Muhammad Usman

Muhammad Usman

Share

اسلامک پیج اسلامک ویڈیوز اسلامک ڈیٹا اصلاح کی ویڈیوز بیان قول اقوال ۔۔۔�

Photos from Muhammad Usman's post 29/08/2025

جب بھی ملک پر کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو کچھ لوگ اپنا کام چھوڑ کر مذہب اور اولیاء کرام پر بے جا تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں بھی بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر اولیاء کرام سچے ہیں تو کرامت دکھا کر سیلاب روک کیوں نہیں دیتے؟ یا مزارات پر پانی کیوں آ گیا ؟

ایسی بات کرنا حقیقت میں لا علمی اور جہالت ہے۔

قرآن پاک میں کرامات کا ذکر موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَـٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ اللَّهِ
(سورۃ آلِ عمران 37)
"جب بھی زکریا علیہ السلام ان کے پاس محراب میں جاتے تو وہاں انہیں کھانے پینے کا سامان ملتا۔ وہ پوچھتے اے مریم! یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ تو وہ جواب دیتیں: یہ اللہ کی طرف سے ہے۔"

یہ صریح کرامت ہے کہ بی بی مریمؑ کے پاس بے موسم رزق آتا تھا۔
اسی طرح حضرت آصف بن برخیاہؒ کے بارے میں فرمایا:
قَالَ الَّذِي عِندَهُ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتَابِ أَنَا آتِيكَ بِهِ قَبْلَ أَن يَرْتَدَّ إِلَيْكَ طَرْفُكَ ۚ
(سورۃ النمل 40)
"وہ شخص جس کے پاس کتاب کا تھوڑا سا علم تھا، بولا: میں تخت (بلقیس) آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔"
یہ بھی کرامت ہے جو قرآن نے بیان کی۔
اب حدیث مبارکہ پر غور کریں:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اِتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ"
(ترمذی، حدیث 3127)
"مؤمن کی فراست سے بچو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔"
یہ دراصل اولیاء اللہ کے باطنی کمالات اور کرامات کی طرف واضح اشارہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر کرامات حق ہیں تو پھر اولیاء اپنے مزارات یا شہروں کو آفات سے کیوں نہیں بچا لیتے؟
تو میرے بھائی اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ دنیا اللہ کے بنائے ہوئے قوانینِ قدرت کے تحت چل رہی ہے۔ اگر یہ اعتراض درست ہو تو پھر یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ مسجدیں کیوں شہید ہو جاتی ہیں ؟ حالیہ سیلاب میں درجنوں مساجد شہید ہوگئیں اگر کوئی کہے تو میں ویڈیوز پیش کر سکتا ہوں، حالانکہ وہ اللہ کا گھر ہیں۔ حج کے دوران بیت اللہ شریف میں بھی کئی حادثے ہو چکے جن میں سینکڑوں حجاج شہید ہوئے، حالانکہ وہ اللہ کے مہمان تھے۔ کیا کعبہ معظمہ میں سیلاب نہیں آیا ؟
اخبارِ مکہ (مصنف: الفاکہی) میں بیان ہے کہ جب سیلاب نے خانہ کعبہ کو ڈھانپ لیا تو لوگوں نے طواف ترک کر دیا، لیکن حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے تیر کر طواف کیا ۔
اسی بات کو ابن ابی الدنیا نے بھی نقل کیا ہے کہ جب سیلاب نے بیت اللہ کو گھیر لیا، تو حضرت عبداللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہ نے "تیر کر طواف" کیا ۔ غور فرمائیں کہ اتنا سیلاب آیا کہ سب نے طواف ترک کردیا۔
1941ء کے سیلاب کے دوران بھی ایسا واقعہ پیش آیا، جب ایک بحرینی نوجوان علی العوضی (Sheikh Ali Al-Awadi) نے بحرِ طواف یعنی ماءِ طواف کے اندر تیر کر خانہ کعبہ کا طواف کیا۔
تصویر شیئر کرتا ہوں جس میں 12-سال کے علی العوضی کو نصف جسم پانی میں ڈوبا ہوا دکھایا گیا ہے جب وہ طواف کر رہے تھے ۔

اصل بات یہ ہے کہ:

اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، مگر اس نے دنیا کو ایک خاص نظام کے تحت چلانا ہے۔

ولی کبھی اپنے مطالبے پر کرامت نہیں دکھاتا، بلکہ اگر اللہ چاہے تو ان کی دعا قبول فرما کر اپنی قدرت کا اظہار کر دیتا ہے۔
اور یاد رکھیں! کرامت ہمیشہ اللہ کے اذن اور قدرت سے ہوتی ہے، ولی محض وسیلہ ہوتا ہے۔
حضرت سلطان باھوؒ عین الفقر میں فرماتے ہیں:
"ولی کرامت کو اس طرح چھپاتا ہے جس طرح عورت حیض کے کپڑے چھپاتی ہے۔"
یعنی اللہ عزوجل کے ولی کے نزدیک اصل چیز معرفتِ الٰہی ہے، کرامت نہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ کرامت حق ہے، مگر یہ اللہ کی عطا ہے، نہ کہ ولی کی مرضی۔ اور کسی آفت کے وقت اولیاء کرام پر اعتراض کرنا دراصل قرآن و سنت کے بیان کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور نری جہالت ہے۔!!!!

12/08/2025

زندگی کٹھن ہی ہوتی ہے چاہے امیر کی ہو یا غریب کی ،

دونوں ہی اس کو بہتر کرنے کی جدوجہد میں لگے رہتے ہیں اپنی زندگی میں آسانی سے آسانی پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، سکون دونوں ہی نہیں پاتے اپنی جدو جہد کو ادھورا چھوڑ کر دونوں ہی چلتے بنتے ہیں ،

بابا جان کہنے لگے ، کہ وقاص میاں آدمی اپنی پوری زندگی کا مطالعہ کرے تو کوئی کام بھی یہ اپنی مرضی سے نہیں کر پاتا ، یہ بات سن کر مجھے دھچکا لگا کہ بابا جان یہ کیا فرما رہے ہیں بہرحال جواب خود جاننے کی غرض سے میں چلتا بنا ، کہ اس کا جواب مجھے خود سے یا اس جہان سے مل جائے گا ، اسی کشمکش میں ،میں اپنے دوست کہ پاس چلا گیا مجھے اس نے کہا تھا کہ اس وقت تک آجانا میں تمہارے ساتھ کہیں چلوں گا ، میں اس کے کہے گے وقت پر اس کے پاس حاضر ہو گیا ، اس کے پاس پہنچا تو دوست اپنے کام میں مصروف تھا ، جا کے بیٹھ گیا ،بیٹھا رہا ، کافی دیر بیٹھا رہا ، کافی وقت گزر گیا،، پوچھا بھائی کب چلنا ہے ، بولا بس کچھ دیر اور ، تھوڑا وقت اور گزر گیا ، اور بابا جان کی کہی ہوئی بات میری آنکھوں کے سامنے تھی، میں سمجھ گیا تھا، کہ صرف میرا ارادہ معنی نہیں رکھتا ،

01/07/2025

گاہک نے دکان میں داخل ہو کر دکاندار سے پوچھا: کیلوں کا کیا بھاؤ لگایا ہے؟ دکاندار نے جواب دیا: کیلے 12 درہم اور سیب 10 درہم۔

اتنے میں ایک عورت بھی دکان میں داخل ہوئی اور کہا: مجھے ایک کیلو کیلے چاہیئں، کیا بھاؤ ہے؟ دکاندار نے کہا: کیلے 3 درہم اور سیب 2 درہم۔ عورت نے الحمد للہ پڑھا۔

دکان میں پہلے سے موجود گاہک نے کھا جانے والی غضبناک نظروں سے دکاندار کو دیکھا، اس سے پہلے کہ کچھ اول فول کہتا: دکاندار نے گاہک کو آنکھ مارتے ہوئے تھوڑا انتظار کرنے کو کہا۔

عورت خریداری کر کے خوشی خوشی دکان سے نکلتے ہوئے بڑبڑائی: اللہ تیرا شکر ہے، میرے بچے انہیں کھا کر بہت خوش ہونگے۔

عورت کے جانے کے بعد، دکاندار نے پہلے سے موجود گاہک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا: اللہ گواہ ہے، میں نے تجھے کوئی دھوکا دینے کی کوشش نہیں کی۔

یہ عورت چار یتیم بچوں کی ماں ہے۔ کسی سے بھی کسی قسم کی مدد لینے کو تیار نہیں ہے۔ میں نے کئی بار کوشش کی ہے اور ہر بار ناکامی ہوئی ہے۔ اب مجھے یہی طریقہ سوجھا ہے کہ جب کبھی آئے تو اسے کم سے کم دام لگا کو چیز دیدوں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کا بھرم قائم رہے اور اسے لگے کہ وہ کسی کی محتاج نہیں ہے۔ میں یہ تجارت اللہ کے ساتھ کرتا ہوں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا طالب ہوں۔

دکاندار کہنے لگا: یہ عورت ہفتے میں ایک بار آتی ہے۔ اللہ گواہ ہے جس دن یہ آ جائے، اُس دن میری بکری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کے غیبی خزانے سے منافع دو چند ہوتا ہے۔

گاہک کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اُس نے بڑھ کر دکاندار کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے کہا: بخدا لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں جو لذت ملتی ہے اسے وہی جان سکتا ہے جس نے آزمایا ہو۔

30/06/2025

کبھی اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھوں تو وہ بتاتے ہیں کہ پرانے زمانے میں جب لائٹ نہیں ہوا کرتی تھی تو رات کو اتنا اندھیرا ہوجاتا تھا کہ اپنے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے ۔

تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اندھیرا تو اتنا ہے کہ انسان جس وجود پر جس وجود کے ہونے پر اتنا غرور کرتا ہے اس کوتو وہ اندھیرے میں دیکھ نہیں سکتا ، یہ تو قدرت کی مہربانی ہے کہ سورج چند گھنٹے روشنی دے کر ہمیں اندھیرے میں اس لئے چھوڑ جاتا ہے کہ ہم اپنا دیا جلا سکیں ،اپنی ذات کو دیکھ سکیں اور ہم نے روشنی تو پیدا کی مگر دوسروں کو دیکھنے کے لئے------- اپنی ذات کا ااندھیرا ختم نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔ چراغ دل کا جلاو بہت اندھیرا ہے۔!!!

Want your business to be the top-listed Business in London?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Street 1
London
38000