Jan Muhammad Hazara

Jan Muhammad Hazara

Share

Official Page of Jan Muhammad Hazara

10/07/2025

ولایتِ فقیہ اور امریکی مفادات !
تحریر از جے ایم ہزارہ

ولایتِ فقیہ کے نظریاتی دعوے ہمیشہ امریکہ دشمنی کے گرد گھومتے رہے ہیں۔ خمینی نے شیطانِ بزرگ کا نعرہ دیا ، امریکی جھنڈے کی توہین، اور ہر عالمی مسئلے کو امریکی سازش قرار دینا یہ سب ولایتِ فقیہ کے بیانیے کا بنیادی حصہ رہا ہے۔ مگر 1979 سے 2025 تک کے تاریخی اور زمینی حقائق کچھ اور ہی داستان سناتے ہیں۔ ایران کی مذہبی آمریت نے بارہا ایسے فیصلے کیے جو نہ صرف امریکی مفادات سے ہم آہنگ تھے بلکہ بعض اوقات براہ راست امریکی پالیسیوں کو تقویت دینے کا سبب بنے ہیں ۔

1979 کے رجیم تبدیلی کے بعد ایران کا سب سے بڑا علاقائی دشمن عراق کا صدر صدام حسین تھا۔ جب امریکہ نے 2003 میں صدام حکومت کو گرا کر عراق پر قبضہ کیا، تو بظاہر ایران اور امریکہ دو دشمن تھے، لیکن عراق میں نئی بننے والی شیعہ اکثریتی حکومت کو ایران کی پشت پناہی حاصل تھی جبکہ امریکہ نے اسی حکومت کی مدد سے اپنی افواج کو زمین پر جمایا۔ یوں عراق میں ایک ایسی حکومت قائم ہوئی جو بیک وقت امریکی تحفظ میں اور ایرانی اثر میں پروان چڑھی۔ دونوں دشمن کہلانے والے ممالک نے درپردہ مفادات کا اشتراک کیا۔

اسی طرح 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے وقت ایران نے طالبان کی مخالفت میں امریکی موقف سے ہم آہنگی دکھائی۔ کچھ رپورٹس کے مطابق شمالی اتحاد کو ایرانی پشت پناہی حاصل تھی جبکہ چور دروازے سے طالبان کی بھی حمایت کرتے رہے ۔ جبکہ امریکہ اس اتحاد کو طالبان کے خلاف استعمال کر رہا تھا۔ ایران نے اس وقت اپنی پرانی دوست طالبان کو کمزور کرنے میں غیر علانیہ امریکی ایجنڈے کی مدد کی۔

2014 میں داعش کے خلاف میدان جنگ بھی ایسا مقام بن گیا جہاں ایران اور امریکہ دونوں ایک جیسے ہدف پر اکٹھے ہو گئے۔ عراق اور شام میں ایرانی قدس فورس اور امریکی اتحادی افواج بظاہر علیحدہ علیحدہ، مگر حقیقت میں ایک دوسرے کے لیے راستہ ہموار کرتے رہے۔ داعش کے خلاف ایرانی ملیشیاؤں کی کامیابی امریکی مفاد میں بھی تھی، کیونکہ یہ دہشتگرد گروہ نہ صرف ایران بلکہ امریکی تنصیبات اور مفادات کے لیے بھی خطرہ تھا۔

2015 میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والا جوہری معاہدہ (JCPOA) ایک اور مثال ہے کہ کس طرح دونوں ریاستیں اپنے اپنے مفادات کے تحت ایک دوسرے کے قریب آئیں۔ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کر کے اقتصادی فوائد حاصل کیے جبکہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کر کے اپنی فوجی مصروفیت کو محدود کیا۔ اگرچہ اس معاہدے کو داخلی طور پر نرم رویے کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اس کے اصل فائدہ امریکہ کو حاصل ہوا جوہری ایران کا خطرہ وقتی طور پر ختم ہوا۔

2021 کے بعد افغانستان میں طالبان کی واپسی اور امریکی انخلا کے دوران ایران نے طالبان سے تعلقات استوار کیے، جو کبھی اس کا پرانا دوست تھا۔ ہزاروں افغان شیعہ مہاجرین کو ایران سے واپس دھکیلا گیا، اور طالبان کے ساتھ تجارتی و سفارتی رابطے بحال ہوئے۔ بظاہر یہ ایران کا خودمختار فیصلہ تھا، لیکن درحقیقت یہ اسی پالیسی کی تکمیل تھی جس کے تحت امریکہ خطے میں ایک قابلِ قبول طالبان حکومت دیکھنا چاہتا تھا۔

ولایت فقیہ کے نظام نے ہمیشہ اپنے داخلی بیانیے میں امریکہ کو بدترین دشمن کے طور پر پیش کیا، مگر جب بھی موقع آیا، اسی دشمن سے فائدہ اٹھانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ عوام کو جو بیانیہ دیا جاتا ہے، وہ قربانی، مزاحمت، شہادت اور مغربی سامراج کی مخالفت پر مبنی ہوتا ہے، جبکہ پس پردہ خارجہ پالیسی مکمل طور پر مفاد پرست، موقع پرست، اور بعض اوقات امریکہ نواز بھی نظر آتی ہے۔

یہ تضاد اس بات کی دلیل ہے کہ ولایتِ فقیہ کی انقلابی حکومت دراصل ایک اسٹیبلشمنٹ ہے، جو مذہب کو بطورِ ہتھیار استعمال کر کے داخلی کنٹرول حاصل کرتی ہے اور عالمی سطح پر موقع پرستی کی پالیسی اپناتی ہے۔ نہ یہ مکمل طور پر امریکہ مخالف ہے، نہ مکمل آزادی پسند۔ اس کا اصل مقصد اپنے اقتدار کا دوام ہے۔ چاہے اس کے لیے شیطان بزرگ سے خاموش مفاہمت کیوں نہ کرنی پڑے۔

لہٰذا اگر کوئی نوجوان آج بھی یہ سمجھتا ہے کہ ولایتِ فقیہ عالمی استعمار کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے، تو اسے تاریخ کے ان اوراق کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت ہے جن میں دشمنی کے نعرے اور مفاہمت کے معاہدے ساتھ ساتھ درج ہیں۔ یہ نعرے عوام کے لیے ہوتے ہیں، جبکہ فیصلے امریکہ اور ایران کے درمیان پسِ پردہ مفادات کی بنیاد پر طے ہوتے ہیں۔ 2025 کے بارہ روزہ جنگ کے بعد گزشتہ روز ایرانی صدر خود بیان جاری کر چکے ہیں کہ خامنہ ای امریکی سرمایہ کاری کا ایران میں ہونے کو خوش آئندہ قرار دیتے ہیں ۔ رجیم اپنی مفادات کے دفاع کیلئے مذہب کا سیاسی استعمال کرکے غیر ایرانی شیعہ اقوام کی مکمل استحصال کرنے کی کوشش کر رہے جبکہ امریکہ کے ساتھ جہاں اسے اپنا منافع نظر آئے سمجھوتہ کرنے سے ہرگز گریز نہیں کرتے ۔
اس میں سبق ہے غیر ایرانی شیعہ برادری کیلئے جو ولایت فقہ کیلئے خود کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں ۔ ولایت فقہ جو ہمیشہ سے ایرانی مفادات کیلئے امریکہ سے مفاہمت کرتے رہے ہیں اور آمریکی سامراج کو مضبوط کرتے رہے ہیں اور شیطان بزرگ کا پس پردہ دوست رہا ہیں۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Melbourne?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Melbourne
Melbourne, VIC