Muhammad Khorasani
دفاع علماء حق علماء اشاعت
ترجمان اھل سنت والجماعۃ
تلمیذ سلطان المناظرین امام اھل سنت والجماعۃ علامہ خضرحیات بھکروی صاحب
30/04/2026
عبداللہ بن سباء کے کردار پر کتبِ اہل السنت سے شہادت:
صحیح البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب لا یعذب بعذاب اللہ، حدیث نمبر (3017)
صحیح البخاری، کتاب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالہم، باب حکم المرتد والمرتدۃ، حدیث نمبر (6922)
سنن ابی داؤد، کتاب الحدود، باب فی حکم المرتد، حدیث نمبر (4351)
سنن النسائی، کتاب تحریم الدم، باب تحریم دم المرء المسلم، حدیث نمبر (4069)
جامع الترمذی، کتاب الحدود، باب ما جاء فی المرتد، حدیث نمبر (1458)
المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (6834)
تاریخ دمشق رقم (602 تاریخ) فی ترجمۃ عبداللہ بن سبأ، وکذا فی تہذیب تاریخ دمشق لابن بدران ج 428/7 (وہذا النص فی تاریخ الطبری ایضاً)
مجھے یقین ہے کہ ان شواہد کا مطالعہ کرنے کے بعد کسی شخص کو اس حقیقت کے تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہ ہوگا کہ عبداللہ بن سبا تاریخِ اسلام میں پہلا غدار، مجرم شخص ہے جس نے مسلمانوں میں شرک، مردہ پرستی اور شخصیت پرستی کا بیج بویا۔ عبداللہ بن سبا نے جن عقائد کی تلقین کی ان کا اجمالی تذکرہ سطورِ بالا میں بیان کیا جا چکا ہے۔ ان کا با غور مطالعہ کرنے کے بعد یہ حقیقت واضح ہو سکتی ہے کہ اس نے ایک تیر سے دو شکار کیے:
(۱) اسلام کے بنیادی عقائد میں غیر اسلامی اور مشرکانہ عقائد داخل کر دیے۔
(۲) مسلمانوں کی وحدت ملی اور یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا۔ بالفاظِ دیگر وہ اپنے مقصد میں ایک طرح کامیاب ہو گیا، یعنی اس نے سیدنا علیؓ کو صفاتِ الوہیت کا درجہ دے کر مسلمانوں میں انسان پرستی کا عقیدہ راسخ کر دیا اور تفرقہ پیدا کر کے مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف صف آراء کر دیا۔ عبداللہ بن سبا نے اپنے مشرکانہ عقائد کی دعوتی مہم تقیہ کے روپ میں جاری رکھی جس کے جراثیم نو مسلم لوگوں میں پھیلتے گئے اس کے فرقہ کو کوفہ، بصرہ اور فارسیوں میں قبولِ عام کی سند حاصل ہوگئی، کیونکہ یہودیوں کی طرح فارسی بھی عرب مسلمانوں سے شدید نفرت کا جذبہ دل میں پوشیدہ رکھتے تھے اور جن عقائد کی عبداللہ بن سبا نے بنیاد رکھی تھی وہ ان کے لیے قابلِ قبول تھے، خصوصاً حلول کا عقیدہ جوان میں پہلے ہی سے موجود تھا۔
مرحلہ ثانیہ: سیدنا جعفر صادقؓ (سبائیہ کے چھٹے مزعومہ امام) ۱۴۸ھ میں وفات پائی۔
ان کی وفات کے بعد ان کی متبعین میں دو گروہ پیدا ہو گئے۔
(۱) جس نے ان کے چھوٹے بیٹے حضرت موسیٰ کاظم کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر امامہ اثنا عشریہ کے نام سے مشہور ہوئے۔
(۲) جنہوں نے ان کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل کو ان کا جانشین تسلیم کیا وہ آگے چل کر اسماعیلیہ کے نام سے مشہور ہوئے ہیں۔ اس وقت اس دوسرے گروہ کی مختصر داستان لکھنی مقصود ہے۔
تاریخِ اسلام میں اس فرقہ کو ملاحده، باطنیہ، تعلیمیہ اور قرامطہ کے رسوائے عالم لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ہم ذیل میں اس کی مختصر داستان قلم بند کرتے ہیں، کیونکہ یہی فرقہ دنیا اسلام میں غیر اسلامی تصوف کا بانی ہے۔
واضح ہوا کہ اس فرقے نے شروع ہی سے عبداللہ بن سبا کے غالیانہ عقائد (عقیدہ الوہیت علی و رجعت و تناسخ ارواح و حلول) اختیار کر لیے تھے پروفیسر براؤن ایران کی ادبی تاریخ جلد اول صفحہ ۴۱۱ پر لکھتا ہے: "جو عقائد غالی شیعہ میں مشترک ہیں وہ حسبِ ذیل چار عقائد ہیں:
(۱) تشبیہ (خدا کا انسانی شکل میں ظہور)
(۲) مشیتِ ایزدی میں تبدیلی (بداء)
(۳) امام کی واپسی (رجعت)
(۴) تناسخ (ایک امام کی روح کا دوسرا یعنی جانشین کی شخصیت میں حلول کرنا الوہیتِ ائمہ)
ظاہر ہے کہ یہ سب عقائد قرآن کے سراسر خلاف ہیں اسی لیے مسٹر اسٹینلی لین پول اپنی تصنیف 'داستان قاہرہ' مطبوعہ لندن ۱۹۰۶ء میں صفحہ ۱۱۳ پر لکھتا ہے: "اپنی باطنی روح کے اعتبار سے فاطمین مصر کا مذہب مذہبِ محمڈانزم نہیں ہے۔" ڈاکٹر اولیری نے اپنی تصنیف 'تاریخ خلفائے بنی فاطمہ مصر' میں صفحہ 12 پر لکھا ہے کہ اس گروہ میں شروع ہی سے غلاۃ شیعہ کی خصوصیات پیدا ہو گئی تھیں، یعنی (۱) تاویل (۲) تجسیم (۳) حلول (۴) تناسخ روحِ امام بقالب دیگر۔
براؤن کی تاریخ جلد اول میں درج ہے کہ:
(۱) مہدی کے عہدِ حکومت میں المقنع نے خروج کیا۔ ابن خلکان نے اپنی مشہور تالیف وفیات الاعیان میں لکھا ہے کہ المقنع کا اصلی نام عطاء تھا۔ اس نے جادو اور طلسمات میں مہارت حاصل کی اور خدائی کا دعویٰ کر دیا جس نے اپنے پیرووں سے کہا کہ سب سے پہلے خدا نے آدم میں حلول کیا، یہی وجہ ہے کہ فرشتوں نے اسے سجدہ کیا۔ الغرض خدا اسی طرح تمام انبیاء میں حلول کرتا کرتا ابومسلم خراسانی کے جسم میں داخل ہوا اور اس کی وفات کے بعد اب خدا نے میرے اندر حلول کیا ہے۔ چونکہ یہ شخص نہایت بدصورت اور کانا تھا، چھوٹے قد کا ہکلا تھا اور اپنے بدنما چہرے پر سنہرا نقاب ڈالے رہتا تھا اسی لیے اسے المقنع کہتے ہیں یہ شخص ۱۶۹ھ میں قتل کیا گیا۔
(۲) مامون کے عہد میں بابک خرمی نے خروج کیا۔ یہ شخص بھی الوہیت کا مدعی تھا۔ بقول طبری اس شخص نے 20 سال تک ایران میں شدید ہنگامہ برپا رکھا۔ انجام کار افشین ۲۲۳ھ میں اسے قتل کیا۔ المقنع اور بابک نے خدائی کا دعویٰ کر کے ہزاروں نہیں لاکھوں مسلمانوں کو گمراہ کیا اور بقول مسعودی (کتاب التنبیہ) بابک نے پانچ لاکھ کے قریب مسلمانوں کو قتل کیا۔ ان دونوں کا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن میمون القداح کی تخریبی سرگرمیوں کے لیے زمین ہموار کی۔
(۳) ہٹی اور براؤن نے لکھا ہے کہ فرقہ اسماعیلیہ کی سیاسی تنظیم اور مذہبی عقائد کی تدوین کا سہرا عبداللہ بن میمون القداح کے سر ہے۔ 'الفہرست' میں مرقوم ہے کہ یہ شخص اہواز کا باشندہ تھا اس نے پہلے بصرے میں قیام کیا پھر سلمیہ (شام) کو اپنا مرکز بنایا اور یہاں سے تمام دنیائے اسلام میں اپنے داعیوں کو اسماعیلیہ مذہب کی تبلیغ کے لیے روانہ کیا۔ اس نے ۲۶۱ھ / ۸۷۵ء میں وفات پائی۔
مرحلہ ثالثہ: حمدان قرمط: یہ شخص القداح کا سب سے بڑا داعی تھا اس کا نام حمدان بن اشعث تھا یہ دراصل ایک عراقی کاشتکار تھا چونکہ اس کی ٹانگیں بہت چھوٹی تھیں اس لیے اسے قرمط کہتے تھے اس نے اسماعیلی مذہب کو باطنی تحریک میں تبدیل کر دیا اور اسی لیے اسماعیلی باطنی فرقہ اس کے نام سے موسوم ہو گیا یعنی قرامطہ۔ قرامطہ نے الجنابی کی سربراہی میں ایک آزاد ریاست قائم کر لی اور اس کے بیٹے ابوطاہر نے ۹۳۰ عیسوی میں مکہ پر حملہ کر کے حجر اسود اکھیڑ لیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔ بقول براؤن انہوں نے سو سال تک سلطنتِ عباسیہ کے باشندوں کو خوفزدہ رکھا۔
#کلمتہ #توحید #علامہ #خضر #حیات #بکھروی
28/04/2026
مرد مجاہد شہید ناموس صحابہ رض کے لیئے کوئی لفظ ❤️
کمنٹ کر کے جائیں
شاہ صاحب مردانی
ہر فن کی اجراء کوی
فن منطق
اصول الفقہ
فلسفہ ت
تصیح عبارت کورس ھم کوی سرہ قواعدو نہ
صرف دوقسم اجراء کوی
مسائلو دویم قواعد صرف
او اصطلاحات اجراء
قواعد فقہ ھم اجراء کوی
مشکل زایو نہ دکتابو نو لکہ قطبی لکہ اصعر اکبر صغری. کبری میزان منطق میر ایساعوجی قال اقول کتاب منطق
مظفر المنطق
مصداقی علم زدہ کڑے
24/04/2026
جانشین شیخ القرآن حضرت مولانا شرف علی صاحب رح پکےموحد تھےلھذاکسی مشرک اور بدعتی کو ضرورت نہیں کہ انکے نماز جنازہ میں شرکت کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Dir