GPS Char

GPS Char

Share

It's about School Activities That We Can Share with You For Your Best Opinion And Suggestion.

Photos from GPS Char's post 15/12/2025

Final semester come to an end🥰

15/12/2025

سوال:
بچوں کی اردو بہتر کرنے کے لیے ایسا کون سا کام کروایا جائے جو آسان بھی ہو، بچوں پر بوجھ نہ بنے، اور ساتھ ہی سلیبس کی تکمیل بھی متاثر نہ ہو؟

جواب:
بچوں کی اردو بہتر کرنے کے لیے سب سے مؤثر اور قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ اردو کو الگ مضمون سمجھ کر اضافی بوجھ بنانے کے بجائے، سلیبس کے اندر ہی زبان کی مشق شامل کر دی جائے۔ یعنی جو سبق پڑھایا جا رہا ہے، اسی سے اردو کی مہارتیں نکلوائی جائیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی سبق پڑھایا جائے تو اس میں سے روزانہ صرف پانچ سے سات الفاظ منتخب کیے جائیں، ان کے معنی زبانی پوچھے جائیں، جملے بنوائے جائیں اور اگلے دن انہی الفاظ سے مختصر ڈکٹیشن لے لی جائے۔ اس طرح نہ سلیبس سے ہٹنا پڑتا ہے اور نہ ہی بچوں کو الگ سے کچھ یاد کروانا پڑتا ہے۔
اردو بہتر کرنے کا دوسرا آسان طریقہ یہ ہے کہ ریڈنگ کو روزانہ کی عادت بنایا جائے، مگر بہت کم وقت کے لیے۔ روزانہ صرف پانچ منٹ ایک بچے سے اونچی آواز میں سبق یا کہانی پڑھوائیں، باقی بچے سنیں۔ غلطی پر فوراً ٹوکنے کے بجائے جملہ مکمل کروائیں، پھر درست تلفظ خود دہرائیں۔ یہ طریقہ بچوں کی جھجک بھی ختم کرتا ہے اور روانی بھی آہستہ آہستہ بہتر ہو جاتی ہے، جبکہ سلیبس کی تدریس بھی جاری رہتی ہے۔
لکھائی اور املا بہتر کرنے کے لیے لمبی ڈکٹیشن کے بجائے چھوٹی مگر مسلسل مشق زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ روزانہ صرف دو جملے بورڈ پر لکھیں، بچوں سے دیکھ کر لکھوائیں، پھر خود ہی ان سے غلطیاں نکلوا کر درست کروائیں۔ اس عمل میں استاد کم بولے اور بچہ زیادہ سوچے۔ یہ طریقہ بچوں کو خود اصلاح (Self-correction) سکھاتا ہے اور اضافی وقت بھی نہیں لیتا۔

گرائمر سکھانے کے لیے کتابی تعریفیں رٹوانے کے بجائے سبق سے مثالیں نکالیں۔ مثلاً اسم، فعل یا صفت پڑھانی ہو تو سبق کے جملوں سے پوچھیں کہ کون سا لفظ کام بتا رہا ہے یا کس لفظ سے چیز کا نام پتا چلتا ہے۔ اس طرح بچوں کو لگتا ہے کہ وہ نیا مضمون نہیں بلکہ وہی سبق سمجھ رہے ہیں، اور سلیبس کی تکمیل بھی ساتھ ساتھ ہوتی رہتی ہے۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اردو کو صرف امتحانی مضمون نہ بنایا جائے بلکہ بول چال اور اظہار کا ذریعہ بنایا جائے۔ کلاس میں چھوٹے چھوٹے سوال اردو میں کروائیں، بچوں کو ایک دو جملوں میں جواب دینے کی عادت ڈالیں، اور غلط اردو پر طنز کے بجائے حوصلہ افزائی کریں۔ جب بچہ بولنے، پڑھنے اور لکھنے سے خوف ختم کر لیتا ہے تو اردو خود بخود بہتر ہونے لگتی ہے، اور سلیبس بھی بغیر دباؤ کے مکمل ہو جاتا ہے۔
(منصور اختر غوری)

#منصوراخترغوری #تعلیم

14/12/2025

سوال:
میں ایک ٹیچر ہوں۔ طبیعت سے بہت نرم مزاج ہوں لیکن آج کل بچوں پر جلد غصہ آ جاتا ہے۔ ہر بات پر ڈانٹ دیتی ہوں، پھر خود ہی پریشان ہو جاتی ہوں کہ بچے غصے سے نہیں بلکہ محبت سے سیکھتے ہیں۔ میں خود پر قابو نہیں پا رہی۔ بچوں کو پیار سے کیسے ڈیل کروں؟

جواب:
غصہ آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، خاص طور پر اساتذہ کے لیے جنہیں روز درجنوں بچوں کے مختلف رویّوں اور کلاس کی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ غصے کا آنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم غصے کے لمحے کو کیسے سنبھالتے ہیں۔ آپ میں یہ شعور موجود ہے کہ بچے محبت سے زیادہ سیکھتے ہیں، یہی شعور بہت بڑی طاقت ہے۔ اسی بنیاد پر تبدیلی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔
سب سے پہلا قدم اپنے ذہن کا بوجھ ہلکا کرنا ہے۔ اکثر استاد جسمانی یا ذہنی تھکاوٹ، مسلسل پریشر یا ادارے کی توقعات کی وجہ سے بھی چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ آپ اپنے دن کا ایک مختصر جائزہ لیں کہ کس وقت غصہ بڑھتا ہے اور کیوں۔ اسے سمجھنے کے بعد حل آسان ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شور زیادہ ہو تو کلاس کے آغاز میں روٹین بنا دیں کہ دو منٹ سب بچے خاموش بیٹھیں، جس چیز کو نظم کہا جاتا ہے وہ ماحول کو پرسکون بناتی ہے۔
دوسرا مرحلہ اپنے ردعمل کو چند سیکنڈ کے لیے روکنا ہے۔ جب غصہ آئے، دل میں یہ چھوٹا سا وقفہ ڈالیں۔ پانچ سیکنڈ کی خاموشی یا دو مرتبہ گہری سانسیں بڑی تبدیلی لاتی ہیں۔ اس وقفے میں آپ کے الفاظ بدل جاتے ہیں۔ جہاں پہلے جملہ بنتا تھا “تم لوگ کبھی نہیں سدھرتے”، وہ تبدیل ہو کر “ہم اس کام کو اچھے طریقے سے دوبارہ کریں گے” بن سکتا ہے۔
تیسرا قدم بچوں کے ساتھ واضح اصول طے کرنا ہے۔ بچے جب جانتے ہیں کہ استاد کن باتوں پر سخت اور کن باتوں پر نرم ہے، تو ماحول بہتر ہوتا ہے۔ ایک دو اصول بہت سادگی سے بنائیں، مثلاً جب ٹیچر بات کرے تو سب رک جائیں، یا ہر کام کے بعد پانچ منٹ خاموشی۔ اصول کم ہوں مگر روزانہ یکساں رہیں۔
چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ اپنی تعریف اور محبت کو بڑھا دیں۔ جو بچہ اچھا کام کرے، اسے فوری چھوٹا سا لفظ یا مسکراہٹ سے سراہ دیں۔ دماغ محبت بھرے ماحول میں سکون پاتا ہے، اور یہی سکون استاد کو بھی پرسکون رکھتا ہے۔ بچے جیسے ہی محسوس کرتے ہیں کہ استاد شاباش دیتا ہے، وہ خود ہی نظم کی طرف آتے ہیں اور استاد کو کم غصہ آتا ہے۔
پانچواں اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ خود کو انسان سمجھیں، روبوٹ نہیں۔ کبھی کبھی استاد خود سے بہت زیادہ توقع رکھ لیتا ہے۔ اگر ایک دن سختی ہو جائے تو خود کو معاف کریں، اگلے دن نئے سرے سے بہتر کوشش کریں۔ مسلسل کوشش استاد کو دھیرے دھیرے نرم، مضبوط اور متوازن بنا دیتی ہے۔
یہ چند چھوٹے قدم آپ کو دوبارہ وہی پر سکون استاد بنا سکتے ہیں جو بچوں کو محبت سے سکھانا چاہتا ہے۔ بچوں کی تربیت ہمیشہ سفر کی طرح ہوتی ہے، اور آپ اس سفر کو محبت کے ساتھ چلانا چاہتی ہیں۔ یہی اصل کامیابی ہے۔
(منصور اختر غوری)

#منصوراخترغوری #تعلیم

Want your school to be the top-listed School/college in Bunerwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Village Char
Bunerwal
19260