M.Ibrahim Abbasi
Covering Islamabad High Court for ABN News. Journalist
A detailed analysis of the Islamabad High Court’s past year. We explore why junior judges are in the spotlight and why Justice Tariq Mehmood Jahangiri is allegedly facing unfair treatment.
09/11/2025
Optics Valley Wuhan.
اسلام آباد (محمد ابراہیم عباسی):
سپریم کورٹ کے 8 رکنی آئینی بینچ نے چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کا آغاز کیا۔ بینچ کی سربراہی جسٹس آمین الدین نے کی جبکہ جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر،
جسٹس عائشہ ملک ،جسٹس مسرت حلالی سمیت دیگر جج صاحبان بھی بینچ کا حصہ ہیں۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ "بطورِ ایک آئینی بینچ، آرٹیکل 191A کے تحت یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بینچ فل کورٹ تشکیل دینے کا اختیار رکھتا ہے، اور کیا ہمارے پاس یہ اختیار ہے کہ ہم چیف جسٹس یا دیگر جج صاحبان کو ہدایت دیں کہ وہ ہمارے ساتھ بیٹھیں؟"
اس پر منیر اے ملک نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر بینچ فل کورٹ کی ہدایت دیتا ہے تو ضروری نہیں کہ کمیٹیاں یا چیف جسٹس کو الگ سے احکامات دیے جائیں، عدالت کے پاس خود جوڈیشل اختیارات موجود ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ "ہمیں تو اختیارات ہی آئین کے آرٹیکل 190-A کے ذریعے ملے ہیں، ورنہ اس عدالت میں بیٹھنے کا کوئی مقصد نہیں۔" انہوں نے یاد دلایا کہ "کل حامد خان کہہ رہے تھے کہ آرٹیکل 190-A کو نظرانداز کر دیا جائے، اگر ان کی بات مان لی جائے تو پھر ہمارا یہاں بیٹھنا بے معنی ہوگا۔"
منیر اے ملک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "میں اس بینچ کو سپریم کورٹ کا بینچ سمجھتا ہوں۔"
دورانِ سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا،
"اگر آپ اس بینچ کو سپریم کورٹ کا بینچ سمجھتے ہیں تو پھر فیصلہ بھی اسے ہی کرنے دیں، مسئلہ کیا ہے؟"
اسی موقع پر جسٹس مسرت حلالی نے نشاندہی کی کہ "درخواستوں میں خود اس بینچ پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کیونکہ یہ بینچ چھبیسویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں بنا ہے۔"
اس پر منیر اے ملک نے کہا کہ "اگر آپ آئینی یا ریگولر بینچ میں بیٹھے ہیں، اس سے فرق نہیں پڑتا، اختیارِ سماعت بہرحال سپریم کورٹ کے پاس ہے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "عدالتی اختیارات کا مرکز سپریم کورٹ یا آئینی عدالت ہے، اور یہی طے کرے گی کہ کسی کیس پر اس کا دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں۔ اگر سپریم کورٹ سمجھے کہ کیس آئینی عدالت کو جانا چاہیے، تب بھی فیصلہ کرنے کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہی رہتا ہے۔"
سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے معنی خیز ریمارکس دیے کہ،
"آج ہم ہیں، کل نہیں ہوں گے۔"
بعدازاں سربراہ آئینی بینچ جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ "یہ تو فیصلہ ہونے کے بعد طے ہوگا کہ وہ ججز سپریم کورٹ میں رہیں گے یا واپس ہائی کورٹس جائیں گے۔"
اس موقع پر بینچ کی سربراہ نے مزید کہا کہ "جن ججز کو چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا، ان کا کوئی قصور نہیں۔ وہ اپنے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس تھے، اور جوڈیشل کمیشن نے آئین پر عملدرآمد کرتے ہوئے ان کی تعیناتی کی۔"
منیر اے ملک نے کہا کہ معاملہ ججز کے "موٹیوز یا چوائس" کا نہیں بلکہ اس بات کا ہے کہ "جب وہ یہ کیس سن رہے ہوں گے تو اس فیصلے کا اثر کیا ہوگا۔"
عدالت نے سماعت کل پیر ملتوی کر دی۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Address
AWR Rostamni Head Office Deira Dubai
Dubai