Bazm-e-Raza. Rishra

Bazm-e-Raza. Rishra

Share

An Educational & Cultural Organisation

18/01/2024
31/01/2023

علامہ سیماب اکبر آبادی اور بہادر شاہ ظفر: ’’دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں..
سیماب ؔ اکبر آبادی کے شعر کی تو اس کے لیے اتنا کہوں گا کہ سیمابؔ اکبر آبادی چوں کہ بہادر شاہ ظفرؔ کے بعد کے شاعر ہیں ۔1880ء میں اکبر آباد آگرہ میں تولد ہوئے ۔آپ نے بہادر شاہ ظفر کی زمین میں غزل کہی لیکن کسی شخص یا اشاعتی اِدارے نے قصداً ،سہواً یا شرارتاً اس شعر کو بہادر شاہ ظفرؔ کی غزل میں شامل کر دیا۔بہادر شاہ ظفرؔ کا کوئی بھی مستند کلیات اٹھا کر دیکھیں تو یہ شعر نہیں ملے گا ۔ہاں دیگر مندرجہ ذیل چھے اشعار ضرور موجود ہوں گے۔
لگتا نہیں ہے جی میرا اجڑے دیار میں
کس کی بنی ہے عالمِ ناپائیدار میں
بلبل کو پاسباں سے نہ صیاد سے گلہ
قسمت میں قید تھی لکھی فصل بہار میں
کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دل داغ دار میں
اک شاخِ گل پہ بیٹھ کے بلبل ہے شادماں
کانٹے بچھا دیے ہیں دلِ لالہ زار میں
دن زندگی کے ختم ہوئے شام ہو گئی
پھیلا کے پانوں سوئیں گے کنج مزار میں
کتنا ہے بد نصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں
(بہادر شاہ ظفر ؔ اور جنگ آزادی کے اولین مجاہد ص495،ڈاکٹر ودیا ساگر آنند)
1951ء میں کراچی شہر میں انتقال کرنے والے سیماب ؔ کی غزل جو بہادر شاہ ظفرؔ کی زمین میں ہے اس کے مجموعہ کلام ’’کلیم عجم ‘‘میں ہے جو دارالاشاعت قصر ادب ،آگرہ سے1936 ؁ء میں طبع ہوئی ۔اس غزل کے باقی اشعار ملاحظہ ہوں ۔
شاید جگہ نصیب ہو اس گل کے ہار میں
میں پھول بن کے آؤں گا اب کی بہار میں
خلوت خیال یار سے ہے انتظار میں
آئیں فرشتے لے کے اجازت مزار میں
ہم کو تو جاگنا ہے ترے انتظار میں
آئی ہو جس کو نیند وہ سوئے مزار میں
اے درد ،دل کو چھیڑ کے پھر بار بار چھیڑ
ہے چھیڑ کا مزہ خلشِ بار بار میں
سو ڈرتا ہوں یہ تڑپ کے لحد کو الٹ نہ دے
ہاتھوں سے دل دبائے ہوئے ہوں مزار میں
تم نے تو ہاتھ جو روستم سے اٹھا لیا
اب کیا مزا ،رہا ستمِ روزگار میں
اے پردہ دار اب تو نکل آ حشر ہے
دنیا کھڑی ہوئی ہے ترے انتظار میں
عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
سیمابؔ پھولی اگیں لحدِعندلیب سے
اتنی تو تازگی ہو ہوا ئے بہار میں
اس کے علاوہ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ بہادر شاہ ظفرؔ کے ساتھ منسوب شعر میں
’’عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن ‘‘ ہے
جب کہ سیماب ؔ کے اصلی شعر میں
’’عمر دراز مانگ کے لائی تھی چار دن‘‘ ہے
اب رہا سوال اُردو کی نصابی کتب میں یہ شعر شامل ہے تو اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوتی ہے جو اس کے مرتبین ہیں یاجو مجلس مشاورت میں شامل ہیں لیکن افسوس کے آج تک کسی کو اس بات کی زحمت تک گوارانہ ہوئی کہ دیکھ تو لے حقیقت کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں تحقیق پر توجہ دی جائے ۔تحقیق ہی واحد ذریعہ ہے جو سچ اور جھوٹ میں فرق کرتا ہے۔
بشکریہ فرہاد احمد فگار...............................

24/11/2022

پروین شاکر
عکس خوشبو ہوں بکھرنے سے نہ روکے کوئی
اور بکھر جاؤں تو مجھ کو نہ سمیٹے کوئی

کانپ اٹھتی ہوں میں یہ سوچ کے تنہائی میں
میرے چہرے پہ ترا نام نہ پڑھ لے کوئی

جس طرح خواب مرے ہو گئے ریزہ ریزہ
اس طرح سے نہ کبھی ٹوٹ کے بکھرے کوئی

میں تو اس دن سے ہراساں ہوں کہ جب حکم ملے
خشک پھولوں کو کتابوں میں نہ رکھے کوئی

اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیں
اب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی

کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیں
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی .............................................

Want your school to be the top-listed School/college in Rishra?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


24, G. T. Road. NEAR ;BADI MASJID. RISHRA. HOOGHLY
Rishra
712248