Crew Films Production
The song has been produced by the Green Eyes Films team. Green Eyes Films has been contributing to the film and drama industry fo
21/05/2026
https://youtu.be/ScBmGP8B1mM?si=-LkyfSu9sG7HO1wQ
Inqilab I 2026 I Pakistan I Prison روزانہ کروڑوں نہیں بلکہ کھربوں روپے عوام سے مختلف ٹیکسوں، مہنگائی اور ناجائز بوجھ کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں، مگر افسوس کہ ان وسائل کا بڑا حصہ عوامی فلاح،...
# # # اردو
پشتو کا یہ خوبصورت اور لازوال گانا **"بیا مازیگر شو"** اپنے دور کے پی ٹی وی کے کلاسک گانوں میں شمار ہوتا ہے، جسے پشتو کی معروف گلوکارہ **میڈم شکیلہ ناز** نے اپنی دلکش آواز میں گایا تھا۔
اس گانے کے پروڈیوسر **جناب فرمان اللہ جان صاحب** جبکہ شاعر **رحمت شاہ سائل صاحب** ہیں۔
اب اس یادگار گانے کو **گرین اییز فلمز** نے جدید انداز میں دوبارہ ریمیک کیا ہے۔
اُمید ہے کہ پشتو موسیقی سے محبت کرنے والے ناظرین اس پیشکش کو پسند کریں گے۔
اس گانے کی تیاری میں جدید **ڈیجیٹل اے آئی ٹیکنالوجی** سے بھی مدد لی گئی ہے، جسے گرین اییز فلمز ٹیم نے خصوصی طور پر آپ کے لیے تخلیق کیا ہے۔
اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
آپ کی محبت اور پسندیدگی ہمارے لیے بے حد قیمتی ہے۔
**شکریہ**
**گرین اییز فلمز**
---
# # # پښتو
د پښتو دا ښکلی او تلپاتې سندره **"بيا مازيګر شو"** د خپل وخت د پي ټي وي له کلاسيکو سندرو څخه شمېرل کېږي، چې د پښتو نامتو سندرغاړې **مېډم شکيله ناز** په خپل خوږ آواز ویلې ده۔
د دې سندرې پروډیوسر **جناب فرمان الله جان صاحب** او شاعر **رحمت شاه سائل صاحب** دي۔
اوس دا يادګاري سندره **ګرين ايز فلمز** په نوي انداز بيا ريميک کړې ده۔
هيله ده چې د پښتو موسيقۍ مينه وال به دا نوې وړاندېز خوښ کړي۔
د دې سندرې په جوړولو کې د جديدې **ډيجيټل AI ټېکنالوجۍ** مرسته هم اخيستل شوې، چې د ګرین ایز فلمز ټيم ستاسو لپاره ځانګړې تياره کړې ده۔
مهرباني وکړئ خپله قیمتي رايه راسره شريکه کړئ۔
ستاسو مينه او ملاتړ زموږ لپاره ډېر ارزښت لري۔
**مننه**
**ګرين ايز فلمز**
---
# # # English
The beautiful Pashto classic song **"Bia Mazigar Sho"** is considered one of the timeless PTV classics of its era, originally sung by the renowned Pashto singer **Madam Shakila Naz**.
The song was produced by **Mr. Farman Ullah Jan**, while the lyrics were written by the legendary poet **Rahmat Shah Sail**.
Now, this memorable song has been recreated in a modern style by **Green Eyes Films**.
We hope that lovers of Pashto music will truly enjoy this new presentation.
Modern **Digital AI technology** has also been used in the production of this remake, specially crafted for you by the Green Eyes Films team.
Please share your valuable feedback and support with us.
Your love and appreciation mean a lot to us.
**Thank You**
**Green Eyes Films**
#شکیلہ #پښتو
29/04/2026
Rahat Kazmi is a legendary Pakistani actor, screenwriter, and academician who became a household name through iconic PTV dramas like *Dhoop Kinare* and *Parchaiyan*. He is married to the accomplished actress and director Sahira Kazmi, and together they have two children, Ali Kazmi and Nida Kazmi, who followed in their creative footsteps. Known for his intellectual depth, he has also served as a director at the National Academy of Performing Arts (NAPA) and taught English literature. Contrary to occasional social media rumors, Rahat Kazmi is alive as of 2026, though he has stepped back from the limelight to focus on his health and academic pursuits. He remains one of the most respected figures in the history of Pakistani television for his sophisticated performances and contributions to art. 🎭📚❤️🩹🫂
🌟🇵🇰
27/04/2026
پشتون اداکار
**رنگیلا (سعید خان) — ایک سبق آموز زندگی کی کہانی**
فلم اور فن کے ہمہ جہت پشتون فنکار **رنگیلا**، جن کا اصل نام **سعید خان** تھا، یکم جنوری 1937ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کی جڑیں افغانستان کے صوبہ ننگرہار سے ملتی تھیں، جو بعد میں پشاور آ کر آباد ہوا۔ پشتو فلموں کے معروف مزاحیہ اداکار **چبیلا** نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کا خاندان کرمہ کے علاقے سے تعلق رکھتا تھا، جو بعد میں پشاور منتقل ہوا۔ رنگیلا نے تین شادیاں کیں اور ان کے چودہ بچے تھے، جن میں آٹھ بیٹیاں اور چھ بیٹے شامل تھے، اور بعض بچوں نے اداکاری کے شعبے میں بھی قدم رکھا۔
رنگیلا کی زندگی بچپن سے لے کر ستارہ بننے تک مشکلات، محرومیوں اور مسلسل جدوجہد سے بھری ہوئی تھی۔ ان کی زندگی آج اور آنے والی نسلوں کے لیے محنت، ہمت اور استقامت کا ایک روشن پیغام ہے۔
جب سعید خان جوانی کی عمر کو پہنچے تو پشاور میں انہیں کشتی اور باڈی بلڈنگ کا شوق تھا۔ کافی عرصہ وہ اس مشغلے میں رہے، لیکن آخرکار قسمت نے انہیں فلمی دنیا کی طرف موڑ دیا۔
وہ نہایت غریب تھے، مگر فلموں سے محبت نے انہیں پشاور سے لاہور آنے پر مجبور کر دیا۔ وہ ٹرین میں بیٹھ کر لاہور روانہ ہوئے، لیکن کرایہ ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ جب ٹکٹ چیکر آیا تو انہوں نے فوراً نیت بدل لی اور بغیر ٹکٹ لاہور پہنچ گئے۔
لاہور میں رہنے کے لیے ان کے پاس جگہ نہ تھی، اس لیے ایک مسجد میں قیام کیا۔ وہاں مسجد کے امام سے دوستی ہو گئی۔ امام صاحب کے مشورے پر انہوں نے **فیروز سنز** میں مزدوری شروع کر دی۔ وہاں وہ قرآن پاک لوگوں تک بطور تحفہ پہنچاتے اور تھوڑی بہت آمدنی حاصل کرتے، مگر گزارا مشکل تھا۔
اسی دوران پشاور کے ایک شخص **کاکے خان** سے ملاقات ہوئی، جو لاہور میں رہتا تھا۔ اس نے سعید خان کو فوٹوگرافی کے کام سے وابستہ کیا تاکہ روزگار کے مسائل حل ہو سکیں۔ کچھ عرصہ انہوں نے ہوٹل میں مزدوری بھی کی، مگر جلد ہی فوٹوگرافی اور تصویری کام پر پوری توجہ دے دی۔ جب اس فن میں مہارت حاصل ہوئی تو اپنی تصویر سازی کی دکان کھول لی۔
سعید خان کی شکل و صورت اور انداز میں فطری مزاح تھا۔ لوگ انہیں دیکھ کر بے اختیار ہنس پڑتے تھے۔ فوٹوگرافی کے استاد **اقبال بٹ** نے مشورہ دیا کہ وہ ایک کامیاب مزاحیہ اداکار بن سکتے ہیں۔ سعید خان نے یہ بات دل سے لگا لی اور کامیڈین بننے کا فیصلہ کر لیا۔
اس زمانے میں وہ مختلف فلموں کے پوسٹر اور تصویریں بناتے اور فلم اسٹوڈیوز بھیجتے تھے۔ فلمی ہدایت کار بھی ان کی دکان پر آیا کرتے تھے۔ ایک دن مسجد جاتے ہوئے ان کی ملاقات فلم ڈائریکٹر **ایم جے رانا** سے ہوئی۔ سعید خان نے ان سے بہت درخواست کی کہ مجھے کسی فلم میں کام کا موقع دیں۔ آخرکار رانا صاحب نرم پڑ گئے اور اپنی پنجابی فلم **“جٹی”** میں ایک چھوٹا سا کردار دے دیا۔
یہ 1958ء کی بات ہے۔ یہی چھوٹا سا کردار ان کی کامیابی کا دروازہ بن گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کئی فلموں میں مزاحیہ کردار ادا کیے اور سعید خان کو فلمی دنیا نے **رنگیلا** کا نام دے دیا۔ یوں رنگیلا فلم سازوں اور ہدایت کاروں کی ضرورت بن گئے۔
غربت کے دن ختم ہوئے تو انہوں نے اپنی فلم کمپنی **رنگیلا پروڈکشنز** قائم کی اور باقاعدہ فلم سازی اور ہدایت کاری شروع کر دی۔ بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم 1969ء میں **“دیا اور طوفان”** تھی، جس میں انہوں نے بہترین اداکاری بھی کی۔
اداکاری، فلم سازی، ہدایت کاری اور کہانی نویسی کے ساتھ ساتھ رنگیلا نے گلوکاری بھی کی اور کئی یادگار فلمی گیت گائے۔
انہوں نے ہیرو، ولن، سنجیدہ کردار، مزاحیہ کردار اور کریکٹر رولز سمیت ہر انداز میں کام کیا اور ہر بار ناظرین کو حیران کر دیا۔ ان کی اداکاری لوگوں کو رلاتی بھی تھی اور ہنساتی بھی تھی۔
ایک ہی فلم میں دو یا تین مختلف کردار ادا کرنا رنگیلا کا خاص کمال تھا۔ فلم **“میری زندگی ہے نغمہ”** میں انہوں نے باپ اور دو بیٹوں کے تین کردار نہایت مہارت سے نبھائے۔ فلم **“دو رنگیلے”** میں انہوں نے دو کردار اپنے منفرد انداز میں ادا کیے۔
یہ حیرت کی بات ہے کہ کشتی، خطاطی اور مصوری جیسے فنون میں مہارت رکھنے والے رنگیلا فلمی دنیا میں بھی کتنے باصلاحیت تھے۔ وہ اداکاری میں ممتاز تھے، اور منور ظریف، لہری اور ننھا جیسے بڑے فنکاروں کے ہوتے ہوئے بھی اپنی مثال آپ تھے۔
وہ مصنف، شاعر، گلوکار، موسیقار، ہدایت کار اور پروڈیوسر بھی تھے۔ بھارتی مزاحیہ اداکار **جانی لیور** نے بھی ان سے کامیڈی سیکھنے کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے اردو، پنجابی اور پشتو فلموں سمیت ساڑھے پانچ سو سے زائد فلموں میں کام کیا۔ انہیں کئی بار **نگار ایوارڈ** اور **صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی** سے نوازا گیا۔
ان کا فلمی سفر کامیابیوں سے بھرپور رہا، لیکن ان کی آخری فلم **“قبرہ عاشق”** نے بطور فلم ساز اور ہدایت کار انہیں مالی نقصان پہنچایا۔ اس ناکامی نے ان کی کمر توڑ دی اور ان کے فلمی سفر پر بھی اثر ڈالا۔
اس کے بعد انہوں نے بہت کم فلموں میں کام کیا، اور ہدایت کاری و فلم سازی میں بھی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
آخرکار 4 مئی 2005ء کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
Click here to claim your Sponsored Listing.