Swad wow
.....
10/31/2025
دل کو چھونے والی غزل- شب میں دیکھے ہی کہاں چاند ستارے میں نے، دن کی دیکھی نہیں رونق نہ اجالے میں نے شب میں دیکھے ہی کہاں چاند ستارے میں نے دن کی دیکھی نہیں رونق نہ اجالے میں نے کوئی شکوہ نہ شکایت نہ گلہ ہے باہم خواب توڑے ہیں میرے تم نے تمہارے میں نے اب تو و...
باتیں بناتا ہے وہ مرے دل کو توڑ کے
لفظوں کے مونھ چھپاتا ہے کاغذ مروڑ کے
اک ملتفت نگاہ کے دھوکے میں لٹ گئی
رکھّی تھی ہم نے دل میں خوشی جوڑ جوڑ کے
اک بے زباں خلش کوئی چونکی ہے اس طرح
جیسے اٹھا دے نیند سے کوئی جھنجھوڑ کے
اے مشتِ خاک دیکھ یہ راہِ درِ نجات
لے آئی پھر وہیں پہ ڈگر موڑ موڑ کے
بعد از شکستِ ضبطِ نظر، بامِ دل تجھے
دربان جا رہے ہیں لٹیروں پہ چھوڑ کے
لوٹے تو اتنی دیر میں نقشہ بدل گیا
آئے تھے کس یقین سے ہم نقش چھوڑ کے
مسند پہ تم بلا سے رہو ہم زمین پہ
ہم کوڑیوں کے دام سہی تم کروڑ کے
خیرہ نظر صبا سے تب و تابِ انجمن
داد ہنر نہ مانگ، دو آنکھیں نچوڑ کے
سید صبا واسطی
آئینے میں عجب تماشا ہے
ہر تماشائی دیکھتا ہے اُسے
صبا واسطی
ایک نئی غزل۔۔۔۔
پھر رہے ہو اٹھائے کنکر کیا
بت ہے کوئی تمہارے اندر کیا
حرف محرومِ لمسِ دید ہو ے
ہوگئی ہے کتاب ازبر کیا
پوچھنا آ گیا تو پوچھیں گے
کب کہاں کون کیسے کیوںکر کیا
راز و معنی سے پر تھے بابِ حیات
پڑھ گئے ہم کتاب فرفر کیا
مل رہے ہو چرائے بھی ہو نظر
ہاتھ میں ہو چھپائے خنجر کیا
نیند آئے گی اپنی مٹی میں
چار دن کا یہ گھر یہ بستر کیا
خود کو ڈھونڈو خدا کے ملنے تک
داخلِ ذات سب ہے باہر کیا
زندگی مفت ہی پڑا تجھ کو
کم تر و کم دلا کی چادر کیا
کوئی باطن کسی کا کیا جانے
کوئی ظاہر ہوا ہے خود پر کیا
اُس کو دیکھوں نہیں تو کیا دیکھوں
کُل ہی کُل کُن ہے کوئی منظر کیا
اجنبی چاپ ہے صبا دل میں
آگئے لو عدم کے افسر کیا
-----سید صبا واسطی------
Click here to claim your Sponsored Listing.