Info Time
دنیا بھر کی خبریں اور معلومات جو آپ کو آگاہی دیں
News and information around the world.
23/02/2026
سٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی کا رجحان جاری: گذشتہ ایک ماہ میں 100 انڈیکس میں 21000 پوائنٹس سے زائد کی کمی
پاکستان سٹاک ایکسچینج میں سوموار کے روز بھی شدید مندی کا رجحان ریکارڈ کی گیا ہے اور کاروبار کے اختتام تک 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 5478 پوائنٹس تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی جانب سے حصص کی فروخت کے رجحان کی وجہ سے پیر کے روز 100 انڈیکس 167691 پوانٹس کی سطح پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی روز سے مسلسل مندی کار جحان ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس کی وجہ جیو پولیٹیکل صورتحال کے علاوہ لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے اعلان کیے جانے والے مالیاتی نتائج میں توقع سے کم گروتھ اور منافع ہے جس میں تیل و گیس کے شعبے کی کمپنیوں کے نتائج اہم ہیں اور ان کے توقع سے کم منافع کی وجہ سے مارکیٹ پر ان کا کافی منفی اثر ہوا ہے۔
واضح رہے کہ سٹاک مارکیٹ اب تک ایک مہینے سے کم عرصے میں اپنی بلند ترین سطح پر جانے کے بعد اب تک 10 فیصد سے زائد تک پوائٹس کھو چکی ہے۔
ایک ماہ قبل23 جنوری 2026 کو سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 189166 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران 100 انڈیکس میں مجموعی طور پر 21475 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تجزیہ کار شہر یار بٹ نے پاکستان سٹاک ایکسچینج میں مندی کے رجحان کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں رجحان گذشتہ کئی روز سے منفی ہے۔
انھوں نے کہا کافی دن سے یہ کشیدگی چل رہی ہے جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی ہوئی ہے۔
شہر یار نے بتایا کہ خطے میں کشیدگی کی وجہ سے پاکستان سٹاک مارکیٹ سے غیر ملی سرمایہ کار نکل رہے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ صرف جمعہ کے روز غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ملکی مارکیٹ سے 19 کروڑ ڈالر سے زائد کے حصص فروخت کیے تھے۔
شہریار نے کہا جب تک امریکہ اور ایران کے درمیان تناو کی صورتحال برقرار رہتی ہے مارکیٹ دباو کا شکار رہے گی۔
شہر یار نے کہا جیو پولیٹیکل صورتحال کے علاوہ لسٹڈ کمپنیوں کی جانب سے جو مالیاتی نتائج آئے ہیں وہ اتنے اچھے نہیں رہے جس کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
تجزیہ کار کے مطابق اس وقت کوئی ایسا ٹریگر نہیں کہ جو مارکیٹ کو سپورٹ کرے۔
تجزیہ کار احسن محنتی نے بی بی سی کو بتایا کہ جیو پولیٹیکل صورتحال نے مارکیٹ میں کاروبار پر منفی اثر ڈالا ہے تاہم اس کے ساتھ ساتھ ملک میں شرح سود کے دوبارہ بڑھنے کے امکان نے بھی سٹاک مارکیٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
محنتی نے کہا سٹیٹ بینک کی جانب سے ایک سال کے بانڈ کے گذشتہ آکشن میں صورتحال شرح سود کے بڑھنے کے امکان کا ظاہر کرتی ہے۔
انھوں نے کہا رمضان کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی کا منظر نامہ متاثر ہو سکتا ہے اور مرکزی بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے جو مارکیٹ کے لیے بہت منفی ہے۔
20/02/2026
پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی، دیہات میں سطح شہروں سے دوگنی
پاکستان میں غربت کی شرح میں گذشتہ چھ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غربت کی سطح 2018-19 میں 21.9 فیصد تھی جو 2024-25 میں بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق شہروں میں غربت کی شرح 11 فیصد سے بڑھ کر 17.4 فیصد ہو گئی، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ سطح 28.2 فیصد سے بڑھ کر 36.2 فیصد تک جا پہنچی۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں غربت 16.5 فیصد سے 23.3 فیصد، سندھ میں 24.5 فیصد سے 32.6 فیصد، خیبر پختونخوا میں 28.7 فیصد سے 35.3 فیصد اور بلوچستان میں 41.8 فیصد سے بڑھ کر 47 فیصد تک ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غربت میں اضافے کی بڑی وجوہات میں کورونا وبا کے معاشی اثرات، عالمی سطح پر اجناس اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ملک میں سیلابوں سے انفراسٹرکچر کی تباہی اور لیبر مارکیٹ کی مشکلات شامل ہیں۔ مالی سال 2024 میں اجناس اور توانائی کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچیں، جس سے افراطِ زر اور اخراجات میں اضافہ ہوا۔
سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے حکومتی رپورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق عالمی بینک کی ریسرچ میں پاکستان میں غربت کی شرح 45 فیصد بتائی گئی ہے، جبکہ ان کی اپنی تحقیق کے مطابق یہ شرح 43 فیصد تک ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاشی شرح نمو میں کمی، فی کس آمدنی میں گراوٹ اور خوراک و ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے غربت کو شدید متاثر کیا ہے۔
ڈاکٹر پاشا نے تجویز دی کہ غربت میں کمی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں معاشی ترقی کی شرح کم از کم 4.5 سے 5 فیصد تک ہو، تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور آمدنی میں اضافہ ممکن ہو سکے۔
#پاکستان
#غربت
#مہنگائی
17/02/2026
محمد یونس کا الوداعی تقریر میں ’سیون سسٹرز‘ کا تذکرہ: سات ریاستوں کا ’حساس معاملہ‘ جو انڈیا کو ’بےچین‘ کر دیتا ہے
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے پیر کی شام اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے لیکن جاتے جاتے ایک بار پھر انھوں نے ایسا بیان دیا جس نے انڈیا میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اپنی الوداعی تقریر میں محمد یونس نے کہا: ’ہمارا سمندر ناصرف بنگلہ دیش کی جغرافیائی سرحد ہے بلکہ عالمی معیشت سے رابطے کا ایک دروازہ بھی ہے۔ نیپال، بھوٹان اور سیون سسٹرز اس خطے میں بے پناہ معاشی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘
یاد رہے کہ انڈیا کے شمال مشرق میں واقع سات انڈین ریاستوں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورام، ناگالینڈ اور تریپورہ کو ’سیون سسٹرز‘ (یعنی سات بہنیں) کہا جاتا ہے۔
اگرچہ محمد یونس نے ’سیون سسٹرز‘ کا ذکر کیا مگر انھوں نے انڈیا کا نام نہیں لیا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the public figure
Website
Address
Manchester