Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies

Islamic General Knowledge & Islamic Objections & Inricacies

Share

Qualified and certified in Quran and islamic studies from Darul uloom deoband
And I want to spread the teachings of the Quran throughout the world.

02/10/2025

کیا پاکستان کے مسلمان اتنے زیادہ بےبس ہوچکے ہیں کہ وہ اب اپنے امریکی غلام، فوجی حکمرانوں کی فلسطین سے کھلی غدّاری کے خلاف بھی کچھ نہیں کرسکتے ؟
صاف نظر آ رہا ہے کہ عاصم منیر اور شھباز شریف نے پاکستان کو ٹرمپ اور اس کی طالع آزما سیاست کے لیے گروی رکھ دیا ہے،
فلسطین کے مسئلہ پر پاکستان کو بانئ پاکستان کے نظریے سے ہٹانے کے بعد وجودِ پاکستان کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جاتا ہے،
کم از کم اسرائیل کے خلاف تو پاکستان کی مذہبی، سیکولر اور لبرل قیادتیں ایک موقف پر تھیں کیا یہ سب مل کر بھی اپنے ملک کے ان ضمیر فروش اور بےحس حکمرانوں اور امریکا کے غلاموں کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ہیں ؟ اگر کم از کم پاکستان میں ٹرمپ کے شیطانی غزہ منصوبے کے خلاف انقلاب آتا ہے تو اس کا اثر عالم اسلام پر بھی پڑے گا ۔ اس کے لیے پاکستان کے علمائے حق اور دیگر اہلِ حق کو قربانیاں دے کر تاریخ رقم کرنی چاہیے ۔ ورنہ تو پاکستان کوئی خوددار و خودمختار پاکستان کسی بھی صورت نہ رہا بلکہ وہ یقیناً ایک امریکی کالونی ہے جسے اب اسرائیل کے اشاروں پر ناچنا ہوگا۔
اگر پاکستان میں بھی پاکستانی حکمران فلسطینیوں کے ساتھ غداری کرلے جاتے ہیں اور وہاں کے مسلمان اس کے خلاف کوئی عوامی انقلاب نہیں لاسکتے ہیں تو ان پر افسوس ہے کہ پھر تو آج کے ہندوتوادی بھارت میں ہندی مسلمان جس طرح بڑھ بڑھ کر قربانیاں دے کر بھی اپنے موقف و حقوق کے لیے جدوجھد کرتے ہیں وہ پاکستان کے مسلمانوں سے زیادہ بہادر و غیرت مند ہیں کہ پاکستان تو اسلام اور مسلمانوں کے نام پر بنا اور وہاں پر اگر بنیادِ پاکستان کا اسرائیل مخالف موقف بھی محفوظ نہیں ہے تو اس کا وجود تو بڑا ہی بے کار ہوا۔
✍️: سمیع اللہ خان
Samiullah Khan

21/07/2025

❗️باعزت بری ہونا انصاف نہیں... بلکہ نظام کی ننگی شکست ہے!

✍️ از: دردِ دل رکھنے والا مسلمان

11 جولائی 2006 کا وہ خونی دن، جب ممبئی کی لوکل ٹرینوں میں دھماکوں نے 189 انسانوں کی جان لی اور 800 سے زیادہ کو زخمی کر دیا۔ لیکن اس واقعے کے بعد جو اصل ظلم ہوا، وہ دھماکوں سے بھی زیادہ تباہ کن اور سنگدل تھا:
12 بےگناہ مسلمانوں کو دہشتگردی کے جھوٹے الزام میں 18 سال کے لیے جیلوں میں سڑنے کے لیے پھینک دیا گیا۔

پانچ کو موت کی سزا، سات کو عمر قید، میڈیا ٹرائل، پولیس کانفرنسیں، قوم پرست چینلوں کے چیختے نعرے، اور ایک پوری قوم کو بدنام کر دینے والا پروپیگنڈا۔
لیکن اب... 18 سال بعد، عدالت نے انہیں باعزت بری کر دیا۔

---

مگر سوال یہ ہے:

> ❓ کیا یہی انصاف ہے؟ ❓ کیا ان کے 18 سالہ جوانی کا حساب کوئی دے گا؟ ❓ کیا وہ بیویاں، مائیں، باپ، بچے، جن کی زندگیاں برباد ہو گئیں، ان کی آہوں کا کوئی مول ہے؟

❌ نہیں! یہ انصاف نہیں، یہ انصاف کا مذاق ہے۔

یہ وہ نظام ہے جو پہلے مسلمان کو مجرم مانتا ہے، پھر ثبوت ڈھونڈتا ہے۔
یہ وہ میڈیا ہے جو TRP کے لیے ایمان فروش ہے، اور
یہ وہ حکومتیں ہیں جن کی ترجیح مسلم خون کی ارزانی ہے۔

---

📜 ہندوستان کا آئین: ایک ادھورا دستور!

ہمیں بار بار بتایا جاتا ہے کہ ہندوستان کا آئین دنیا کا سب سے عظیم ہے،
لیکن سوال یہ ہے:

> جس آئین میں بےگناہ قید کاٹنے والے کے لیے نہ معاوضے کا قانون ہو، نہ انصاف کا کوئی راستہ،
کیا وہ آئین مکمل کہلانے کے قابل ہے؟

🟥 دنیا کے ممالک میں تو قانون ہے:

امریکہ: $50,000 سالانہ معاوضہ

برطانیہ، جرمنی، جاپان، کینیڈا: ہر بےگناہ قیدی کو مکمل ازالہ

لیکن ہندوستان؟ صرف "باعزت بری" اور "اب گھر جاؤ"!

---

🧭 اگر نظام اسلامی ہوتا...

اسلامی حکومت میں اگر کوئی بےگناہ جیل جائے:

✅ تو ریاست معافی مانگتی
✅ مظلوم کو مالی، سماجی، نفسیاتی بحالی دیتی
✅ اور ظالم پولیس افسر یا قاضی کو سزا دی جاتی

> حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا:
"اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمرؓ سے سوال ہوگا۔"

اور یہاں؟ مسلمان 18 سال جیل میں سڑ جائے اور کوئی جواب دہ نہیں!

---

📢 یہ وقت خاموشی کا نہیں

مسلم قیادت کو اب تقریروں سے آگے بڑھ کر
قانونی، سیاسی، اور عوامی سطح پر جدوجہد کرنی ہوگی۔

1. "Wrongful Incarceration Law" بنایا جائے

2. ریاست مظلوموں کو ازخود معاوضہ دے

3. ظالم پولیس افسران کو سزا ملے

4. میڈیا کی زبان پر ضابطہ اخلاق نافذ ہو

---

🗣️ یہ صرف باعزت بری نہیں، یہ نظام کا چہرہ ننگا ہونا ہے!

> جنہیں ہم نے دہشتگرد کہا،
وہ معصوم نکلے،
اور جنہوں نے ظلم کیا،
وہ آج بھی اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں —
یہی ہے ہندوستانی انصاف کا چہرہ!

---

✊ آخری بات:

> "اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ باعزت بری ہونا انصاف ہے،
تو تم نہ صرف سادہ لوح ہو، بلکہ اپنے ضمیر کے قاتل بھی ہو۔"

یہ مضمون آپ کے لیے، میرے لیے، اور ہر اس زندہ دل کے لیے ہے جو ظلم سے نفرت کرتا ہے۔

مفتی کفایت اللہ قاسمی

Want your school to be the top-listed School/college in Deoband?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Deoband
247554