Dostiplus
The Dostiplus.com is one of the largest entertainment portal in Asia... Please share this code @[210 The Ocean Of Melodies In Fabulous Way.
15/04/2017
آپ نے کتنی مرتبہ لوگوں کے منہ سے سنا ہو گا۔۔ ‘‘چل اوئے‘‘
اکثر لوگ کثرت سے اس کا استمعال کرتے ہیں‘ مگر آج تک بہت کم لوگ اسکی تاریخ جانتے ہیں۔۔
ہم اکثر اوقات بلاوجہ‘سوچے سمجھے بغیر اپنی گفتگو میں اسکو استمعال کرتے ہیں‘ ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں۔۔
اصل میں ‘‘ چل اوئے‘‘ فارسی زبان کا لفظ ہے۔۔ اور اسکا مطلب ہے۔۔
‘‘چل اوئے‘‘
غور سے پڑھنے کا شکریہ۔۔
ایک پریشان حال خاوند ڈاکٹر کے پاس گیا ۔
" ڈاکٹر جی! میرا خیال ہے کہ میری بیوی بالکل بہری ہوگئ ہے، مجھے کئ کئ بار اپنی بات دہرانی پڑتی ہے۔ تب وہ جواب دیتی ہے۔ بتائیں کیا کروں ؟"
ڈاکٹر نے کہا کہ پہلے اس بات کا یقین کرلو کہ کیا وہ واقعی بہری ہے اور
اونچا سنتی ہے۔ پھر اس کو یہاں لے آنا، چیک اپ کرلیں گے، اس کے بعد اس کا علاج شروع کردیں گے۔ تم ایسا کرو کہ آج گھر جا کر بیوی کو کوئی بات 15 فٹ کے فاصلے سے کہنا۔ اور اس کا ردعمل دیکھنا۔ اگر وہ کوئی جواب نہ دے تو دس فٹ کے فاصلے سے وہی بات کہنا۔ پھر بھی نہ سنے تو 5 فٹ کی دوری سے وہی بات کہنا۔ پھر بھی نہ سنے تو بالکل پاس آکر کہنا۔ اس سے ہمیں یہ پتہ چل جائے گا کہ بہرہ پن کی شدت کی نوعیت کیا ہے؟ علاج میں آسانی رہے گی۔
خاوند گھر آیا تو دیکھا کہ بیوی کچن میں سبزی کاٹ رہی ہے۔ اس نے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق 15 فٹ کی دوری سے پوچھا، بیگم آج کھانے میں کیا ہے؟
بیوی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا
اس نے اب دس فٹ کی دوری سے اپنا سوال دہرایا
بیوی کی طرف سے پھر بھی کوئی جواب نہ آیا۔ وہ سر جھکائے سبزی کاٹنے میں مشغول رہی۔
میاں اور نزدیک آگیا۔ صرف 5 فٹ کی دوری سے پوچھا
اب کی بار بھی بیوی اسی طرح سر جھکائے اپنا کام کرتی رہی۔
میاں پریشان ہوگیا۔ وہ بالکل سامنے کھڑا ہوگیا اور کوئی تین انچ کی دوری سے پوچھا۔" بیگم! میں نے پوچھا ہے کہ آج کیا پکارہی ہو؟"
بیوی نے سر اٹھایا اور کہا، " بہرے ہو کیا....... چوتھی بار بتارہی ہوں کہ سبزی گوشت !!"
آج کی کہانی
ایک چوہا کسان کے گھر میں بل بنا کر رہتا تھا، ایک دن چوہے نے دیکھا کہ کسان اور اس کی بیوی ایک تھیلے سے کچھ نکال رہے ہیں،چوہے نے سوچا کہ شاید کچھ کھانے کا سامان ہے-
خوب غور سے دیکھنے پر اس نے پایا کہ وہ ایک چوهےدانی تھی- خطرہ بھانپنے پر اس نے گھر کے پچھواڑے میں جا کر کبوتر کو یہ بات بتائی کہ گھر میں چوهےدانی آ گئی ہے-
کبوتر نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ مجھے کیا؟ مجھے کون سا اس میں پھنسنا ہے؟
مایوس چوہا یہ بات مرغ کو بتانے گیا-
مرغ نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ... جا بھاييے میرا مسئلہ نہیں ہے-
مایوس چوہے نے دیوار میں جا کر بکرے کو یہ بات بتائی ... اور بکرا ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہونے لگا-
اسی رات چوهےدانی میں كھٹاك کی آواز ہوئی جس میں ایک زہریلا سانپ پھنس گیا تھا-
اندھیرے میں اس کی دم کو چوہا سمجھ کر کسان کی بیوی نے اس کو نکالا اور سانپ نے اسے ڈس لیا-
طبیعت بگڑنے پر کسان نے حکیم کو بلوایا، حکیم نے اسے کبوتر کا سوپ پلانے کا مشورہ دیا،
کبوتر ابھی برتن میں ابل رہا تھا
خبر سن کر کسان کے کئی رشتہ دار ملنے آ پہنچے جن کے کھانے کے انتظام کیلئے اگلے دن مرغ کو ذبح کیا گیا
کچھ دنوں کے بعد کسان کی بیوی مر گئی ... جنازہ اور موت ضیافت میں بکرا پروسنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا ......
چوہا دور جا چکا تھا ... بہت دور ............
اگلی بار کوئی آپ کو اپنے مسئلے بتائے اور آپ کو لگے کہ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے تو انتظار کیجئیے اور دوبارہ سوچیں .... ہم سب خطرے میں ہیں ....
سماج کا ایک عضو، ایک طبقہ، ایک شہری خطرے میں ہے تو پورا ملک خطرے میں ہے ....
ذات، قوم , زبان اور طبقے کے دائرے سے باہر نكليے-
خود تک محدود مت رہیے-
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
AlHaramain
Daska