Latest Legal updates

Latest Legal updates

Share

Pakistani Community - England & Scotland
پاکستانی کمیونٹی ۔ انگلینڈ & سکاٹ لینڈ

11/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

عاق نامہ کی قانونی حیثیت ۔
"Deed Of Disheritance"

پاکستانی قانون (Pakistani Law)
سکاٹش قانون ( Scottish Law )
انگلش قانون ( English Law)

قانون کی نظر میں عاق نامے کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ عاق نامہ یا کوئی بھی ایسا اعلان یا معاہدہ جس کے تحت کسی شرعی وارث کو اسکے حق سے محروم کیا جائے تو پاکستانی قانون کی نظر میں اسکی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ والد یا والدہ کی وفات کے بعد عاق کئے گئے بیٹے ، بیٹی کو وراثت میں اتنا ہی حصہ ملے گا جتنا باقی وارثان کو ۔ پاکستانی قانون کے مطابق شرعی وارثان کی فہرست میں بیوی ، بیٹا ، بیٹی آتے ہیں اور اگر کوئی شخص لاولد ہو یعنی اسکی کوئی اولاد نہیں ہے تو اسکی وفات کی صورت میں جائیداد میں سے بیوہ کا حصہ ملنے کے بعد اس متوفی بھائیوں کی طرف جائیداد جائے گی ۔ (یہ ایک طویل فہرست ہے کہ اگر بیوی فوت ہو اور خاوند بھی فوت شد ہے تو جائیداد کیسے تقسیم ہوگی وغیرہ وغیرہ )

پاکستانی قانون کہتا ہے کہ وارثان کے حقوق منقولہ جائیداد( move able property ) یعنی رقم ،زیورات ،گاڑی اور غیر منقولہ جائیداد یعنی زمین ،پلاٹ ،مکان پر حاصل ہیں ۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے PLD 464 2013 میں قرار دیا ہے کہ عاق نامہ سے مراد یہ لیا جائیگا کہ والد یا والدہ اپنے عاق کئے گئے بیٹے ، بیٹی کے قول و فعل کے زمہ دار نہیں ہیں ۔ یعنی اگر بیٹا/بیٹی کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتے ہیں ، دھوکہ، فراڈ کرتے ہیں ، کسی کو قتل یا زخمی کرتے ہیں ، جھوٹ بول کر مفاد حاصل کرتے ہیں تو والد/والدہ ذمہ دار نہیں کیونکہ انہوں نے پہلے ہی انہی حرکات کی وجہ سے عاق کیا ہوتا ہے ۔
اعلی عدلیہ نے اپنے مختلف فیصلوں میں کہا ہے کہ اسلامی قانون میں شرعی وارث کو انکے حق سے محروم رکھنے کی گنجائش نہیں ہے ۔
صرف چند ایک صورتیں ہیں جن میں شرعی وارث کو جائیداد یا رقم میں حصہ نہیں ملتا ، وہ یہ ہیں ،
تعزیرات پاکستان کی دفعہ 317 کے تحت اگر شرعی وارث اپنے والد یا والدہ کو قتل کر دے اس صورت میں قتل کرنے والا اپنے والدین کی وراثت میں حق دار نہ ہوگا ۔
اگر بیٹا یا بیٹی بہت نافرمان ہیں تو والد / والدہ اپنی زندگی میں ہی اپنی پوری جائیداد ، پوری رقم دوسرے بیٹے /بیٹی کے نام بذریعہ رجسٹری منتقل کرسکتے ہیں ۔ اور والد، والدہ اپنی زندگی میں کسی غیر وارث کو اپنی تمام جائیداد ، رقم گفٹ/ ہبہ کرسکتے ہیں ۔
بعض اوقات عاق نامہ کا غلط استعمال بھی کیا جاتا ہے ۔ دشمن دار لوگ کسی کو باقاعدہ منصوبے کے تحت قتل کرنے سے پہلے اپنے اس بیٹے کو عاق کردیتے ہیں تاکہ پولیس اگر ان سے پوچھ گچھ کرے اور قتل کی سازش اور قتل میں مدد دینے کے جرم میں پوچھنے آئے تو وہ کہہ دیں کہ ہم نے تو اس کی انہی حرکتوں کی وجہ سے پہلے ہی عاق کیا ہوا ہے ہمیں کیا پتہ کہ وہ اب کہاں ہے یا بڑی رقم کے فراڈ سے پہلے بھی ایسا ہی کچھ حل نکال لیا جاتا ہے ۔
( جاری ہے )

10/04/2024

سکاٹ لینڈ کی ڈائری از قلم طارق چوہدری

عدلیہ آزاد ہے۔۔۔ یہ متحدہ برطانیہ ہے

میں ایک چھوٹے سے ذاتی تجربے سے بات شروع کرتا ہوں۔
یہ کوئی 12/13 سال پرانی بات ہے جب کہ میں اور میرے ساتھ کورن ٹمسن امیگریشن بیرسٹر( یہ Mr.Ian Mcdonald،کوئینز چیمبر یعنی ملکہ برطانیہ کے وکلاء کی ٹیم کے ممبر تھے کے شاگرد اور ڈیوٹی امیگریشن جج بھی تھے ) امیگریشن فرسٹ ٹائیر ٹربیونل مانچسٹر میں Mrs. Timpson امیگریشن جج کی عدالت میں پیش ہوئے تھے۔دوران کیس سماعت لیڈی جج صاحبہ نے ہم سے ایک پوائنٹ بارے پوچھا کہ آپ نے اپیل میں ایسا لکھا ہے اس کی اگر ہم مزید وضاحت کردیں۔ کورن ٹمسن نے مزید کچھ ڈاکومنٹس دینا چاہیے اور لمبی تفصیل بتانا چاہی تو لیڈی جج صاحبہ نے کہا کہ وہ گھر سے فائل پڑھ کر آئی ہیں بس اسی پوائنٹ کی ہی وضاحت کردیں۔ ہم نے ایسا کردیا۔پھر انہوں نے گورنمنٹ کے وکیل سے پوچھا آپ اس پوائنٹ کے خلاف کچھ کہنا چاہتے ہیں۔اس نے کہا کہ میں نے فائل ٹھیک سے نہیں پڑھی اگر مجھے ایک موقع دے دیا جائے تو میں وضاحت کر سکتا ہوں۔ لیڈی جج صاحبہ نے غصے سے کہا کہ اگر میں فائل پڑھ کر آسکتی ہوں تو آپکو بھی اسی بات کی تنخواہ ملتی ہے۔ آپ کو میں دوسروں کا ٹائم ضائع کرنے کی اجازت نہیں دوں گی۔ بھری عدالت میں ہی حکومت کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے ہماری اپیل منظور کر دی اور ساتھ ہی کہا کی میرا جی چاہتا ہے کہ سائل کا وقت ضائع کرنے پر حکومت کو جرمانہ بھی عائد کروں۔۔۔ لیڈی جج صاحبہ جانتی تھی کہ عدلیہ آزاد ہے اور وہ ایسا کر سکتی ہیں۔

موجودہ برسراقتدار ٹوری پارٹی اپنی حکومت کے آغاز سے ہی امیگرینٹس اور امیگریشن کو لیکر خاصی چلچلا کر رہی تھی۔ وزیراعظم ٹریسا مے نے سنہ 2012 میں اور پھر جون 2014 میں امیگریشن قوانین تبدیل کرکے امیگریشن کی ہسٹری بدل کے رکھ دی تھی۔ آئے روز غیر قانونی امیگرینٹس کی پکڑ دھکڑ، سڑکوں بازاروں میں ویزہ چیکنگ، غیر ملکییوں کی رہائش کے قوانین کی تبدیلی و جرمانے۔ غرض کی اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ایک بہت بڑے بحری جہاز میں جو کہ بغیر انجن کے، بغیر چپووں کے ہو اس میں تمام غیر ملکییوں کو بٹھا کر کھلے سمندر میں چھوڑ آئے۔ پھر باری آتی ہے پریتی پٹیل کی . یہ ہوم سیکرٹری(وزیر داخلہ ) بنی۔ " امیگرینٹس کو نکالو " کی پالیسی کو آگے بڑھاتی ہے۔ کہتی تھی جو لوگ سیاسی پناہ کا کیس دائر کرتے ہیں وہ زیادہ تر بوگس ہوتے ہیں، ملک پر بوجھ ہیں۔ اس نے امیگریشن قانون کی ایک شق کہ " اگر کوئی شخص سیاسی پناہ کا کیس دائر کرتا ہے اور وہ ملک اسکو اپنے ملک نہ رکھنا چاہتا ہو اور اس شخص کو اسکے اصلی ملک نہ بھیجا جا سکتا ہو تو وہ ملک اسے کسی تیسرے محفوظ ملک میں بھیج سکتا ہے " کا سہارا لیکر افریقی ملک روانڈا سے بطور " تیسرا محفوظ ملک " معاہدہ کرتی ہے۔ دلیل یہ بھی دیتی ہے کی روانڈا کے کسی بھی ملک سے Extradition یعنی ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے لہذا کوئی بھی ملک روانڈا سے ان مطلوب لوگوں کو حاصل نہیں کر سکتا۔ لہذا محفوظ ملک ہے۔ اس مد میں اس نے 140 ملین پاؤنڈ بھی روانڈا کو خوراک، رہائش، ٹریول اور سیکیورٹی کی مد میں ادا کئے۔وہاں شاندار اپارٹمنٹ بنائے گئے۔ پالیسیاں ترتیب دی جانے لگیں۔ پریتی پٹیل کے بعد نئی آنے والی ہوم سیکرٹری شویلا برینرمن، انڈین نژاد بھی اس مشن کو لیکر آگے آئیں۔عام غیر ملکی ان باتوں کو لیکر پریشانی کے عالم میں تھا۔ " اب تیرا کیا ہو گا کالیا " والا معاملہ بن چکا تھا۔ روز مرہ کی گفتگو میں یہی نئے امیگریشن کے قانون زیر بحث رہتے تھے۔ حکومت کو معلوم تھا کہ وکلاء کسی ایک نقطے کو پکڑ کر اس قانون کی دھجیاں بکھیر سکتے ہیں اور ایسا ہی ہوا۔ مئی 2022 میں ایران، عراق، شام ،ویت نام، سوڈان اور البانیہ کے دس سیاسی پناہ گزینوں کے کیس خارج ہوئے اور حکومت نے انہیں روانڈا بھیجے جانے کی تیاری شروع کر دی ۔ ان لوگوں نے سیاسی پناہ کرنے والے لوگوں کی مدد کرنے والی NGO "اسائیلم ایڈ" سے مدد مانگی جس نے انکی ایما پر ستمبر 2022 میں ہائیکورٹ میں کیس بعنوان
AAA and other
Vs
The secretary of the state for the Home Office

دائر کردیا۔ جسکی سماعت لارڈ جسٹس لوئیس اور مسٹر جسٹس سوئفٹ نے کی ۔جسکا فیصلہ اس پوائنٹ پر کہ " روانڈا کے کسی بھی ملک سے ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ نہیں ہے " ان اسائیلم والوں کے خلاف آیا۔ اسکی اپیل سپریم کورٹ(کورٹ آف اپیل ) میں دائر کردی گئی. جسکی سماعت ماسٹر آف دی رول سر جیفری ووس اور لارڈ جسٹس انڈرہل، دی وائس پریذیڈنٹ آف دی کورٹ آف اپیل( سپریم کورٹ ) نے کی یہ سماعت 24 اپریل سے 27 اپریل 2023 تک مسلسل چار دن جاری رہی۔ اس میں وکلاء نے دیگر پوائنٹس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ حکومت کی روانڈا پالیسی یورپی ہیومن رائٹس کنونشن کے آرٹیکل 3 کی خلاف ورزی ہے۔ روانڈا میں بذات خود لاقانونیت ہے۔ وہاں قانون شکنی عام ہے ۔نیا جانے والا شخص وہاں خود کو غیر محفوظ تصور کرے گا۔اس کیس میں انسانیت کی اہمیت کا اندازہ اس بات لگائیں کہ اس کیس میں UNHCR یعنی یونائٹڈ نیشن ہائی کمشنر فار ریفیوجی کو بھی خصوصی پارٹی بنا کر اسے اپنی سفارشات عدالت میں جمع کرانے کی اجازت دی گئی ۔ جس کی سفارشات سے اپیل کنندگان کے کیس میں مزید مضبوطی آئی۔
بروز جمعرات 29 جون 2023 کو معزز کورٹ آف اپیل(سپریم کورٹ ) نے حکومتی پالیسی برائے روانڈا اسائیلم سیکر کو روک دیا اور کہا اس پالیسی میں جب تک سقم دور نہیں کئے جاتے، اسائیلم سیکر روانڈا نہیں بھیجے جا سکتے اور یوں غیر ملکی لوگ جو پچھلے دو سال سے تناو کا شکار تھے پرسکون ہوگئے۔
معزز کورٹ آف اپیل نے اپنے فیصلے کے آخری پیراگراف میں یہ بھی کہا کہ ہم نے اسائیلم پالیسی کو روکا ہے حکومت برطانیہ اور روانڈا حکومت کے مابین جو بھی معاہدہ ہوا ہے اس فیصلے کا اس ہر اطلاق نہیں ہوگا، حکومت برطانیہ جانے اور روانڈا حکومت جانے۔البتہ برطانوی حکومت اپنی اسائیلم پالیسی درست کرے۔
سویلا بنرمین، ہوم سیکرٹری نے اپنے بیان میں کہا کہ عدالت کے اس فیصلے نے انہیں مایوس کیا ہے۔حکومت عدالت کے اس فیصلے سے اختلاف کرتی ہے کیونکہ حکومت برطانیہ ہرروز 6 ملین پاؤنڈ اسائیلم سیکر کی رہائش کی مد میں ادا کر رہی ہے جو کہ ٹیکس پئیرز کی رقم ہے۔ اور بوگس اسائیلم سیکر پر نہیں خرچ ہونی چاہیے۔
ان مغربی ممالک میں نہ تو وکلاء کی جیت ہوتی ہے اور نہ ہی عدالتیں جیتتی ہیں۔بس ان دونوں کے ذریعے انسانیت کا بول بالا ہوتا ہے۔ایسا میں نے خود دیکھا ہے۔

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Manchester?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Manchester

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 12am
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm