Unofficial: jaan

Unofficial: jaan

Share

jaan

10/04/2026

#بہادر باپ کا بہادر بیٹی

01/04/2026

ام رباب مقدمہ کا بالاخر فیصلہ ہو گیا ۔
90 فیصد طوتیا جو ام رباب کے ساتھ ہمدردی کر رہے ہیں ۔ انہیں نہ وقوعہ کے بارے میں علم ہے نہ مقدمہ کے جزئیات اور واقعات کے بارے میں علم ہے ۔ ہمیشہ کی طرح پیپلز پارٹی کو گالی دینے کے جنون میں باؤلے ہوئے ک ت وں کی طرح …..رہے ہیں ۔
ام رباب کے چچا اور ایک کزن یا بھائی وقوعہ میں قتل ہوے ۔ قاتل بھی ام رباب کے ایسے کزن تھے جن کے دو قتل پہلے ان دو ملزمان نے کیے ہوئے تھے ۔
ام رباب کا چچا یونین کونسل کا پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ناظم بھی تھا۔
جن دنوں یہ وقوعہ ہوا ۔ ان دنوں ریاست آغا سراج خان درانی صاحب کو جیل بھجوا چکی تھی اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو گرانے کے لیے 40 کے قریب ایم پی اے ز کو یا گرفتار کر چکی تھی یا ان کے خلاف مقدمات بنا چکی تھی ۔
عدم اعتماد کروانے کے لیے جج ۔ جنرل اور بیوروکریٹ باؤلے ہوئے ہوئے تھے ۔
جونہی یہ وقوعہ ہوا ۔ ام رباب کو اعلی ترین لیول پر فوجی افسر نے اس کے گھر سے اٹھایا اور چیف جسٹس ہاؤس اسلام اباد میں پہنچا دیا ۔
فرمائش کی گئی کہ برہان چانڈیو نامی ایک ایم پی اے کو مقدمہ میں ملوث کیا جائے تاکہ اس کی پیپلز پارٹی کے ساتھ وابستگی کو چھڑوا کر عدم اعتماد میں اس کا ووٹ حاصل کیا جا سکے ۔
بدقسمتی یہ ہوئی کہ جس وقت مبینہ وقوعہ ہوا یعنی قتل ہوئے ۔ اس وقت حیدراباد میں پولیس کی کوئی تقریب تھی ۔ جس میں بلاول بھٹو زرداری چیف گیسٹ تھے ۔ ڈی آئی جی حیدراباد اور برہان چانڈیو سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی موجودگی اور اس تقریب کی فوٹیج تمام نیوز چینلز پر نشر ہوئی ۔
یہ سب کچھ کے باوجود برہان چانڈیو کو عدالتی حکم پر ملزم بنا کر ایف آئی ار درج کروائی گئی ۔
جب تک عدم اعتماد یا سندھ حکومت گرانے کی کوشش جاری رہی ۔ ام رباب پاکستان کی تاریخ سے سب سے وی وی آئی پی مدعیہ رہی اور اس کا قیام مبینہ طور پرچیف جسٹس ہاؤس اسلام اباد ججز ریسٹ ہاؤس سکھر یا کراچی میں ہوا کرتا تھا ۔
بہرحال یہ کوشش ناکام ہوئی ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرایا نہیں جا سکا اور پیپلز پارٹی کو گرانے والے ریٹائر ہو گئے اور تاریخ کا حصہ بن گئے ۔
اس کے بعد ام رباب نے عدالتوں سے بھاگنا شروع کر دیا۔
ام رباب مزید پانچ سال تک اپنے مقدمہ کو لٹکاتی چلی گئی کہ شاید وقت تبدیل ہو جائے اور دوبارہ وہی صورتحال آ جائے کہ وہ ملک کی سب سے وی وی آئی پی مدعیہ بن جائے ۔
لیکن گیا وقت کہاں ہاتھ اتا ہے ۔ بالاخر انصاف برپا ہوا اور عدالت نے یہی قرار دیا کہ مبینہ ملزمان جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے ۔
پیپلز پارٹی کے خلاف مذہبی فریضہ اور جنون سمجھ کر جو لوگ پیپلز پارٹی کے لوگوں کے خلاف گالی گلوچ کرتے ہیں ان کی اطلاع کے لیے یہی عرض کرتا ہوں کہ ام رباب کا خاندان بھی اسی ایم پی اے کی وجہ سے یونین کونسل کا ناظم تھا اور پیپلز پارٹی کے لوگ تھے ایک مخصوص وقت کے لیے انہیں توڑا گیا تھا جو حاصل نہیں ہو سکا ۔
جھوٹی کہانیاں لکھنے والے جھوٹی کہانیاں سنانے والے اور اخباری سرخیوں کے جگالی کرنے والے آج پھر شرمندہ ہوئے

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Riyadh?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address

Riyadh