Brain

Brain

Share

Knowledge is Everything.

20/03/2026

Tiktoker Ali Jut Gustakhi

18/03/2026

👉Important🔥🙏
ایک بچی کی سیرچ ہسٹری!
سب پہلے تو جب آپ کے بچے تھوڑے بڑے ہو جائیں تو ان کے سامنے یا ایک ہی کمرے میں سوتے ہوئے میاں بیوی اپنے ذاتی اختیارات کا استعمال نا کریں یہاں تک کے جب آپ کو لگے کے بچے سو رہے ہیں کیونکہ بچوں کی عام طور پر عادت ہوتی ہے کہ وہ لیٹے ہوئے اگر جاگ بھی رہیں ہوں تو ماں باپ ڈانٹ نا دیں وہ آنکھیں بند کر کے سونے کا ڈراما کر رہے ہوتے ہیں۔
اور بعذ اوقات ان کے ماں باپ وہی لمحہ غنیمت سمجھ کر اسکا پھرپور استعمال کرتے ہیں۔
رزلٹ یہ نکلتا ہے کہ اپنے ماں باپ کی غیر مناسب حرکات دیکھ کر بچوں کے دماغ میں سوالات جنم لیتے ہیں اور وہ اس کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے چھان بین کرتے ہیں اور وقت سے پہلے بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اپنے بچوں کو موبائل احتیاط سے دیں پیرنٹ کنٹرولڈ آئی ڈیز لگا کر دیں اور ان کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال کو ہر ممکن محدود کریں اور اپنی نگرانی بڑھائیں۔ تاکہ آپ کے بچے کم از کم ٹائم سے پہلے غلط راستے پر نا ہوں اور ٹائم سے پہلے وہ ناجائز ضروریات پر فوکس نا کریں۔
دور اندیشی سے سوچا جائے تو اس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں اور نکل بھی رہے ہیں۔ورنہ کل کو ہوسکتا ہے اپکو رونے کا بھی وقت نہ ملے گا۔۔۔۔
اس پوسٹ کا مقصد کسی کی تذلیل نہیں ایک بلکہ ایک ناگوار نکتے پر فوکس کروانا ہے۔جو ایک صحت مند معاشرے کی فلاح کے لیے ضروری ہے ۔🙏

15/03/2026

"پاکستان کا معاشی قتل: ایک بھولی ہوئی داستان"--- یہ تصویر ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ایک چبھتا ہوا سوال کرتی ہے:
"کیا تمہیں یاد ہے کہ تمہارا گلشن کبھی کتنا سرسبز تھا؟"
بات سنہ 1951 کی ہے۔
مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں ڈھاکہ کے قریب دریا کے کنارے آباد شہر 'نارائن گنج' کی گیلی مٹی پر چند لوگ کھڑے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص آگے بڑھتا ہے، کدال اٹھاتا ہے اور زمین پر پہلی ضرب لگاتا ہے۔ یہ شخص عبدالواحد آدم جی تھے۔
اس ایک ضرب کے ساتھ صرف کسی فیکٹری کی بنیاد نہیں رکھی جا رہی تھی، بلکہ ایک نوزائیدہ مملکت کے ایک عظیم الشان "صنعتی خواب" کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔
یہ آدم جی جیوٹ ملز کا آغاز تھا۔
چند ہی برسوں میں یہ مل دنیا کی سب سے بڑی جیوٹ ملز میں شمار ہونے لگی۔ 1960 کی دہائی تک اس مل کے پہیے مسلسل گھومتے تھے، جہاں 30 ہزار مزدور کام کرتے اور لاکھوں لوگوں کا رزق اس ایک صنعت سے وابستہ تھا۔
(حوالہ: پاکستان صنعتی ترقیاتی رپورٹس، 1960ء کی دہائی)
اس عروج کے دور میں نارائن گنج کو دنیا نے ایک نیا لقب دیا:
“ڈنڈی آف دی ایسٹ” (مشرق کا ڈنڈی)
یہ نام اسکاٹ لینڈ کے شہر 'ڈنڈی' کی مناسبت سے دیا گیا تھا جو اس زمانے میں دنیا کی جیوٹ انڈسٹری کا دل سمجھا جاتا تھا۔ نارائن گنج مشرق میں اس صنعت کا بے تاج بادشاہ بن چکا تھا۔
مگر یہ داستان صرف آدم جی خاندان کی نہیں ہے۔
یہ ان معماروں کی پوری نسل کی کہانی ہے جنہوں نے 1947 کے بعد اس ملک کی معیشت کو اپنے خون پسینے سے سینچا۔ قیامِ پاکستان کے وقت حالت یہ تھی کہ ملکی قومی پیداوار (GDP) میں صنعت کا حصہ بمشکل 7 فیصد تھا۔ نہ ہمارے پاس سرمایہ تھا، نہ کارخانے۔
تب چند خاندان آگے بڑھے اور انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا:

- آدم جی خاندان: آدم جی جیوٹ ملز اور آدم جی انشورنس کے ذریعے بنیاد رکھی۔

- سہگل خاندان: کوہِ نور ٹیکسٹائل ملز اور میپل لیف سیمنٹ جیسی دیوہیکل صنعتیں کھڑی کیں۔

-ولیکا خاندان: کراچی میں ولیکا ٹیکسٹائل ملز قائم کی، جو ابتدائی دور کی سب سے بڑی صنعتوں میں سے ایک تھی۔

-باوانی خاندان: باوانی ٹیکسٹائل ملز کے ذریعے ہزاروں بے روزگاروں کے گھروں کے چولہے جلائے۔

- داؤد خاندان: داؤد ہرکولیس کارپوریشن کے ذریعے صنعتی اور کیمیائی شعبوں میں انقلاب برپا کیا۔

- حبیب خاندان: حبیب بینک لمیٹڈ کی صورت میں پاکستان کے کمزور مالیاتی نظام کو مضبوط سہارا دیا۔

-اصفہانی خاندان: تجارت اور ایوی ایشن (اورینٹ ایئرویز) میں گراں قدر خدمات انجام دیں، جو بعد میں پی آئی اے (PIA) کی بنیاد بنی۔

اسی طرح میمن برادری نے ملکی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔ کراچی سے ڈھاکہ تک ان کا جال بچھا تھا۔ نارائن گنج میں ان کی اتنی بڑی آبادی تھی کہ لوگ اسے پیار سے "میمن گنج" کہنے لگے تھے۔ یہ وہ سنہرا دور تھا جب عالمی معاشی رپورٹس میں پاکستان کا شمار ایشیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں میں ہوتا تھا۔
پھر تاریخ نے ایک المناک موڑ لیا...
1971 کے سیاسی بحران اور جنگ نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے ملکی صنعتوں کو شدید دھچکا لگا۔ 'آدم جی جیوٹ ملز' بھی اس طوفان میں ڈوب گئی۔ مالکان اور خاص طور پر اردو بولنے والے کارکنان نے شدید تشدد سہا، اپنی عمر بھر کی کمائی چھوڑی اور مغربی پاکستان ہجرت پر مجبور ہوئے۔
مگر یہ لوگ ٹوٹے نہیں۔ انہوں نے راکھ سے دوبارہ اڑان بھری۔ کراچی، لاہور اور فیصل آباد میں اسی ہجرت زدہ طبقے نے نئے سرے سے کارخانے لگائے۔
لیکن بدقسمتی دیکھیے، ان کا کڑا امتحان ابھی باقی تھا۔
1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے "نیشنلائزیشن" (قومیانے کی پالیسی) کا نفاذ کر دیا۔
بینک... کارخانے... صنعتیں... سب کچھ راتوں رات ریاستی تحویل میں لے لیا گیا۔
جن لوگوں نے ہجرت اور تباہی کے بعد اپنے ناخنوں سے دوبارہ دیواریں کھڑی کی تھیں، ان سے ان کی محنت چھین لی گئی۔ معاشی ماہرین متفق ہیں کہ اس ایک قدم نے پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ بے یقینی کا ایسا گہرا بادل چھایا کہ کئی مایہ ناز سرمایہ کار دبئی، یورپ اور امریکہ منتقل ہو گئے۔
وہ کارخانے جو کبھی ہزاروں گھروں کے چراغ روشن کرتے تھے، آہستہ آہستہ بیوروکریسی کی بھینٹ چڑھ کر خاموش ہونے لگے۔

آج جب ہم اس تصویر کو دیکھتے ہیں، تو دل میں ایک شدید کسک اٹھتی ہے۔
ان صنعتوں کو کسی بیرونی دشمن نے تباہ نہیں کیا۔
ان کارخانوں پر بھارت نے کوئی بم نہیں گرایا۔
ہم نے اپنے اس گلشن کو اپنے ہی ہاتھوں سے اجاڑا ہے۔

آج یہ سوال تاریخ کے بند دروازے پر زور زور سے دستک دے رہا ہے:

اگر ایک سیاسی رہنما کے 'عدالتی قتل' پر دہائیوں بعد مقدمہ دوبارہ کھل سکتا ہے، بحث ہو سکتی ہے...
تو پاکستان کے اس 'معاشی قتل' پر بات کیوں نہیں ہو سکتی؟

کیا وقت نہیں آ گیا کہ ہم اس باب کو دوبارہ کھولیں؟ یہ جانیں کہ کہاں غلطی ہوئی؟ کس ایک فیصلے نے ہمارے صنعتی خواب کو چکنا چور کر دیا؟
اور سب سے بڑا سوال:
کون اس کیس کا مدعی بنے گا؟ اس قوم کی اجڑی ہوئی معیشت کا وارث کون ہے؟

15/03/2026

ن لیگ نے اپنا قائد اعظم لاونج کر دیا 🫠

07/03/2026

عربوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ تاریخ خود کو دہراتی ہے۔ جو اس سے سبق نہ سیکھے، وہ اسے الٹا لٹا کر لتر مارتی ہے اور پھر عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔ عربوں کے ساتھ اب جو ہونے والا ہے، یہ کوئی پیچیدہ معمہ نہیں۔ یہ تو دو اور دو چار والی سادہ سی حقیقت ہے۔ آئیے تاریخ سے ہی پوچھتے ہیں۔ جب چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے خلیفہ معتصم باللہ کو گرفتار کر کے اپنے سامنے پیش کیا تو وہ خود کھانا کھا رہا تھا۔ ہلاکو نے خلیفہ کے سامنے ہیرے جواہرات کی تھیلیاں پھیلا دیں اور طنز کیا: "یہ کھا لو۔" معتصم نے حیرت سے کہا: "یہ تو کھانے کی چیزیں نہیں۔" ہلاکو ہنس پڑا: "جو کھایا نہیں جا سکتا، وہ جمع کیوں کیا؟ اس مال کو اپنی فوج پر خرچ کرتے، کمانیں، تلواریں، نیزے بنواتے۔ اپنی قوم کو طاقتور بناتے تو آج یہ انجام نہ ہوتا۔" معتصم نے گھبرا کر کہا: "شاید یہ اللہ کی مرضی تھی۔" ہلاکو نے جواب دیا: "جو تیرے ساتھ اب ہو گا، وہ بھی اللہ ہی کی مرضی ہو گی۔" پھر اسے گھوڑوں سے باندھ کر روندا گیا۔ آج معتصم باللہ کی روحانی اولاد — زید بن لہولہان بن برج خلیفہ اینڈ کمپنی — بالکل اسی موڑ پر کھڑی ہے۔ ہلاکو خان کے وارث (چاہے وہ جو بھی شکل میں ہوں) بالکل وہی کریں گے جو ان کے آبا نے کیا تھا۔ اب عرب کے عیاش حکمرانوں کے پاس کیا راستہ بچا ہے؟ برج خلیفہ کی چوٹی سے سمندر میں چھلانگ لگا دیں؟ یا کسی تیل کے کنویں میں ڈوب کر مر جائیں؟ یہ لمبے چوغوں والے، بے حس، انسان نما بھیڑیے اپنی زندگی کے ہر کمزور لمحے کی ویڈیو اور تصویر خود ہی یہود و ہنود کے حوالے کر چکے ہیں۔ یہ اب زندہ لاشیں ہیں۔ کوئی بچاؤ کا راستہ؟ ہاں، ایک ہی راستہ ہے۔ اپنے "ابو" پاکستان کی طرف لوٹ آئیں۔ اس سے فوری دفاعی معاہدہ کریں۔ اس وقت روئے زمین پر صرف پاکستان ہی وہ ملک ہے جو انہیں بچا سکتا ہے۔ ورنہ جنگ رک بھی گئی تو ایران بھتہ مانگے گا۔ اگر نہ مانا تو میزائلوں سے ڈرائے گا — اور اس کا چاکا بھی کھل چکا ہے۔ نوٹ برائے خریدار: پام جمیرہ اور برج خلیفہ کے بالکل قریب دو دو کنال کے دو شاندار ولاز آدھی قیمت پر دستیاب ہیں۔ خریدار متوجہ ہوں۔ گولڈن ویزا بھی مفت میں ملے گا۔ تاریخ کا سبق بہت واضح ہے۔ اب فیصلہ آپ کا ہے یا تو ہلاکو کا شکار بنیں، یا پاکستان کا بھائی۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Dubai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Dubai
Dubai
46500