Web Design and Development Projects
I welcome you to my profile.
25/09/2025
پرانی زبانوں کا نیا جنم: فورٹران، کوبول اور پاسکل کی کہانی
تحریر: محمد سلیم
کوڈنگ کی دنیا اکثر نئی زبانوں کے شور میں ڈوبی رہتی ہے، کبھی پائتھن کی مقبولیت کے قصے سننے کو ملتے ہیں تو کبھی جاوا اسکرپٹ کی ہر جگہ موجودگی کی بات ہوتی ہے۔ لیکن ایک سوال ہمیشہ ذہن میں آتا ہے کہ وہ پرانی زبانیں کہاں گئیں جنہوں نے کمپیوٹر سائنس کی بنیادیں رکھی تھیں؟ فورٹران، کوبول، پاسکل جیسی زبانیں جو نصف صدی پہلے لکھنے والے ہاتھوں میں تھیں، کیا وہ صرف تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہیں یا آج بھی سانس لے رہی ہیں؟
فورٹران، جسے "فارمولا ٹرانسلیشن" کے نام سے 1950 کی دہائی میں بنایا گیا، آج بھی ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ میں زندہ ہے۔ بڑے بڑے سپر کمپیوٹرز جو موسمیاتی ماڈلنگ، فلکیاتی حساب یا فزکس کے سمیولیشن کرتے ہیں، ان کے اندر فورٹران کا کوڈ دوڑ رہا ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ زبان numerical computing کے لیے انتہائی optimized ہے۔
اسی طرح کوبول کو اکثر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ "ڈایناسور" زبان ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کئی بڑے بینکنگ سسٹمز آج بھی اسی پر چل رہے ہیں۔ 1960 اور 70 کی دہائی میں لکھا گیا کوبول کا کوڈ اتنا وسیع ہے کہ آج بھی ادارے اسے برقرار رکھنے کے لیے کوبول ماہرین کی تلاش میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کوبول جاننے والے ماہرین کی قلت کے باعث یہ زبان آج بھی "مہنگی" ہے، یعنی اس پر کام کرنے والے ڈویلپرز کی مانگ باقی زبانوں سے کہیں زیادہ ہے۔
پاسکل کو تعلیم میں داخلے کے لیے استعمال کیا گیا، تاکہ طلبہ کمپیوٹر سائنس کے بنیادی تصورات سیکھ سکیں۔ اگرچہ آج یہ زبان مرکزی دھارے میں نہیں ہے، لیکن اس نے جو اصول اور ڈھانچے متعارف کروائے وہ جدید زبانوں جیسے سی++ اور جاوا کے اندر جیتے ہیں۔
یہاں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی میں "پرانا" ہمیشہ "مردہ" نہیں ہوتا۔ اکثر پرانی زبانیں ایسے سسٹمز کے اندر چھپی ہوتی ہیں جن پر ہماری روزمرہ زندگی کا انحصار ہے۔ بینکنگ، ایئرلائن ریزرویشن، حکومتی ڈیٹا بیسز، یہ سب وہ میدان ہیں جہاں ان زبانوں کا پرانا کوڈ آج بھی دھڑک رہا ہے۔
کہانی کا سبق یہی ہے کہ کوڈنگ کی دنیا میں ہر نئی زبان کے ساتھ پرانی زبانیں مٹتی نہیں بلکہ اپنی جگہ کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتی ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ٹیکنالوجی کی بنیاد ہمیشہ ماضی کی اینٹوں سے بنتی ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ پرانی زبانیں آج بھی خاموشی سے ہماری ڈیجیٹل دنیا کو سہارا دیے ہوئے ہیں۔
31/08/2025
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس کا ارتقاء
تحریر : محمد سلیم
ایک وقت تھا جب چیٹ بوٹس صرف سادہ سوالات کے جوابات دینے تک محدود تھے۔ وہ پہلے سے طے شدہ جملوں میں بات کرتے اور معمولی تبدیلی پر ہی الجھ جاتے تھے۔ مگر آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت نے انہیں بالکل نئے دور میں پہنچا دیا ہے، جہاں یہ نہ صرف گفتگو کا بہاؤ سمجھتے ہیں بلکہ حالات اور صارف کے مزاج کے مطابق جواب بھی تشکیل دیتے ہیں۔
جدید چیٹ بوٹس "قدرتی زبان کی پروسیسنگ" پر مبنی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی انہیں الفاظ کے پیچھے چھپے معنی سمجھنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ اب ایک صارف اگر مختلف انداز میں سوال پوچھے تو چیٹ بوٹ اسے ایک ہی مقصد سے جوڑ سکتا ہے اور درست جواب فراہم کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، کسٹمر سروس میں استعمال ہونے والے بوٹس اب مختلف لہجوں، مختصر پیغامات اور ایموجیز کو بھی سمجھ لیتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اب "سیکھنے" کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مشین لرننگ ماڈلز انہیں وقت کے ساتھ بہتر بناتے ہیں، یعنی جتنی زیادہ بات چیت ہوتی ہے، یہ اتنے ہی مؤثر اور درست ہو جاتے ہیں۔ ای کامرس کمپنیوں میں یہ صارفین کے خریداری کے انداز کو پہچان کر متعلقہ مصنوعات تجویز کرنے لگے ہیں۔
ایک اور اہم پیش رفت "ملٹی موڈل چیٹ بوٹس" کی ہے، جو صرف متن ہی نہیں بلکہ تصاویر، آواز اور ویڈیو کے ذریعے بھی بات چیت کر سکتے ہیں۔ ہیلتھ کیئر سیکٹر میں یہ بوٹس مریض کی ایکس رے یا ایم آر آئی رپورٹ کا ابتدائی تجزیہ کر کے ڈاکٹر کو فوری رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
کاروباری دنیا میں چیٹ بوٹس کا استعمال صرف کسٹمر سپورٹ تک محدود نہیں رہا۔ اب یہ مارکیٹنگ، سیلز، انسانی وسائل اور حتیٰ کہ پروجیکٹ مینجمنٹ میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ مائیکروسافٹ، آئی بی ایم اور گوگل جیسی کمپنیاں انہیں اپنے پلیٹ فارمز میں ضم کر کے کاروباری لاگت میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ کر رہی ہیں۔
تاہم، اس ترقی کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ پرائیویسی کے خدشات، غلط معلومات کے امکانات اور اخلاقی سوالات اب زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ اسی لیے، ماہرین زور دیتے ہیں کہ ان ٹیکنالوجیز کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جائے، تاکہ سہولت کے ساتھ اعتماد بھی قائم رہے۔
یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ آنے والے چند سالوں میں چیٹ بوٹس نہ صرف انسانوں جیسی گفتگو کریں گے بلکہ ہماری روزمرہ زندگی اور کاروباری دنیا میں ایسے ضم ہو جائیں گے کہ ہم ان کے بغیر سوچ بھی نہیں سکیں گے۔
29/08/2025
مصنوعی ذہانت میں توانائی کی بچت کے نئے راستے
تحریر : محمد سلیم
مصنوعی ذہانت کا دور ایک طرف حیرت انگیز ترقی لا رہا ہے، تو دوسری طرف ایک خاموش بحران کو بھی جنم دے رہا ہے، اور وہ ہے توانائی کا غیر معمولی استعمال۔ ایک بڑے زبان ماڈل کی تربیت کے لیے اتنی بجلی درکار ہوتی ہے کہ بعض اوقات یہ ایک چھوٹے شہر کی کئی دنوں کی کھپت کے برابر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف بجلی کے بل آسمان سے بات کرنے لگتے ہیں بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور تحقیقی ادارے توانائی کی بچت کے نئے راستے تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
پہلا بڑا قدم "کم طاقت والے الگورتھمز" ہیں۔ یہ الگورتھمز غیر ضروری حسابات کو نظرانداز کرتے ہیں اور صرف اہم ڈیٹا پروسیسنگ پر توجہ دیتے ہیں۔ گوگل نے اپنے "Tensor Processing Units" میں اسی اصول کو اپناتے ہوئے تربیتی عمل کو 40 فیصد کم توانائی خرچ کرنے والا بنا دیا ہے۔ اسی طرح میٹا نے بھی "Sparse Models" پر کام کیا ہے جو ہر ڈیٹا پوائنٹ کو پروسیس کرنے کے بجائے منتخب حصوں پر توجہ دیتے ہیں۔
دوسرا طریقہ "پری ٹرینڈ ماڈلز" کا ہے۔ مائیکروسافٹ اور اوپن اے آئی جیسے ادارے ماڈلز کو ایک بار تربیت دے کر انہیں مختلف شعبوں میں استعمال کر رہے ہیں، بجائے اس کے کہ ہر بار نیا ماڈل بنایا جائے۔ اس طریقے سے نہ صرف مہینوں کا وقت بچتا ہے بلکہ بجلی کی کھپت میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔
تیسرا اہم پہلو "ہارڈویئر کی اصلاح" ہے۔ این ویڈیا اور اے ایم ڈی نے ایسے گرافکس پروسیسرز تیار کیے ہیں جو کم وولٹیج پر زیادہ کارکردگی فراہم کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ کولنگ کے جدید طریقے، مثلاً مائع کولنگ، ڈیٹا سینٹرز کو زیادہ مؤثر اور کم توانائی خرچ کرنے والا بنا رہے ہیں۔
چوتھا راستہ "قابل تجدید توانائی" کا استعمال ہے۔ ایمیزون ویب سروسز اور گوگل کلاؤڈ دونوں نے اپنے ڈیٹا سینٹرز کو شمسی اور ہوا سے حاصل شدہ توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف بجلی کے بل کم کرتے ہیں بلکہ ماحول کو بھی صاف رکھتے ہیں۔
پانچواں حل "لوکل پروسیسنگ" یا "ایج کمپیوٹنگ" ہے۔ اس میں ڈیٹا کو مرکزی سرور پر بھیجنے کے بجائے قریب ترین آلے پر ہی پروسیس کیا جاتا ہے، جس سے طویل فاصلے تک ڈیٹا کی منتقلی کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور توانائی بچتی ہے۔ ایپل کے "آن ڈیوائس اے آئی" فیچرز اس کی ایک اچھی مثال ہیں، جو صارف کے فون پر ہی ماڈل چلا دیتے ہیں۔
چھٹا پہلو "اسمارٹ شیڈولنگ" ہے، جس کے تحت کمپیوٹنگ کا بھاری بوجھ ان اوقات میں منتقل کیا جاتا ہے جب بجلی کا گرڈ کم دباؤ میں ہوتا ہے یا جب قابل تجدید توانائی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف اخراجات کم کرتی ہے بلکہ گرڈ کے توازن کو بھی برقرار رکھتی ہے۔
ان تمام اقدامات کا مقصد ایک ہی ہے، کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی زمین کی قیمت پر نہ ہو۔ اگر کمپنیاں اور محققین اس راستے پر گامزن رہے تو آنے والے برسوں میں ہم ایسے نظام دیکھیں گے جو نہ صرف ذہین بلکہ ماحول دوست بھی ہوں گے۔ یوں ہم ایک ایسے عہد میں داخل ہوں گے جہاں ٹیکنالوجی اور فطرت ایک دوسرے کے حلیف بن جائیں گے، حریف نہیں۔
#ماحولیات
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the business
Telephone
Address
Opp. VTI, Near Bus Stand, Sargodha Road, Chiniot (Pakistan)
Chiniot
35400