Funpaaray
آرٹسٹ | اردو زبان | فنونِ لطیفہ | سیر و سیاحت | بھولی بسری یادیں | کھٹی میٹھی باتیں | فن پارے
22/05/2026
آج لندن کے تاریخی علاقے گرینچ (Greenwich، وہ مقام جہاں سے GMT یعنی Greenwich Mean Time اور دنیا کے وقت کا آغاز مانا جاتا ہے) جانا ہوا، تو دریائے ٹیمز کے کنارے کٹی سارک (برطانیہ کا مشہور تاریخی بادبانی جہاز) کے قریب یہ دیوہیکل لنگر اور اس کی بھاری زنجیریں دیکھ کر رکنا پڑا۔
چند تصویریں لیں، پھر دل کیا کہ اس جگہ کے بارے میں کچھ معلومات بھی اکٹھی کی جائیں تاکہ آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کی جا سکیں۔ کٹی سارک کی اپنی تاریخ بھی انتہائی دلچسپ ہے، لیکن اس کے متعلق تفصیل سے پھر کبھی الگ پوسٹ میں بات کریں گے۔ آج صرف اس لنگر اور اس کے پس منظر کی بات کرتے ہیں۔
یہ جگہ “اینکر آئرن وارف” کے نام سے جانی جاتی تھی۔ کئی سو سال پہلے یہاں جہازوں کے لیے لوہا، سیسہ، دھات اور دوسری بھاری چیزیں لائی اور بھیجی جاتی تھیں۔ اُس وقت گرینچ اور دریائے ٹیمز برطانیہ کی تجارت کا بہت اہم مرکز تھے، اور دنیا بھر سے آنے والے جہاز یہاں رکا کرتے تھے۔
تصاویر میں نظر آنے والی یہ زنجیریں اور لنگر عام سائز کے نہیں بلکہ دیوہیکل بحری جہازوں کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اندازہ ہے کہ اس قسم کے لنگر کئی ٹن وزنی ہوتے تھے، جبکہ زنجیر کی ایک ایک کڑی بھی کئی کئی سو کلو وزن رکھتی تھی۔ اُس دور میں ایک مضبوط لنگر جہاز کی زندگی سمجھا جاتا تھا، کیونکہ سمندر میں طوفان کے دوران اگر لنگر یا زنجیر ٹوٹ جائے تو پورا جہاز خطرے میں پڑ سکتا تھا۔
یہاں موجود تختی کے مطابق، اس علاقے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ پہلے یہ زمین مذہبی اداروں کے پاس رہی، پھر مختلف تاجروں اور لوہا بنانے والوں نے یہاں کام شروع کیا۔ بعد میں یہ جگہ جہازوں کے سامان اور بھاری دھاتوں کی تجارت کے لیے مشہور ہو گئی۔
آج لوگ یہاں کھڑے ہو کر صرف تصویریں بناتے ہیں، لیکن اگر چند لمحے رک کر سوچا جائے تو یہی جگہ کبھی شور مچاتے مزدوروں، بھاپ چھوڑتے جہازوں، لوہے کی ٹکراتی زنجیروں اور دنیا بھر سے آنے والے سامان سے بھری رہتی ہوگی۔ گرینچ کی خوبصورتی صرف اس کے نظاروں میں نہیں، بلکہ ایسی تاریخی چیزوں میں بھی چھپی ہوئی ہے جو خاموش رہ کر بھی سینکڑوں سال پرانی کہانیاں سناتی ہیں۔
تاریخ اپنے اندر عجیب کشش اور دلچسپی سموئے ہوتی ہے۔ اس طرح کی چیزیں دیکھ کر انسان کا دل خود بخود چاہتا ہے کہ ان کے متعلق مزید سے مزید معلومات حاصل کی جائیں، یہ جانا جائے کہ یہاں کون لوگ آتے تھے، کیا ہوتا تھا، اور یہ سب کچھ کس دور سے گزر کر آج ہم تک پہنچا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان میں بھی بے شمار ایسے تاریخی علاقے، قلعے، بندرگاہیں، پرانی عمارتیں اور آثار موجود ہیں جن کے اندر صدیوں پرانی کہانیاں آج بھی خاموشی سے محفوظ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ایسی تاریخی چیزوں کو سنبھال کر رکھا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں بہت سی خوبصورت اور قیمتی نشانیاں آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں، ان پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جس کی وہ حقیقتاً مستحق ہیں۔
پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔
دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن
20/05/2026
ایک طرف دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اربوں ڈالر خرچ کر کے جدید سب میرینز بناتی ہیں، اور دوسری طرف چین کے ایک 60 سالہ کسان نے صرف 700 ڈالر سے اپنی ذاتی سب میرین بنا ڈالی۔
جی ہاں، چین کے صوبے Anhui سے تعلق رکھنے والے ژانگ شینگ وو نامی شخص نے ایک ایسی homemade submarine تیار کی جو تقریباً 26 فٹ گہرائی تک پانی میں جا سکتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ کوئی انجینئر نہیں، بلکہ ایک عام کسان اور دریا کنارے کام کرنے والا شخص ہے۔ کہانی 2014 میں شروع ہوئی، جب اس نے ٹی وی پر homemade submarines کے بارے میں ایک پروگرام دیکھا۔ اس نے ساری زندگی کشتیوں، لکڑی اور دھات کے ساتھ کام کیا تھا، مگر اس کے ذہن میں ایک سوال اٹک گیا کہ اگر کشتی پانی پر چل سکتی ہے تو اپنی بنائی ہوئی مشین پانی کے نیچے کیوں نہیں جا سکتی؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف ایک مشین بنانا نہیں تھا۔ ژانگ ہمیشہ سے پانی، کشتیوں اور دریا کی زندگی سے متاثر تھا۔ وہ خود اس سب میرین میں بیٹھ کر پانی کے اندر جانا چاہتا تھا، اس تجربے کو محسوس کرنا چاہتا تھا، اور اپنی بنائی ہوئی مشین کو حقیقت میں کام کرتے دیکھنا چاہتا تھا۔ ایک طرح سے یہ اس کے لیے شوق بھی تھا، تجسس بھی، اور اپنی صلاحیت آزمانے کا جنون بھی۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ ایک خواب میں بدل گئی۔
اس نے اپنی چھوٹی سی ورکشاپ میں لوہے کی پلیٹیں، بیٹریاں، انجن اور مختلف پرزے جمع کرنا شروع کیے۔ مہینوں کی محنت کے بعد پہلی سب میرین تیار ہوئی، لیکن پہلی کوشش ناکام رہی۔ سب میرین پانی میں اتری تو اس میں لیکیج شروع ہو گئی۔ پانی اندر آنے لگا، اور ژانگ کے مطابق وہ لمحہ “خوفناک بھی تھا اور خواب جیسا بھی”۔ اکثر لوگ شاید وہیں ہار مان لیتے، مگر اس شخص نے ہمت نہیں ہاری۔
بعد میں اس نے ڈیزائن بہتر کیا، ویلڈنگ مضبوط کی، سلیکون اور خاص adhesive استعمال کیے تاکہ پانی اندر نہ آ سکے۔ اس نے ballast tanks بھی شامل کیے، جو سب میرین کو پانی میں ڈبونے اور دوبارہ اوپر لانے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کی نئی سب میرین “Big Black Fish” پہلے سے کہیں بڑی اور زیادہ محفوظ ہے۔ یہ تقریباً 23 فٹ لمبی، 6 فٹ اونچی، اور کئی ٹن وزنی ہے، جبکہ دو افراد کو لے کر دریا میں باقاعدہ dive بھی کر سکتی ہے۔
سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ژانگ نے یہ سب کچھ کسی بڑی لیبارٹری یا یونیورسٹی میں نہیں کیا۔ نہ اس کے پاس کوئی بڑی ٹیم تھی، نہ کروڑوں کا بجٹ۔ صرف تجسس، مسلسل تجربات، اور ضد۔ ماہرین کے مطابق homemade submarines انتہائی خطرناک ہو سکتی ہیں، کیونکہ پانی کا دباؤ بہت تیزی سے بڑھتا ہے اور ذرا سی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ژانگ نے اپنی ہر ناکامی کے بعد ڈیزائن مزید بہتر کیا۔
اب وہ اس سے بھی بڑی اور زیادہ advanced سب میرین بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سوشل میڈیا پر لوگ اس شخص کو “crazy inventor” بھی کہہ رہے ہیں اور “real-life engineer” بھی۔ سچ یہ ہے کہ بعض اوقات دنیا کے سب سے حیران کن آئیڈیاز کسی بڑی کمپنی سے نہیں، بلکہ ایک عام انسان کے ذہن سے نکلتے ہیں۔
پوسٹ اچھی لگے تو آگے تک ضرور پہنچائیے۔
دعا کا طالب
محمد عظیم حیات
لندن
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Erith