Bushran aadli

Bushran aadli

Share

Book shop

08/02/2024

مغموم کو خوش کرنا مستحب ہے !
انسان کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ اپنے ساتھی کو غم گین دیکھےتو ایسی بات کرے جس سے اس کی رنجیدگی جاتی رہے اور اس کا جی خوش ہو جائے کیوں کہ سیدنا عمرؓ نے رسول اللہ ﷺ کو پریشان دیکھ کر کہا تھا : میں کوئی ایسی بات کرتا ہوں جو آں حضرت ﷺ کو متبسم کر دے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ
(فتح الباری، 2: 293)
ــــــــــــــــــــــــــــ
قال الحافظ ابن حجر في الفتح(293/9): المرء إذا رأى صاحبه مهموما استحب له أن يحدثه بما يزيل همه ويطيب نفسه لقول عمر:لأقولن شيئا يضحك النبي-ﷺ-

26/08/2023

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

معروف داعی داؤد آر میتھیوز نہ رہے ۔

مغربی دنیا میں جن اہل علم اور دانشوروں نے اسلام کو گلے لگایا،ان میں داؤد آر میتھیوز(Daud R.Mathews)بھی ایک ہیں ۔ان کا شمار معروف داعیوں میں ہوتا ہے ۔

داؤد آر میتھیوز 1938ءکو انگلینڈ میں ایک کتھولک عیسائی کے گھرانے میں پیدا ہوئے۔بچپن سے ہی چرچ سے گہراتعلق رہا ۔مطالعہ مذاہب میں بے حد دلچسپی تھی جس کی بدولت اسلام کا گہرائی اور گیرائی سے مطالعہ کرنے کےبعد 1970ءمیں اسلام قبول کیا۔ داوؤد میتھیوز برٹش کمپیوٹر سوسائٹی اور انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ دونوں کے ریسرچ فیلو رہے ۔ آپ 1974سے1997 تک سعودی عرب میں رہے اور اس دوران کئی یونیورسٹیوں میں تحقیقی کام کیا ۔پھرآپ نے 1986ء سے یک سوئی کےساتھ دعوت وتبلیغ کا کام کرنا شروع کیا۔آپ کے ہاتھوں بہت سے لوگوں نے اسلام کو گلے لگایا ۔
داؤد میتھیوز نے سعودی عرب کی ایک ٹی وی چنل پرانگریزی زبان میں چھ مہینوں تک تفسیر قرآن بھی پیش کیا جو ایک عمدہ سلسلہ ثابت ہوا۔
تصنیف وتالیف کا بھی عمدہ ذوق رکھتے تھے اور اس سلسلے میں ان کی کتاب Presenting Islam in the West ایک عمدہ تحقیق ہے ۔موجودہ دور میں اسلام کو کیسے متعارف کیا جائے اور جدید دنیا کو کس طرح سے اسلام سے قریب تر کیا جائے ،یہ اس کتاب کا بنیادی موضوع ہے۔ اس میں انھوں جدید منہج اور سائنٹفک اسلوب اختیارکرکے دعوہ کی راہیں بتائیں۔
موصوف نے جدید منہج پردعوہ کا ایک کورس بھی تیار کیا جسے آپ خود اپنی سرپرستی میں چلارہے تھے۔
آپ مکالمہ بین المذاہب کے داعیوں میں سے ایک تھے اور اس راہ میں ان کے لکچرس کا پابندی کے ساتھ انعقاد ہوتا تھا ۔آپ انٹرنیٹ پر مختلف قسم کے سوالات کا جواب بھی لکھتے تھے ۔
آج ان کا انتقال ہوگیا ۔اللہ ان کی مغفرت فرمائیے ۔آمین

مجتبٰی فاروق

24/08/2023

‏ناآشنائی سے آشنائی تک کا سفر بہت طویل ہوتا ہے___ انسان کسی کے ساتھ کتنی صدیاں گزار دے پھر بھی دوسرے کی شخصیت کو سمجھ نہیں پاتا وقت کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کی سمجھ آتی ہے اچھے تعلق کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
لیکن آشنائی سے نااشنائی کا سفر نہ جانے کیوں اتنی جلدی طے ہوجاتا ہے پل بھر میں ہم انجان اور اجنبی کر دیے جاتے ہیں___ ساتھ گزرے ہوئے قیمتی لمحے قیمتی احساسات جذبات محبت سب سے بڑھ کے ہمارا خلوص ایک لمحے میں بھلا دیا جاتا ہے ان کی کوئی وقعت نہیں رہتی____ صرف ایک تلخ جملہ معنی خیز خاموشی ایک غلط فہمی ہمارے تعلق کو آشنا‏ سے ناآشنا بنا دیتی ہے۔
ہرا بھرا شاداب تعلق پل بھر میں خزاں رسیدہ پت جھڑ بن جاتا ہے __پل بھر میں محبت سچائی پیار اعتماد کے پتے ہرے بھرے درخت سے گر جاتے ہیں____ اور سوائے خاموشی کے کچھ نہیں رہتا۔

03/06/2023

Zilla Fatu, the son of late WWE Superstar Umaga and nephew of current wrestling sensation Roman Reigns, has recently announced his conversion to Islam

20/05/2023

عہد عثمانی میں گھروں کے دروازوں پر دو کڑے لگے ہوتے تھے ایک چھوٹا اور ایک بڑا۔ جب چھوٹا کڑا کھٹکھٹایا جاتا جو سمجھا جاتا تھا کہ دروازے کو کھٹکھٹانے والی کوئی خاتون ہے، چنانچہ گھر کی کوئی ذمہ دار خاتون اٹھتی اور دروازہ کھولتی۔ اور جب بڑا کڑا کھٹکھٹایا جاتا تو سمجھا جاتا کہ دروازے پر کوئی مرد ہے، چنانچہ گھر کا کوئی مرد اٹھتا اور وہ دروازہ کھولتا تھا۔
اور جس گھر میں کوئی مریض ہوتا تھا اس کے دروازے پر "گلاب کا گملا" رکھ دیا جاتا، تاکہ وہاں سے گزرنے والے، سامان بیچنے والے اور باہر کھیلنے والوں کو معلوم ہو جائے کہ اس گھر میں مریض ہے، تو وہ بلند آواز سے شور نہ مچائیں۔

Want your business to be the top-listed Shop in Lucknow?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Lucknow