Toor-e-Seena

Toor-e-Seena

Share

It's a Personal Initiative To Convey The Message Of Islam To People. In Urdu & English. "And Remined,
indeed, A reminder benefits The Beleivers". (51:55)

26/08/2019

اُن خوش قسمت خواتین کے لئے
جنھوں نے قرآن کو سنا تو کہا:
اٰمــنّا و صدّقــنا

اور اب جن کے لئے قرآن کا مطالبہ ہے کہ ان کے اعمال اس کی گواہی دیں کہ:

سمعــنا و اطعــنا

قســـط # 4
✒: ام حمزہ

حقیقی ایمان کی قرآنی دعوت:

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اٰمِنُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَالۡكِتٰبِ الَّذِىۡ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوۡلِهٖ
(النساء :136)
"اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر
اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر نازل کی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو ہی ایمان لانے کی دعوت دی ہے یعنی حقیقی ایمان کی۔ یہی شعوری ایمان اللہ کے ہاں معتبر ہے اور اسی ایمان کے حصول کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ ہمیں ایسے ایمان کو پانے کے لئے قرآن و سنت کے تمام کے تمام احکامات (فرائض) کو سمجھنا، عمل کرنا اور قول و فعل سے آگے پہنچانا ہوگا۔

"یہ قرآن تو ایک نعمت ہے اب جو چاہے اس کے ذریعے اپنے رب کی راہِ ہدایت اختیار کر لے۔" (73:19)

"لوگو! یہ قرآن ایک نصیحت ہے، اب جو شخص چاہیے اپنے رب کا سیدھا راستہ اختیار کر لے۔" (76:29)

*ابلاغِ قرآن میں خواتین کا کردار :*
دورۂ قرآن کے ذریعے قرآن کی پکار پر لبیک کہنے والوں میں جہاں مَردوں کی ایک کثیر تعداد ہے وہاں خواتینِ اسلام بھی مصروفِ عمل نظر آتی ہیں کیونکہ ہر وہ حکم جو عقائد، ایمانیات اور اخلاقیات سے متعلق ہے وہ مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کے لئے بھی ہے۔
امتِ مسلمہ کی اکثریت دل سے اسلام کی بالادستی اور قرآن و سنت کی رہنمائی کے مطابق زندگی گزارنے کی تمنّا رکھتی ہے لیکن قرآن سے دوری کی وجہ سے اپنی حقیقی منزل کا تعین کرنے سے محروم ہے۔ مسلمان چاہتے ہیں کہ مسلمان بنیں لیکن غیر اسلامی روش پر معاشرے کے سامنے خود کو بے بس پاتے ہیں۔ یہ بے بسی قرآن ہی کی رہنمائی میں دور ہو سکتی ہے۔ اس قرآنی نور سے جب تک پہلے اپنے گھروں کو منور نہیں کیا جائے گا، معاشرے سے جہالت کا اندھیرا نہیں ہٹے گا۔
گھر کا یہ محاذ حاکمِ مطلق نے عورت کے ذمے کیا ہے۔ وہ محاذ جس سے ہٹنے کی وجہ سے آج دشمن ہمارے مسلم معاشرے میں نقب لگانے میں کامیاب نظر آتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ مسلمان عورت جو اپنے رب کریم کے پیغام کو سمجھنے کے بعد ہر ہر حکم پر دل سے
اٰمـنا و صدّقــنا کہتی ہو تو اب دل کی اس پکار پر حقِ بندگی ادا کرتے ہوئے اُسے اگلا قدم
سمعـنا و اطعــنا کا اٹھانا ہے اور پورے ایمان و یقین اور قوت کے ساتھ اس پیغام کو نہ صرف اپنے نفس پر نافذ کرنا ہے بلکہ مسلم معاشرے کی اس اکائی "گھر" کو واپس اُس کھوئے ہوئے باوقار مقام پر لانا ہے جو اشرف الکونین نبیِ اکرم ﷺ عطا کر کے گئے تھے۔
قرآن مجید پر ایمان لانے کے بعد سنتِ رسول ﷺ کی روشنی میں اپنے لئے راہِ عمل تلاش کرنے والی باقسمت خواتین کے دائرہِ کار اور مسؤلیت کا تعین کرنے کے لیے ہم قرآنی احکامات کو بلحاظِ ذمہ داری خواتین کے چار ادوار میں تقسیم کرکے دیکھتے ہیں تاکہ ہمیں دینی فرائض کا وہ جامع تصور نظر آجائے جو حقِ بندگی ادا کرنے میں معاون ہو سکے۔

جاری ہے،،،،

=====================

Want your school to be the top-listed School/college in Hendon?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Hendon