Aashiq E Rasool

Aashiq E Rasool

Share

Assalamu Alaykum Wa Rahmatullahi Wa Barakatuhu
Ajeeb Faiz Hai Aaqa (SAW) Apki Muhabbat Ka,
Durood Aap Pay Parhu’n Aur Khud Sanwar Jaaun

06/01/2023

*اخلاق الصالحین:-5*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ جو عمل میں نے ظاہر کردیا ہے میں اس کو شمار میں نہیں لاتا یعنی اس کو کالعدم سمجھتا ہوں کیونکہ لوگوں کے سامنے اخلاص حاصل ہونا مشکل ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم تیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایسا لباس پہنتے تھے کہ ان کے احباب کے سوا کوئی ان کو پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ عالم ہیں اور فرمایا کرتے تھے کہ مخلص وہ ہے جو اپنی نیکیوں کو ایسا چھپائے جیسے برائیوں کو چھپاتا ہے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کو دیکھا کہ وہ حرم شریف میں ایک بہت بڑے حلقہ درس میں حدیث کا املاء فرما رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے قریب ہوکر ان کے کان میں کہا کہ اگر تیرا نفس تجھے عُجب میں ڈالے یعنی اگر نفس کو یہ بات پسندیدہ معلوم ہوتی ہے تو تو اس مجلس سے اُٹھ کھڑا ہو اسی وقت حضرت طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت ابراہیم بن ادہم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت بشر حافی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں تشریف لے گئے تو آپ کے حلقۂ درس کو دیکھ کر فرمانے لگے:اگر یہ حلقہ کسی صحابی کا ہوتا تو میں اپنے نفس پر عجب سے بے خوف نہ ہوتا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
حضرت سفیان ثوری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب حدیث کی املاء کے لئے اکیلے بیٹھتے تو نہایت خائف اور مرعوب بیٹھتے ۔ اگر ان کے اوپر سے بادل گزرتا تو خاموش ہوجاتے اور فرماتے کہ میں ڈرتا ہوں کہ اس بادل میں پتھر نہ ہوں جو ہم پر برسائے جائیں ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۷)*
ایک شخص حضرت اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے حلقہ میں ہنسا تو آپ نے اس کو جھڑکا اور اُٹھا دیا اور فرمایا کہ تو علم طلب کرتا ہوا ہنستا ہے جس علم کے طلب کے لئے اللہ تَعَالٰی نے تجھے مکلف فرمایا ۔ پھر آپ نے دوماہ تک اس کے ساتھ کلام نہ کیا ۔ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۸)*

05/01/2023

*اخلاص:-1*
سلف صالحین کی عادت مبارکہ میں اخلاص تھا ۔ وہ ہر ایک عمل میں اخلاص کو مد نظر رکھتے تھے اور ریا کا شائبہ بھی ان کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتاتھا ۔ وہ جانتے تھے کہ کوئی عمل بجز اخلاص مقبول نہیں ۔ وہ لوگوں میں زاہد عابد بننے کے لئے کوئی کام نہیں کرتے تھے انہیں اس بات کی کچھ پرواہ نہ ہوتی تھی کہ لوگ انہیں اچھا سمجھیں گے یا برا ۔ ان کا مقصود محض رضائے حق سبحانہ و تَعَالٰی ہوتا تھا ۔ ساری دنیا ان کی نظروں میں ہیچ تھی وہ جانتے تھے کہ اخلاص کے ساتھ عمل قلیل بھی کافی ہوتاہے، مگر اخلاص کے سوا رات دن بھی عبادت کرتارہے تو کسی کام کی نہیں ۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جب یمن بھیجا تو فرمایا: اخلص دینک یکفک العمل القلیل. *(المستدرک علی الصحیحین، کتاب الرقاق، الحدیث:۷۹۱۴، ج۵، ص ۴۳۵)*
کہ اپنے دین میں اخلاص کر تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہوگا۔ *(حاکم)*
حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ ناظرین سے مخفی نہیں کہ ایک لڑائی میں ایک کافر پر آپ نے قابو پالیا ۔ اس نے آپ کے منہ مبارک پر تھوک دیا تو آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ وہ حیران رہ گیا کہ یہ بات کیا ہے ؟بجائے اس کے کہ انہیں غصّہ آتا اور مجھے قتل کر دیتے انہوں نے چھوڑدیا ہے ۔ حیران ہوکر پوچھتا ہے تو آپ فرماتے ہیں ؎
گفت من تیغ از پئے حق مے زنم
بندۂ حقم نہ مامور تنم
شیر حقم نیستم شیر ہوا
فعل من بر دین من باشد گواہ
کہ میں نے محض رضائے حق کے لئے تلوار پکڑی ہے میں خدا کے حکم کا بندہ ہوں اپنے نفس کے بدلہ کے لئے مامور نہیں ہوں ۔میں خدا کا شیر ہوں اپنی خواہش کا شیر نہیں ہوں ۔ چونکہ میرے منہ پر تونے تھوکا ہے اس لئے اب اس لڑائی میں نفس کا دخل ہوگیا اخلاص جاتا رہا، اس لئے میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے کہ میرا کام اخلاص سے خالی نہ ہو ؎
چونکہ درآمدعلتے اندر غزا تیغ را دیدم نہاں کردن سزا
جب اس جنگ میں ایک علّت پیدا ہوگئی جو اخلاص کے منافی تھی تو میں نے تلوار کا روکنا ہی مناسب سمجھا ۔ وہ کافر حضرت کا یہ جواب سن کر مسلمان ہوگیا ۔اس پر مولانا رومی فرماتے ہیں ؎
بس خجستہ معصیت کاں مرد کرد
نے زخارے بردمد اوراق ورد
وہ تھوکنا اس کے حق میں کیا مبارک ہوگیا کہ اسے اسلام نصیب ہوگیا ۔ اس پر مولانا تمثیل بیان فرماتے ہیں کہ جس طرح کانٹوں سے گل سرخ کے پتے نکلتے ہیں اسی طرح اس کے گناہ سے اسے اسلام حاصل ہوگیا ۔
حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرمایا کرتے تھے: ’’من طلب الدنیا بعمل الٓاخرۃنکس اللّٰہ قلبہ وکتب اسمہ فی دیوان اہل النار‘‘ *(تنبیہ المغترّین، الباب الاوّل، اخلاصہم للّٰہ تعالیٰ، ص۲۳)*
جو شخص آخرت کے عمل کے ساتھ دنیا طلب کرے ۔ خدا تَعَالٰی اس کے دل کو الٹا کردیتا ہے اور اس کا نام دوزخیوں کے دفتر میں لکھ دیتاہے ۔حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا یہ قول اس آیت سے ماخوذ ہے جو حق تَعَالٰی نے فرمایا:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ *(پ۲۵، الشورٰی:۲۰)*
کہ جو شخص (اپنے اعمال صالح میں )دنیا چاہے ہم دنیا سے اتنا جتناکہ اس کا مقرر ہے دے دیتے ہیں اور آخرت میں اس کے لئے کوئی حصّہ نہیں

02/01/2023

*اللہ کے بندو موت سے غفلت موت اور عذاب سے نہیں بچاتی :-
حضرت سیِّدُنا جعفر بن محمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الصَّمَد سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ایک جنازہ میں شریک ہوئے تدفین کے بعد میت کے ورثاء پر گر یہ طاری ہوگیا اور وہ رونے لگے ، تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : تم کیوں روتے ہو ؟ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم اگر تم ان احوال کا مشاہدہ کر لیتے جن کا مشاہدہ میت نے کیا ہے تو تم اس مردے کو بھول جاتے اور اپنے آپ پر روتے یاد رکھو موت تمہارے پاس آتی رہے گی یہاں تک کہ تم میں کوئی ایک بھی زندہ نہ ر ہے گا ۔ اتنا بیان کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں جس نے تمہارے لئے بہت سی مثالیں بیان فرمائیں اور تمہاری موت کا وقت مقرر کر رکھا ہے ۔اس نے تمہیں ایسے کان عطاکئے ہیں کہ وہ جو سن لیتے ہیں اسے یاد کر لیتے ہیں اور ایسی آنکھیں بخشیں ہیں کہ جس چیز کو ان آنکھوں سے دیکھ لیا جاتا ہے وہ واضح ہو جاتی ہے اس نے تمہیں ایسے دِل بھی دئیے ہیں جو معاملات کو سمجھ لیتے ہیں بے شک اُس نے تمہیں بے مقصد پیدا نہیں فرمایا بلکہ کا مل نعمتوں اور عمدہ اشیاء کے ساتھ تمہیں عزت بخشی، تمہارے لئے ہر چیز کی مقدار مقرر فرمائی اور تمہارے اعمال کے مطابق جزا مقرر فرمائی ۔اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو ! اسے پانے کی کوشش کرو خواہشات کا دم توڑنے والی موت سے ہمکنار ہونے سے پہلے پہلے ( نیک ) عمل کے ذریعے اس کے لئے تیاری کرو کیونکہ دنیا کی نعمتیں عارضی و فانی ہیں اس کی آفتوں سے نہ کسی متکبر ومغرور کا غرور بچا سکتا ہے تو نہ ہی کسی اَفواہ ساز کی بات اور نہ باطل و ناحق کی طرف میلان رکھنے والے کسی شخص کا سہارا امن دے سکتا ہے کہ جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیتا اور ہر وقت شہوت میں بدمست ہو کر خود فریبی کا شکار رہتا ہے ۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو ! آیات واَحادیث سے عبرت و نصیحت حاصل کرو ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے ڈر و ! وعظ و نصیحت سے نفع حاصل کرو ! موت تم میں اپنے پنجے گاڑ چکی اور تمہیں مٹی کے گھر سے ملا کر رہے گی پھر صور
پھونکنے کے ساتھ ہی قبروں سے اُٹھنے ، میدان محشر کی طرف ہانکے جانے اور حساب کے لئے اللہ جبار و قہار عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کھڑے ہونے والے ہولناک قسم کے اُمور پیش آنے والے ہیں اور یہ وہ دن ہے جب ہر نفس کے ساتھ ہانکنے والا ہوگا جو اسے میدان محشر کی طر ف لے جائے گااور ایک گواہ ہوگا جو اس کے اعمال کی گواہی دے گا ۔ چنانچہ ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۶۹) *( پ۲۴،الزمر : ۶۹ )*
ترجمۂکنزالایمان: اور زمین جگمگا اُٹھے گی اپنے رب کے نور سے اور رکھی جائے گی کتاب اور لائے جائیں گے انبیا اور یہ نبی اور اُس کی اُمت کے اُن پر گواہ ہوں گے اور لوگوں میں سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور اُن پرظلم نہ ہوگا ۔
اس دن تمام شہر تھر ااُٹھیں گے ۔ منادی ندادے گا ۔ وہ دن ملاقات کا دن ہوگا ۔ پنڈلی سے پردہ اُٹھ جائے گا ۔ سورج بے نور ہوجائے گا ۔ دَرِندے محشر میں جمع کئے جائیں گے ۔ راز ظاہر ہوجائیں گے ۔ بد کاروں کے لئے ہلاکت کا دن ہوگا ۔ دل کانپ اُٹھیں گے ۔اہلِ جہنم کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طر ف سے پھٹکار ہوگی جہنم ان پر اپنے آنکڑے اور ناخن نکال لے گی اور ان پر چیخے چلائے گی ۔ اس کی آگ کو ہوا مزید بھڑکائے گی ۔ اس میں رہنے والے سانس نہ لے سکیں گے نہ ان پر موت طاری ہو گی اور نہ ان کی تکلیفیں ختم ہوں گی ۔ ان کے ہمراہ فرشتے ہوں گے جو انہیں جہنم میں داخلے اور کھولتے پانی کی خوشخبری سنائیں گے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دیدار سے محروم نیز اس کے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام سے دو ر ہوں گے اور جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے ۔
اے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس شخص کی طر ح ڈرو جو ڈرا اور عاجزی اِختیار کی ۔ خوفزدہ ہوا اور کوچ کے لئے چل پڑا ۔ محتا ط نظروں سے دیکھا توکانپ اُٹھا تلاش میں نکلا تو نجات کے لئے بھاگ پڑا ۔ قیامت کی تیاری کے لئے زادِراہ کمر پر رکھ لیا اور یاد رکھو اللہ عَزَّوَجَلَّ بدلہ لینے کے لئے کافی ، ہر عمل کو دیکھنے والا، اعمال نامہ مضبوط فریق اور حجت کے لئے کافی ،جنت ثواب دینے میں اور جہنم عذاب دینے میں کافی ہے ۔ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت طلب کرتاہوں
*[1] صفۃ الصفوۃ،ابوالحسن علی بن ابی طالب،کلمات منتخبۃ من کلامہ و مواعظہ ، ج۱ ،ص۱۷۱۔۱۷۲ ، مختصرًا۔*

26/12/2022

*حضور ﷺ سے اپنی شہادت کی خبر سن کر چہر ے کارنگ بدلتا رہا :-
حضرت سیِّدُناقیس بن ابو حازم رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : مجھے حضرت سیِّدُناابو سَہْلَہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیان کیا کہ جس دن امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کرنے کے لئے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر کو گھیرے میں لے لیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : بے شک نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ایک وعدہ لیا تھا ، میں آج اس وعدے کے مطابق صبر کروں گا ۔ حضرت سیِّدُنا قیس رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اس وقت صحابۂ کرام کو اس دن کی حقیقت کا اندازہ ہوا کہ جس دن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا تھاکہ ’’ میں اپنے ایک صحابی سے راز ونیاز کی باتیں کر نا چاہتا ہوں عرض کی گئی : حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں بلالائیں ؟ فرمایا : نہیں عرض کی گئی : حضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ؟ فرمایا نہیں عرض کی گئی : حضرت سیِّدُنا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ؟ فرمایا : نہیں‘‘ بالآخر حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو بُلایا گیا تو حضورنبی ٔ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انہیں آہستہ سے کچھ فرمانے لگے جسے سن کر حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے چہر ے کارنگ بدلتا رہا ۔ [2]
*عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی دوخصوصی فضیلتیں :-
حضرت سیِّدُناعبدالرحمن بن مہدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ الْھَادِی سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین، حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو دو ایسی فضیلتیں حاصل تھیں کہ ان کی مثل امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق وحضرت سیِّدُنا عمرِ فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بھی حاصل نہ تھیں ( ۱ ) آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا صبر کرنا یہاں تک کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ظلماً شہید کردیا گیا ( ۲ ) تمام لوگوں کو قرآن مجید کی ایک قرا ءت پر جمع کرنا ۔ [3]
*راہِ خدا میں مال خرچ کرنا:-*
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُناعثمان غنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے مال کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا وخوشنودی حاصل کرتے اور اس کے بندوں پر مال خرچ کرنے میں اپنے دوستوں سے بڑھ جاتے تھے جبکہ اپنے لئے تھوڑے ہی مال اور معمولی لباس پر قناعت فرماتے ۔ اورعُلمائے کرام کا ایک فرمان یہ بھی ہے کہ : ’’ فضیلت کی اِنتہا تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنا تصوُّف ہے ۔
حضرت سیِّدُناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دو مرتبہ جنت خریدی، ایک مرتبہ جببِئْ رِرُوْمَہ پانی کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کیا اور دوسری مرتبہ جب غزوۂ تبوک کے لئے سامانِ جہاد فراہم کیا ۔ [4]
*[2] سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ ،باب فضل عثمان ، الحدیث : ۱۱۳ ، ص۲۴۸۴ ، بتغیرٍقلیلٍ۔*
*[3] المصاحف لابن أبی داؤد ، باب اتفاق الناس مع عثمان…الخ ، الحدیث : ۳۶ ، ج۱ ، ص۴۸۔*
*[4]المستدرک ، کتاب معرفۃ الصحابۃ ، باب اشتری عثمان الجنۃ مرتین ، الحدیث : ۴۶۲۶ ، ج۴ ، ص۶۸ ، بتغیرٍقلیلٍ۔*

24/12/2022

*آج کی حدیث شریف مرآۃ المناجیح حدیث نمبر :372*
روایت ہے ابو سلمہ سے ۱؎ وہ زید ابن خالد جہنی سے ۲؎ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اگر میں اپنی امت پر بھاری نہ جانتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا اور نمازعشاءکو تہائی رات تک پیچھے ہٹا دیتا ۳؎ فرماتے ہیں کہ زید ابن خالد مسجد میں نماز کے لیئے یوں آتے تھے کہ ان کی مسواک ان کے کان پر ہوتی۔جیسے منشی کے کان میں قلم جب بھی نماز کو کھڑے ہوتے تو مسواک کرلیتے پھر وہاں ہی مسواک رکھ لیتے۴؎ اسے ترمذی و ابوداؤد نے روایت کیا مگر ابوداؤد نے لَاَخَّرْتُ کا ذکر نہ کیا ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
*شرح*
۱؎ آپ کا نام عبدا ﷲ ابن عبدالرحمن بن عوف ہے، قرشی زہری ہیں،مدینۂ منورہ کے سات مشہور فقہاء میں سے ہیں،عظیم الشان تابعی ہیں،۷۲ سال عمر پائی، ۹۷ھ ؁میں وفات ہوئی۔ ۲؎ مشہور صحابی ہیں، عبدالملک ابن مر وان کے زمانہ میں ۷۸ھ؁ مقام کوفہ میں فوت ہوئے۔(مرقاۃ واشعہ)۳؎ یعنی یہ دونوں چیزیں فرض کردیتا کہ بغیر مسواک نماز ہی نہ ہوتی اور تہائی رات سے پہلے نماز عشاء ناجائز ہوتی۔معلوم ہوا کہ ﷲ تعالٰی نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مالک احکام بنایا ہے کہ چاہیں فرض کریں چاہیں نہ کریں۔۴؎ یہ حضرت زید ابن خالد کا اپنا اجتہاد تھا۔ان کے سوا کسی صحابی نے بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کبھی نہ کیا۔حضرت زید"کُلِّ صَلوٰۃٍ" سے ہر نماز سمجھے حالانکہ وہاں نماز کا وضو مراد ہے، جیسا کہ ہم شروع میں تحقیقًا عرض کرچکے ہیں۔یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ زیور کی حدیث سن کر وضو میں بغل تک ہاتھ دھوتے تھے۔لہذا یہ عمل قابلِ تقلید نہیں۔میں نے کویت میں بعض شوافع کو دیکھا کہ ان کے گلے میں مسواک پڑی رہتی ہے،ہر نماز کی نیت پر مسواک کرتے جاتے تھے، حالانکہ مسواک کا کھڑا کرکے رکھنا سنت ہے۔غالب یہ ہے کہ حضرت زید نے"کُلِّ صَلوٰۃٍ"سے ہروقت کی نماز سمجھا نہ کہ ہر نماز،لہذا آپ ایک وقت کی ساری نماز کے لئے ایک دفعہ مسواک کرلیتے تھے۔مگر کویت کے وہ حضرات اور آگے بڑھ گئے کہ ہر نماز کے لیے کئی کئی بار مسواک کرنے لگے۔ﷲ تعالٰی حدیث کی صحیح سمجھ نصیب فرمائے۔آمین !

23/12/2022

*आज ‌की नसीहत नफ़्स न होता तो सलामती रहती**
हज़रत सैयदना आदम व हव्वा अलैहिमस्सलाम से जो लग़्ज़िश हुई उसमें उन्हें ख़्वाहिश ही ने डाला हत्ता कि शैतान के कहने से वह बे साफ़ व बे ख़बरी के मामले में पड़ गए और उन्होंने उस ममनूआ दरख़्त (गंदुम या अंगूर) से खा लिया जिसके सबब जवारे इलाही और जन्नती ठिकाने से अलायहदा होकर इस फ़ानी व हक़ीर, खोटी और हलाकत ख़ेज़ दुनिया की तरफ़ उतार दिए गए।
फिर हाबील व क़ाबील का वाक़िआ देख लो उसमें भी हसद सबब बना था (कि क़ाबील ने हसद के सबब अपने भाई हज़रत हाबील रहमतुल्लाहि अलैहि को क़त्ल कर दिया)।
यूंही आगे चलते जाओ तो *क़यामत तक मख़लूक़ में तुम जो भी फ़ित्ना व आज़माइश, गुमराही , गुनाह और ज़िल्लत व रुसवाई देखोगे उसका सबब नफ़्स और उसकी ख़्वाहिश ही नज़र आएगी।*
अगर ये नफ़्स न होता तो मख़लूक़ सलामती और ख़ैर में ही रहती। जब ये दुश्मन इस क़दर नुक़सान पहुंचाने वाला है तो अक़्लमंद पर लाज़िम है कि उससे बचाव का एहतेमाम करे।
अल्लाह अज़्ज़ व जल्ल ही अपने फ़ज़्ल व करम से तौफ़ीक़ व हिदायत देने वाला है।
*(मुख़्तसर मिन्हाजुल आबिदीन अज़ हुज्जतुल इस्लाम इमाम मुहम्मद बिन ग़ज़ाली अलैहिर्रहमा वर् रिज़वान पेज आनलाइन -५८)*

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Mumbai?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Jogeshwari West
Mumbai
400102