AqsaUnique
Religious and Media aqsaunique
#جہیز: دایمی لعنت
جہیز وہ رسم ہے جو بظاہر خوشیوں کے موقع پر ادا کی جاتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہماری معاشرتی رگوں میں زہر گھول چکی ہے۔ شادی جیسے پاکیزہ رشتے کو لین دین کی منڈی بنا دینا، عورت کی عزت و وقار کو قیمت کے ترازو میں تولنے کے مترادف ہے۔
جہیز کے نام پر والدین اپنی عمر بھر کی کمائی لٹا دیتے ہیں، قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، اور بعض اوقات بیٹی کی شادی خوشی کے بجائے خوف اور اذیت بن جاتی ہے۔ یہ رسم نہ صرف معاشی استحصال ہے بلکہ ذہنی و نفسیاتی ظلم بھی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو جھگڑے، تشدد اور طلاق جیسے سانحات جنم لیتے ہیں۔
اسلام نے نکاح کو سادہ اور آسان بنایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جہیز کا حکم نہیں دیا، بلکہ حق مہر مرد پر فرض کیا۔ اس کے باوجود ہم نے معاشرتی دکھاوے اور نام نہاد عزت کے نام پر ایسی روایت کو زندہ رکھا جو سراسر ناانصافی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس لعنت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ شادی کو نمود و نمائش کے بجائے محبت، احترام اور ذمہ داری کا بندھن سمجھیں۔ جب تک ہم سوچ نہیں بدلیں گے، تب تک یہ سماجی بیماری ہماری بیٹیوں کے مستقبل کو یرغمال بنائے رکھے گی۔
جہیز نہیں، شعور دیجیے — یہی اصل تحفہ ہے۔
14/01/2026
#سزا سے پہلے انصاف اور سبب کا ازالہ ضروری ہے۔
عدل، رحم اور خدمتِ خلق کا درخشاں نمونہ
#اسلامی تاریخ فلاحِ انسانیت کے ایسے بے شمار واقعات سے روشن ہے جو محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ سماجی انصاف، انسانی وقار اور خدمتِ خلق کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان ہی درخشاں مثالوں میں عہدِ فاروقی میں قحط کے دوران حضرت عمر بن خطابؓ کا فلاحی کردار ایک ایسا واقعہ ہے جو اسلامی ریاست کے سماجی تصور، حکمران کی ذمہ داری اور انسان دوستی کو جامع انداز میں واضح کرتا ہے۔
قحطُ الرمادہ
ہجری 18 میں جزیرۂ عرب کے مختلف علاقوں کو شدید قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ زمین بنجر ہو چکی تھی، بارشیں ناپید تھیں، مویشی ہلاک ہو رہے تھے اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔ اس قحط کو تاریخ میں قحطُ الرمادہ کہا جاتا ہے، کیونکہ گرد و غبار اور بھوک نے زمین اور انسان دونوں کو راکھ کی مانند بے جان کر دیا تھا۔
یہ صرف معاشی بحران نہیں تھا بلکہ ایک ہمہ گیر انسانی المیہ تھا جس میں کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہو رہے تھے۔
خلیفۂ وقت کا احساسِ ذمہ داری
اس نازک وقت میں حضرت عمر بن خطابؓ نے خود کو محض حکمران نہیں بلکہ ہر بھوکے انسان کا جواب دہ سمجھا۔ آپؓ کا یہ مشہور قول اسی احساسِ ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے:
> “اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر اس کا ذمہ دار ہوگا۔”
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ اسلامی فلاحی ریاست کا نظریہ ہے، جہاں حکمران رعایا کی بنیادی ضروریات کا خود کو ضامن سمجھتا ہے۔
ذاتی طرزِ زندگی میں ایثار
قحط کے دنوں میں حضرت عمرؓ نے گوشت، گھی اور عمدہ کھانوں سے مکمل اجتناب کیا۔ آپؓ عام لوگوں کی طرح خشک روٹی اور زیتون کے تیل پر گزارا کرتے تھے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ پیٹ کی آواز آئی تو فرمایا:
> “اے پیٹ! گڑگڑاتا رہ، جب تک رعایا سیر نہ ہو جائے، عمر بھی سیر نہیں ہوگا۔”
یہ ایثار محض ہمدردی نہیں بلکہ قیادت بالعمل (Leadership by example) کی اعلیٰ ترین مثال تھی۔
حضرت عمرؓ نے قحط کے مقابلے کے لیے محض دعاؤں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ٹھوس اور منظم اقدامات کیے:
مختلف علاقوں سے غلے اور راشن کی فراہمی
بیت المال کو عوام کے لیے مکمل طور پر کھول دینا
اجتماعی لنگر (کمیونٹی کچن) کا قیام
خود راتوں کو گشت کر کے بھوکے اور محتاج افراد کی خبرگیری
ایک روایت کے مطابق، آپؓ نے ایک خیمے میں بچوں کو بھوک سے روتے دیکھا تو فوراً بیت المال سے آٹا، گھی اور دیگر سامان خود اٹھا کر لائے اور کھانا پکا کر بچوں کو کھلایا۔
قحط کے دنوں میں حضرت عمرؓ نے سزاؤں کے نفاذ کو بھی وقتی طور پر روک دیا، کیونکہ بھوک میں کیے گئے جرائم کو آپؓ سماجی ناکامی سمجھتے تھے، فرد کی نہیں۔
یہ فیصلہ اسلامی عدل کے اس اصول کی عملی تعبیر تھا کہ:
> سزا سے پہلے انصاف اور سبب کا ازالہ ضروری ہے۔
اسلامی فلاحی تصور
قحطُ الرمادہ کے دوران حضرت عمرؓ کا کردار اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں فلاحی نظام کوئی ثانوی پہلو نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ہے۔
اسلامی ریاست میں:
بھوک جرم نہیں
غربت فرد کی ناکامی نہیں
بلکہ معاشرے اور نظام کا امتحان ہے
عصرِ حاضر کے لیے پیغام
آج کے دور میں، جب فلاحی ریاست کا نعرہ تو بلند ہے مگر عملی نمونے نایاب ہیں، حضرت عمر بن خطابؓ کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
حقیقی قیادت قربانی مانگتی ہے
اقتدار سہولت نہیں، امانت ہے
اور انصاف نعروں سے نہیں، عمل سے قائم ہوتا ہے
قحطُ الرمادہ کے دوران حضرت عمر بن خطابؓ کا فلاحی کردار اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جو ہر دور کے حکمرانوں، معاشروں اور انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عدل، رحم اور خدمتِ خلق جب یکجا ہو جائیں تو ریاست محض حکومت نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی محافظ بن جاتی ہے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Thane
400612