلثوم بن ھدمؓ اور سعد بن خثیمہؓ، انصار مدینہ میں سے تھے۔
یہ دونوں وہ خوش نصیب تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ انہوں نے اپنے گھروں کو اسلام کے مرکز اور مسلمانوں کے لیے پناہ گاہ بنا دیا۔
کلثوم بن ھدمؓ: میزبانِ رسولؐ
کلثوم بن ھدمؓ انصاری صحابی تھے اور مدینہ کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف سے تعلق رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ کے مضافات میں قبا پہنچے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے گھر میں قیام فرمایا۔ اس طرح، حضرت کلثوم بن ھدمؓ کو "میزبانِ رسولؐ" ہونے کا ابدی شرف حاصل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ بہت سے دیگر مہاجرین صحابہ کرام نے بھی ان کے گھر میں پناہ لی، جن میں حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کے اہل خانہ بھی شامل تھے۔ یہ ان کی فیاضی اور سخاوت کا ثبوت تھا۔ اپ کی وفات ہجرت کے پہلے سال ہی ہوئی اور آپؓ مدینہ میں وفات پانے والے سب سے پہلے صحابہؓ میں سے تھے۔
سعد بن خثیمہؓ: شہیدِ بدر
سعد بن خثیمہؓ کا تعلق بھی قبیلہ اوس سے تھا۔ ان کا گھر "منزل الاحزاب" کے نام سے جانا جاتا تھا، جہاں مہاجرین اور انصار کی ملاقاتیں ہوتی تھیں۔ یہ وہ مبارک گھر تھا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر تشریف لاتے اور صحابہ کرام سے ملاقات کرتے تھے۔ آپؓ ان 12 نقیبوں میں سے تھے جو بیعتِ عقبہ ثانیہ میں منتخب ہوئے تھے۔
آپؓ کی سب سے بڑی قربانی جنگِ بدر کے موقع پر سامنے آئی۔ جب آپ کے والد نے آپ کو جنگ پر جانے سے روکنا چاہا تو آپ نے کہا: "اگر یہ جنت کے سوا کوئی اور چیز ہوتی تو میں آپ کو ترجیح دیتا۔" یہ کہہ کر انہوں نے جنگ میں حصہ لیا اور بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ یوں، وہ اسلام کی خاطر اپنی جان قربان کر کے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔
یاد رہے ان دونوں انصاری صحابہ نے سفیرِ رسول حضرت مصعب بن عمیرؓ کی تبلیغ کے نتیجے میں مدینہ میں اسلام قبول کیا اور پھر بیعتِ عقبہ ثانیہ میں شریک ہو کر دین کی نصرت کا جو عہد کیا تھا وہ پورا کیا
اللہ ہمیں ان روشن ستاروں کی نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے
ڈاکٹر طارق رمضان
22/08/2025
مدینہ منورہ کی ہمسائیگی — سب سے حسین احساس
دنیا کے تمام احساسات، تمام خوشیوں اور تمام راحتوں کو اگر ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے، اور دوسری طرف مدینہ منورہ کی ہمسائیگی کو رکھ دیا جائے… تو دل کہتا ہے کہ مدینہ ہی سب پر بھاری ہے۔ وہ لمحہ جب آپ مدینہ کی فضاؤں میں سانس لیتے ہیں، اور دل یہ جان لیتا ہے کہ آپ حضور ﷺ کے ہمسائے ہیں—یہی دنیا کا سب سے حسین احساس ہے۔
کتنے خوش نصیب تھے وہ لوگ جو روزانہ حضور ﷺ کی زیارت کرتے، آپ کے پاس رہتے، آپ کی محفل میں بیٹھتے اور براہِ راست آپ کے فیضان سے بہرہ مند ہوتے۔ وہ لمحات یقیناً جنت کی جھلک تھے۔ مگر آج بھی روضۂ رسول ﷺ کے پاس بیٹھ جانا، سر جھکا دینا، اور دل ہی دل میں اُس محفلِ نبوی کو محسوس کرنا، سیرتِ مصطفیٰ ﷺ پر غور کرنا—یہ بھی ایسا سکون دیتا ہے کہ گویا زمانہ پلٹ گیا ہو اور آپ خود اُس عظیم بزم کا حصہ ہیں۔
یا اللہ! ہمیں یہ ہمسائیگی نصیب فرما، دائمی نصیب فرما، ہر سال نصیب فرما۔ ہمیں وہ نصیب عطا فرما جس میں ادب بھی ہو، محبت بھی ہو، اور حضور ﷺ کے در کی حاضری کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق بھی۔ آمین یا رب العالمین۔
#مسجدِنبوی
#مدینہ
#سیرت
19/08/2025
عشقِ رسول ﷺ کے پیکر: حضرت ابوبکر صدیقؓ بزبانِ اقبال
کلامِ اقبال پر عبور رکھنے والے ناقدین اور دانشور اس بات پر متفق ہیں کہ اقبال کے کلام کا اعلیٰ حصہ فارسی میں ہے۔ اردو میں ان کا کلام بلا شبہ عظیم ہے، مگر فارسی کلام اس کے بعد آتا ہے۔ فارسی زبان سے ناواقفیت کی وجہ سے ہم اکثر اس قیمتی خزانے سے محروم رہ جاتے ہیں۔
تاہم، جہاں کہیں بھی کسی تحریر، تقریر یا مضمون میں اقبال کے فارسی اشعار نقل کیے جاتے ہیں، انہیں پڑھنے اور ان کا مفہوم سمجھنے کے بعد یہ بات سچ ثابت ہوتی ہے کہ ان اشعار کی شان ہی الگ ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان و عظمت بیان کرنے کے لیے اقبال نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں اشعار کہے ہیں۔ اردو میں ان کا یہ مشہور شعر:
پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس
یہ شعر اپنی مثال آپ ہے، جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عشقِ رسول ﷺ میں فنا ہونے والی حالت کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ لیکن جب بات ان کی شان میں کہے گئے فارسی اشعار کی آتی ہے تو ان کی ایک الگ
ہی عظمت اور گہرائی نظر آتی ہے:
من شبے صدیق را دیدم بخواب
گل زِ خاکِ راہِ اُو چیدم بخواب
آں اَمَنُّ النَّاس بر مولائے ما
آں کلیمے اوّلِ سینائے ما
ہمتِ اُو کشتِ ملّت را چو ابر
ثانیِ اسلام و غار و بدر و قبر
ان اشعار میں علامہ اقبالؒ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی عظمت کو بے مثال خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک رات خواب میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زیارت کی اور ان کی قدموں کی خاک سے پھول چنے۔ وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے ہیں اور ان کا مقام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرح ہے جو اللہ سے ہمکلام ہوئے۔ ان کی ہمت امت کی کھیتی کے لیے ابرِ رحمت کی مانند ہے۔ وہ اسلام قبول کرنے میں، غارِ ثور میں، غزوۂ بدر میں، اور روضۂ رسول ﷺ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھی اور ثانی تھے۔ یہ اشعار حضرت ابوبکر صدیقؓ کی زندگی کے اہم ترین پہلوؤں کو نہایت بلیغ انداز میں سمیٹتے ہیں۔
ڈاکٹر طارق رمضان
#مسجدِنبوی