Astronomy Math & Universe

Astronomy Math & Universe

Share

This Page is specifically for Science Math and universe facts .

01/08/2023

کیا کائنات کی عمر 26.7 ارب سال ہے ؟

حال ہی میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ جیمس ویب کے ڈیٹا سے نئی تحقیق کی رو کائنات کی عمر 13.8 ارب سال نہیں بلکہ 26.7 ارب سال ہے ۔ یہ دعوی جنھوں نے پیش کیا ہے انکا نام آر گپتا ہے ۔ مگر سائنس دان اس بات پر یقین کرتے آئے ہیں کہ کائنات کی عمر 13.8 ارب سال کے لگ بھگ ہے اب اس سے دو گنا عمر کیسے بن گئی اور کیا نیا دعوی درست بھی ہے ۔ اور اگر یہ درست ہے تو کیا بگ بینگ غلط ثابت ہوجاتا ہے ؟ کیا کائنات کے متعلق ہم مکمل غلط ہیں آئیے انھی سوالوں کے جواب جانتے ہیں۔

ہمیں اپنی کہانی کا آغاز لگ بھگ سو برس(کچھ سال کم) پہلے سے شروع کرنا ہوگا ۔یہ وہ دور ہے جب ایڈون ہبل نے یہ دریافت کیا کہ کائنات پھیل رہی ہے ۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ جو کہکشائیں دور ہیں ، ان کی روشنی ہم تک پہنچتے پہنچتے ریڈ شفٹ ہو رہی ہے ، اور جو ان سے بھی دور ہیں ان کی روشنی مزید ریڈ شفٹ ہے ۔ ریڈ شفٹ آسان زبان میں یہ ہوا کہ روشنی کی ویو لینتھ سٹریچ ہوگئی اور روشنی کی لہروں کی توانائی کم ہوگئی ۔

اب کیوں کہ ایڈون ہبل نے اپنے مشاہدات سے یہ بات اخذ کی تھی کہ جو کہکشاں ہم سے جتنی دور ہے اس کی رفتار بھی اس حساب سے ہوگی ، یعنی جو کہکشاں جتنا دور ہو گی وہ اتنا ہی تیزی سے ہم سے دور ہوتی جارہی ہے ۔ یہ دریافت کائنات کا پھیلاو کہلائی جانے لگی ۔

اور یہ مشاہدہ آج ہم جسے بگ بینگ ماڈل کہتے ہیں ، کو سپورٹ کرتا ہے ۔ یعنی بگ بینگ کے شواہد میں سے ایک — کائنات کا پھیلاو ہے ۔

یہ چیز اس وقت سائنسدانوں کو پسند نہ آئی تھی کیوں کہ سائنس دان یہ سمجھتے تھے کہ کائنات سٹیٹک یعنی جامد ہے ، یہ لچکدار نہیں ۔ ایڈون ہبل کے مشاہدات کے مقابلہ میں ماہر فلکیات فرٹز زووکی نے اپنی تجویز پیش کی ۔

زووکی کے مطابق ، کائنات پھیل نہیں رہی ۔ بلکہ ہو یہ رہا ہے کہ جو روشنی ہم تک ریڈ شفٹ ہو کر آ رہی ہے ، یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس نے خلا میں موجود باقی مواد (نیبولا یا گرد کے بادل وغیرہ) سے انٹریکٹ (تعامل) کیا ہے ، اس انٹریکشن کے نتیجے میں ، روشنی کی کچھ توانائی اس مواد میں منتقل ہوگئی اور باقی توانائی روشنی کی لہروں کے پاس ہی رہی ، یوں جب روشنی ہم تک پہنچی تو یہ ریڈ شفٹ ہو کر پہنچی ۔

زووکی بنیادی طور پر یہ کہنا چاہتے تھے کہ اس حساب سے کیوں کہ کائنات پھیل نہیں رہی بلکہ یہ سرخ منتقلی (ریڈ شفٹ) دیگر مواد سے ٹکراو اور انجذاب کی وجہ سے ہے ۔ اس لیے کائنات سٹیٹک ہے ۔

اب سوال یہ ہے کیا ایسا کائنات میں ہوسکتا ہے ؟ کیا روشنی دیگر مواد میں اپنی توانائی دے سکتی ہے ؟

جی ہاں دے تو سکتی ہے ۔ اور اس سے جڑا ایک دل چسپ واقعہ سن انیس سو اکتالیس میں ہوا ۔ انیس سو اکتالیس میں ، اینڈریو میکالر نے ، زیٹا اوفیوکی ستارے کے اردگرد بادل کا مشاہدہ کیا ، یہ بادل گرد اور کچھ مالیکولز پر مشتمل ہے ۔ اس بادل میں ایک مالیکول سی این بھی پایا جاتا ہے ۔

آپ یہ بات جانتے ہوں گے کہ ایٹموں میں جو الیکٹران ہوتے ہیں یہ عموما گراونڈ اسٹیٹ میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں ،مگر جب ایٹموں یا مالیکولز کو حرارت دی جاتی ہے تب اس کے الیکٹران اکسائیٹڈ اسٹیٹ میں چلے جاتے ہیں۔ سی این مالیکولز کے ساتھ بھی یہی ہوا ، اینڈریو میکالر نے یہ مشاہدہ کیا کہ یہ جو مالیکولز ہیں انھیں کوئی نہ کوئی شے حرارت دی رہی ہے ۔ اور الیکٹران اکسائیٹڈ انرجی اسٹیٹ میں ہیں ، میکالر کو لگا کہ سپیس کا درجہ حرارت ہے ، اینڈریو میکالر نے جو اندازہ کیا وہ درجہ حرارت لگ بھگ (دو ڈگری کیلون)2K تھا ۔

مزے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اینڈریو میکالر کو یہ نہیں پتا تھا کہ اس کا مفہوم کیا بنتا ہے ۔ مگر کیوں کہ یہ چیز خاصی دل چسپ تھی اس لیے انھوں نے اسے آپٹیکل اسٹرونومی جرنل میں شائع کیا ۔ آپ کو لگ رہا ہو گا کہ یہ چیز کیا خاصیت رکھتی ہے ؟ سچ میں سب سے بڑی خاص بات یہ تھی کہ اس میں بگ بینگ ماڈل کا ایک اور ثبوت تھا ۔

سی این مالیکول ، مائیکرو ویو بیگراونڈ کو سے حرارت حاصل کر رہا تھا ۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ماضی میں جتنے مشاہدات اور شواہد سائنس دانوں نے اکھٹا کیے ان کی روشنی میں ہمیں پتا چلا کہ فرٹز زووکی نے غلط تجویز پیش کی تھی اور کائنات سچ مچ پھیل رہی ہے ۔ فکر مت کیجیے ہم کائنات کی عمر کی طرف ہی واپس آ رہے ہیں ۔

آر گپتا نے جو ماڈل پیش کیا ہے اس میں بھی روشنی دوسرے مواد سے انٹریکٹ کرتی ہے جس کے نتیجے میں روشنی اپنی توانائی کھو بھی دیتی ہے ۔ اب اگر یہ سچ ہے تو اس کو جانچنے کے لیے الگ طریقہ کار بھی ڈویلپ ہونا چاہیے تاکہ ہمیں پتا چل سکے کہ آر گپتا نے جو ماڈل پیش کیا ہے وہ درست ہے یا نہیں ۔ جیسا کہ پہلے سی این مالیکول کی مثال میں بتایا گیا ہے ۔ ایسے اس مثال کو مدنظر رکھ کر بھی جانچ پڑتال کرنے میں آسانی ہوسکتی ہے۔

جو آر گپتا نے پیپر شائع کیا ہے اس میں بہت سی چیزیں نظر انداز کی گئی ہیں ۔ ان میں سب سے اہم تو بگ بینگ نیوکلوسنستتھز اور مائیکرو ویوبیگراونڈ ریڈی ایشن کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے اور مائیکرو ویو بیگراونڈ ریڈ ایشن لگ بھگ 13.7 ارب سال پہلے کی ہے ۔ گپتا کے مطابق اگر ہم کائنات کی عمر کو 26.7 ارب سال مانیں تب بہت سی چیزیں سلجھ جاتی ہیں ۔

جیسا کہ جیمس ویب نے جو ابتدائی کائنات کی کہکشائیں دریافت کی ہیں وہ اتنا تیزی سے کیسے تشکیل ہوئی ، جب کہ وقت کم تھا اب اگر وقت زیادہ ہو تو یقینا وہ کہکشائیں تشکیل ہوسکتی تھی جیسا کہ گپتا نے دعوی کیا ۔

ایسے ہی ایک اور راز جو سائنس دانوں کو پریشان کرتا ہے وہ بلیک ہولز کا ہے ، اگر کاینات کی عمر 13.8 ارب سال سے زیادہ ہے تب کاینات کی ابتدا میں جو بلیک ہولز تھے وہ بھی زیادہ وقت ہونے کیوجہ سے تشکیل ہوئے ۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس حساب سے تو آر گپتا کی تحقیق اور دعوی درست ثابت ہو رہا ہے ۔ پر حقیقت میں دوستوں اس پیپر پر بھی بہت سے سوال اٹھتے ہیں۔

جیسا پہلے کہا گیا ہے کہ اس پیپر میں بہت سی چیزیں نظر انداز کی گئی ہیں۔

سب سے اہم بات جو نئی تحقیق دعوی کرتی ہے اس میں یہ بات بھی ہے کہ کائنات میں جو کانسٹنٹس ہیں ان میں سے کچھ کانسٹنٹس ہوں ہی نہ ۔ جیسے سپیڈ آف لائٹ کا ، کانسٹنٹ سی ، گریوٹی کا جی وغیرہ ۔ ماہرین نے روشنی کی رفتار پر بہت تحقیقات کی ہیں ۔ یہ تحقیقات یہ بتاتی ہیں کہ دور دراز جہاں سے بھی ہم تک روشنی پہنچ رہی ہے ، اس کی رفتار لگ بھگ مستقل ہی رہتی ہے یہ بدلتی نہیں ۔ یہ کانسٹنٹ ہے اور یہ تحقیقات بہت بڑے پیمانے پر ہوئی ہیں ان پر کسی اور وقت بات کریں گے ۔

دوسرا سب سے اہم مشاہدہ یہ ہے کہ قابل مشاہدہ کائنات میں جتنے بھی کانسٹنٹس ہیں یہ سب ہمیں کانسٹنٹس ہی ملتے ہیں ۔ چاہے وہ سپیڈ آف لائٹ کا سی ہو یا گریوٹیشن کا بڑا جی ۔ یہ سب مستقل ہیں ۔ ان کی قیمتیں بدلتیں نہیں ۔

ایک اور چیز جس بنیاد پر نئی تحقیق نے دعوی کیا ہے کہ کائنات کی عمر 26.7 ارب سال ہے وہ ریڈ شفٹ ہے ۔ اور ریڈ شفٹ کو ماپنے کے دوران غلطی کا امکان بھی ہوتا ہے ۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ کیلکولیشنز کے دوران کوئی نہ کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو ۔ ماہرین نے ابھی تک یہ عمر یعنی 26.7 ارب سال کو قبول نہیں کیا بلکہ یہ عمر بہت سے سوال اٹھا رہی ہے اور گذشتہ تحقیقات کو جہاں پر نظر انداز کیا گیا ہے اگر نئی تحقیق سچ ہے تو گذشتہ تحقیق پر بھی بہت سے سوال اٹھتے ہیں ۔

تاحال کوئی آفیشل سٹیٹمنٹ نہیں آئی کہ کائنات کی عمر 26.7 ارب سال ہے۔ لہذا اب تک جتنی گذشتہ تحقیقات ہوئی ہیں ان کی روشنی میں کائنات کی عمر 13.8 ارب سال ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ ماہرین مستقبل میں کائنات پر مزید کیا کیا سوال اٹھاتے ہیں اور ایسی وہ باتیں ہماری سامنے آتی ہیں جو ہماری پوری محنت پر ہی سوال اٹھائیں ۔

ضیار علی۔

Want your school to be the top-listed School/college in Brisbane?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Brisbane , Queensland
Brisbane, QLD
4000