Talha write
please support
03/01/2026
♻️
Ten Unknown Facts About
Founding: Tesla was founded in 2003 by engineers Martin Eberhard and Marc Tarpenning,
not Elon Musk. Musk joined the company as a major investor and became its public face.
Model Naming Quirk: Tesla’s car lineup follows a playful pattern: Model S, 3, X, and Y.
Elon Musk has said it was meant to spell "S3XY," with the number 3 replacing an "E."
Battery Focus: Tesla's breakthrough isn’t just in electric cars but also in battery technology. Tesla has invested heavily in creating
powerful and long-lasting batteries, not only for cars but also for energy storage solutions like Powerwall.
Autopilot and Full Self-Driving: Tesla’s Autopilot is an advanced driver-assistance system, but it’s not fully autonomous. The
company is working on Full Self-Driving (FSD) software, which could eventually enable true autonomous driving.
Gigafactories: Tesla operates massive manufacturing plants known as Gigafactories, located in the U.S., China, and
Germany. These factories are integral to Tesla’s ability to scale production and reduce costs.
SpaceX Connection: Tesla and SpaceX, both run by Elon Musk, share more than just a CEO. The companies collaborate on technology, and
SpaceX’s Falcon Heavy rocket even launched a Tesla Roadster into space as part of a 2018 test flight.
Sustainable Vision: Tesla's mission is to accelerate the world’s transition to sustainable energy.
In addition to electric cars, the company is a leader in solar power and energy storage solutions.
Over-the-Air Updates: Tesla was the first car manufacturer to allow over-the-air software updates, letting owners
download new features and improvements to their cars without visiting a dealership.
AI and Robots: Tesla’s AI Day event introduced Tesla Bot, a humanoid robot designed to handle dangerous or
repetitive tasks, showcasing Musk’s vision for AI and robotics beyond automobiles.
Environmental Impact: Tesla has reduced the overall carbon footprint of its ve
03/01/2026
The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.
03/01/2026
ناظرین! آج ہم ایک ایسی ویڈیو کی بات کر رہے ہیں جو بظاہر صرف 7 منٹ 11 سیکنڈ کی ہے،
مگر حقیقت میں یہ ویڈیو ہمارے معاشرے کے ایک خاموش مگر خطرناک مسئلے کی نشاندہی کر رہی ہے۔
یہ ویڈیو محض تفریح نہیں…
یہ ایک سوال ہے…
ایک آئینہ ہے…
جو ہمیں ہماری اجتماعی غفلت دکھا رہا ہے۔
ہم جس معاشرے میں نکاح کو سب سے مقدس بندھن قرار دیتے ہیں،
وہاں آج بھی شادی سے پہلے
طبی حقیقتوں پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے ناظرین!
جب شناختی کارڈ، گواہان اور قانونی شرائط نکاح کے لیے ضروری ہیں
تو پھر مرد کا مکمل طبی معائنہ کیوں نہیں؟
کیا یہ ظلم نہیں کہ لاعلمی کی بنیاد پر
ایک عورت کو ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی اذیت کے حوالے کر دیا جائے؟
کیا یہ ناانصافی نہیں کہ سچ سامنے آنے تک
دو زندگیاں برباد ہو چکی ہوں؟
نکاح نامے کے ساتھ
مرد کے فٹنس سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینا
کوئی شرم کی بات نہیں…
یہ شعور ہے…
یہ تحفظ ہے…
یہ آنے والی نسلوں کی ضمانت ہے۔
یہ مطالبہ کسی ایک فرد کا نہیں،
یہ کسی طبقے کا ایجنڈا نہیں،
یہ پورے معاشرے کی بقا کا سوال ہے۔
آج وقت آ چکا ہے کہ
ہم رسموں سے آگے بڑھیں،
روایات سے اوپر اٹھیں،
اور شادی جیسے مقدس رشتے کو
سچ، صحت اور شفافیت کی بنیاد پر استوار کریں۔
یہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں…
یہ ایک خاموش سماجی انقلاب ہے۔
فیصلہ ہمیں کرنا ہے ناظرین…
خاموش رہ کر برباد ہونا ہے
یا بول کر نسلوں کو بچانا ہے؟
وہ لوگ سامنے آئیں جنکو حضور پاک صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کا آخرى نبى ہونے اور ان کا امتی ہونے پر فخر ہے۔۔۔
ڈاہرانوالہ: چک نمبر 166 مراد میں دو گروپوں کے درمیان تصادم، ایک شخص خالق حقیقی سے جا ملا، حالات کشیدہ
ڈاہرانوالہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 166 مراد میں دو گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں ایک سیاسی و مذہبی جماعت کا کارکن خالق حقیقی سے جا ملا، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی۔
واقعے کے بعد مقتول کے ساتھیوں اور جماعت کے کارکنوں نے یتیم والا چوک میں شدید احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے۔
پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔ پولیس حکام نے شہریوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور قانون کو ہاتھ میں نہ لینے کی تلقین کی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں اور کارکن کی ہلاکت کے ذمہ دار افراد کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے الرٹ ہیں، جبکہ علاقے میں صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس موقع پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کے علمائے کرام اور سماجی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر ثالثی کا کردار ادا کریں اور عوام کو پُرامن رہنے کی تلقین کریں تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ علماء کرام ہمیشہ سے معاشرے میں بھائی چارے اور امن کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے آئے ہیں، اور اس وقت بھی ان کی رہنمائی انتہائی ضروری ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ڈاہرانوالہ کے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ انتشار کا شکار نہ ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھی جا سکے۔
Ajo larko ゚viralシfypシ゚
New technology 🥰 ゚viralシ2024fyp @
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Dahranwala