Ujala School
شعبہ تعلیم اور اساتذہ کے مسائل اور کارکردگی کو اُجاگر کرنا اور اس شعبہ میں ہونے والی نتی تحقیق سے باخبر رکھنا تاکہ معیارتعلیم بہتر ہو۔
خوشی کی تلاش میں
(قاسم علی شاہ)
وہ اپنے علاقے کا مالدارترین آدمی تھا۔ اللہ نے اس کوبے پناہ دولت سے نوازا تھا۔ زمین جائیدادیں اتنی تھیں کہ جس کا ایک عام انسان تصور بھی نہیں کرسکتاتھا، مگرپھر نہ جانے کیا ہوا کہ اس کو اپنے اندر شدید قسم کی گھٹن محسوس ہونے لگی۔ تمام قسم کی آسائشات اور سہولیات کے باوجود بھی وہ بے سکون رہنے لگا۔ دل کی یہ بے چینی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی تھی اور پھر جب اس کی راتوں کی نیند اُڑنا شروع ہوگئی تو وہ گھبراگیا۔ وہ اس بے سکونی کو دور کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اپنی تمام جائیداد فروخت کی، ان پیسوں سے ہیرے خریدے اور انھیں ایک تھیلے میں ڈال کر بستی بستی ’’من کی شانتی‘‘ ڈھونڈنے کے لیے نکل پڑا۔ وہ ہر ایک سے کہتا :’’جو مجھے خوشی کا راز بتائے گا میں اپنے تمام ہیرے اس کو دوں گا۔‘‘لمحے دنوں میں بدل گئے اور دن ہفتوں میں لیکن اس کو اپنے مرض کی دوا نہیں ملی۔ آخر کار ایک دن اسے ایک پاگل شخص ملا۔ وہ بولا:’’ لوگ مجھے دیوانہ سمجھتے ہیں اور میری باتوں پر یقین نہیں کرتے لیکن میں آپ کو ایک شخص کے بارے میں بتاتا ہوں۔ یہاں سے دس فرلانگ کے فاصلے پر ایک بستی ہے، وہاں ایک بڑا سادرخت ہے اس کے نیچے ایک دانا شخص بیٹھا ہے ، وہ آپ کا مسئلہ حل کرسکتاہے۔‘‘ آدمی بستی کی جانب چل پڑا۔گرد وغبار کی وجہ سے اس کی داڑھی اور سر کے بال مٹی سے بھرچکے تھے۔تھکے قدموںکے ساتھ وہ اس درخت تک پہنچاتووہاں واقعی ایک شخص بیٹھا ہوا تھا جو شکل سے ہی علم و حکمت والا لگ رہا تھا۔آدمی نے اپنا مسئلہ اسے بتایااور ساتھ میں انعام کے بارے میں بھی بتایا۔دانا شخص نے اس کی بات سنی اورپھر اچانک جھپٹا مارکراس سے ہیروں کاتھیلہ چھین لیا اوروہاں سے فرار ہوگیا۔آدمی اس کے پیچھے بھاگا لیکن وہ بستی کے راستوں سے لاعلم تھا، اس لیے بہت جلد تھک ہارکر واپس درخت کے نیچے آبیٹھا۔زندگی بھر کی کمائی یوں ضائع ہوجانے پروہ دھاڑیں مارکر رونے لگااور نڈھال ہوکر گرپڑا۔کافی وقت گزرنے کے بعددانا شخص واپس آیااورہیروں کا تھیلہ آدمی کی طرف پھینکا۔آدمی کی جان میں جان آئی ،اس نے تھیلے کو سینے سے لگایااورایک لمباسکون بھراسانس لیا۔دانا شخص بولا:کیوں بھائی!کیسالگا؟‘‘ آدمی بولا:’’ یہ ہیرے واپس پاکر مجھے بے حدخوشی ملی ۔‘‘ داناشخص بولا:’’معاف کرنامیں چو ر نہیں ہوں دراصل میں تمھیں تمھارے سوال کا جواب دے رہاتھا۔تم خوشی کی تلاش میں ہو نا ،تو سنو ۔خوشی باہر نہیں تمھارے اندر ہے اور اس کوباہر لانے کے لیے کسی چیز کے چھن جانے کا انتظار مت کرو۔جائو ، اپنی زندگی جیو! خدا نے تمھیں بہت کچھ سے نوازا ہے بس تمھارے اندر احساس کی کمی ہے۔‘‘یہ قیمتی راز پاکر آدمی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
سکون ، اطمینان اور خوشی وہ قیمتی دولت ہے جس کی آج ہر شخص کو تمنا ہے۔اسی کو پانے کے لیے وہ دن رات محنت کرتاہے ، ہر طرح کی سختیاں جھیلتا ہے اور گرمی سردی برداشت کرتاہے لیکن اس کے باوجود بھی اکثر لوگ سکون اور اطمینان سے محروم ہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ خوشی کا تعلق مال و دولت یا چیزوں کی فراوانی کے ساتھ نہیں ہے بلکہ اپنے اندر جھانکنے اور اپنی نعمتوں کو محسوس کرنے میں ہے۔کسی بھی انسان میں حرص اورطمع جس قدر زیادہ ہوگی ، اسی قدروہ بے سکون اوربے چین ہوگااوربے شک اس کی زندگی میں چیزیں بڑھتی جائیں لیکن ساتھ ساتھ اس کی بے چینی بھی بڑھتی جائے گی۔
خوشی کا راز کیا ہے ، انسان اپنی زندگی میں اطمینان کیسے پاسکتاہے اور اپنی سوچوں پر کیسے قابو پاسکتاہے؟ ان تمام سوالات کے جوابات کے لیے قاسم علی شاہ فاونڈیشن نے ’’Journey to joy‘‘کے عنوان سے ایک شاندار سیشن کا انعقادکرایا۔اس سیشن سے محترمہ عظمیٰ رمضان صاحبہ نے گفتگوکی اور سیشن میں شریک خواتین کو سانس کی مشق کروانے کے ساتھ ساتھ مراقبہ بھی کروایا۔عظمیٰ رمضان صاحبہ ایک’’ سپریچول ہیلر‘‘ اور ’’بریتھ اسپیشلسٹ‘‘ ہیں۔Journey to joyکے نام سے وہ اپنا ایک پروگرام بھی چلاتی ہیں جس میں وہ سانس کی کچھ مخصوص مشقوں کے ذریعے اپنے خیالات اور ذہن کنٹرول کرنے پر تربیت دیتی ہیں۔آج کی تحریر میں ان کی اُس گفتگو کا خلاصہ پیش کیاجاتاہے۔
انسانی ذہن ایک مقناطیس
آ پ کو یہ جان کرحیرت ہوگی کہ انسان کا ذہن بالکل مقناطیس کی طرح کام کرتاہے۔یہ اپنی طرف چیزوںکو کھینچتا ہے ۔انسان جس طرح کے خیالات اکثر سوچتا ہے اسی طرح کے حالات اس کی زندگی میں رونماہوناشروع ہوجاتے ہیں۔اس کو ’’قانون کشش‘‘ کہاجاتاہے۔ہم اپنی زندگی میں اس قانون کاتجربہ اکثر و بیشتر کرتے رہتے ہیں لیکن ہمیں احساس نہیں ہوتا۔آپ کے ساتھ ایسا ہواہوگا کہ صبح سے آپ کے ذہن میں ایک دوست کے بارے خیالات آرہے ہوتے ہیں اور شام ہوتی ہے تو اس کافون بھی آجاتاہے۔یہ ہمارے ذہن کی وہ شعاعیں ہوتی ہیں جو اس کے ذہن تک پہنچتی ہیں اور وہ آپ سے رابطے میں آجاتاہے۔’’قانون کشش‘‘سے ہم بھرپو رانداز میں فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔آپ ہمیشہ مثبت خیالات سوچیں اور زندگی میں جو مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کے بارے میں سوچنا اور یہ محسوس کرنا شروع کردیں کہ جیسے وہ چیز آپ کو مل چکی ہے، تو یقیناآپ کو وہ چیز مل جائے گی۔
ہیرا
خوشی ، سکون اور اطمینان انسان کے اندر موجود ہوتاہے۔انسان کے اندر اللہ نے ایک ہیرارکھاہے لیکن وہ اس سے لاعلم ہوتاہے۔جس طرح گڑ کے اوپر مکھیاں بیٹھ جاتی ہیں اور اس کو پوری طرح چھپادیتی ہیں اسی طرح ہماری منفی سوچیں بھی ہمارے اندر کے اس ہیرے کو چھپادیتی ہیں۔اگر اِن منفی سوچوں کو ختم کردیاجائے تو انسان اس ہیرے تک پہنچ سکتاہے جس کی بدولت وہ اپنی زندگی میں خوشی، اطمینان اورسکون حاصل کرسکتاہے۔
وائبریشن
ہم انسان وائبریشن کی زبان بولتے ہیں۔ہر انسان کے گردایک ہالہ ہوتاہے جو اس کے مثبت پن یا منفیت کی ترجمانی کرتاہے۔آپ زندگی میں کسی شخص سے پہلی بار ملتے ہیں لیکن آپ کو وہ پسند آجاتاہے اور بعض اوقات کسی جاننے والا شخص کے پاس بھی بیٹھنا آپ کوپسند نہیں ہوتا۔دراصل یہ ان کا وہ ہالہ ہوتاہے جو آپ پر اثرانداز ہوتاہے۔مثال کے طورپرآپ کسی ایسے کمرے میں گئے جہاں کچھ لمحے پہلے دوانسانوں کے درمیان بحث مباحثہ ہواہوتوآپ وہاں گھٹن محسو س کریں گے۔یہاں بھی ان دوافرادکی منفی لہروں نے کمرے کے ماحول کو منفی بنادیاہوتاہے۔
اپنے اندر کو صاف اور مثبت رکھنا ضروری ہے ۔کیوں کہ جوہمارے اندر ہوگا وہ ہم دوسروں میں بھی منتقل کریں گے۔
سانس کی اہمیت
انسان کے ذہن میں اگر منفی سوچوں کابسیرا ہو تو وہ اس کی زندگی کو عذاب بنادیتی ہیں۔ان سوچوں پرقابو پانے کا آسان طریقہ سانس ہے۔آپ کاسوال ہوگا کہ سانس سے یہ کیسے ممکن ہے؟ جواب یہ ہے کہ سانس انسان کی زندگی میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔انسان پید اہوتاہے توایک لمبا سانس لیتاہے اورجب مرتاہے تو بھی لمباسانس لیتاہے۔ان دونوں سانسوں کے درمیان کے وقفے کا نام زندگی ہے۔دوسری وجہ یہ ہے کہ انسان جب خوش ہوتو اس کا جسم خود بخود سانس کو لمبا کردیتاہے اور جب وہ غمزدہ ہو تو اس کا سانس چھوٹاہوجاتاہے۔ایک تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان اپنے جسم کے 70فی صد زہریلے مادوں کو سانس کے ذریعے خارج کرتاہے۔اگر ذہن کی مثال پتنگ کی طرح ہوتو سانس اس کے لیے ڈوری ہے۔جب ڈوری پر انسان کا کنٹرول مضبوط ہو تو پتنگ بھی کنٹرول میں ہوتی ہے۔سانس کی مشقوں کے ذریعے انسان اپنے اندر کو جان لیتاہے،وہ اپنی سوچوں پرقابو پالیتاہے اور یہ چیزاس کو سکون عطاکرتی ہے۔
بیماریاں
یہ بات یادرکھیں کہ انسان پہلے روحانی طورپر بیمارہوتاہے اس کے بعد جسمانی طورپر ۔روحانی طورپر مضبوط انسان جسمانی بیماریوں سے محفوظ رہتاہے۔ روحانیت کے ساتھ جذبات کاایک مضبوط تعلق ہے ۔اللہ نے انسان کے اندر مختلف طرح کے جذبات رکھے ہیں۔رونا ، ہنسنا ، غصہ ،محبت اور نفرت۔ ان سب جذبات کو مثبت انداز میں باہر نکالنا ضروری ہوتاہے کیوں کہ اگر انھیں دبادیاجائے تو یہ جسمانی اعضاپر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔جیسے اگر غصے کوزیادہ دیر اندر رکھ دیاجائے تویہ جگر پر اثرانداز ہوتاہے۔خوف ، کمر کے نچلے حصے کواثرانداز کرتاہے۔اسی طرح باقی جذبات کوبھی اگرباہر نہ نکالاجائے تو کچھ عرصہ بعدجسم میں مختلف طرح کی بیماریاں پیدا ہوناشروع ہوجاتی ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ خود کو روحانی طورپر تندرست رکھاجائے تاکہ ہم جسمانی بیماریوں سے بچ سکیں۔
لمحۂ موجود کی طاقت
ہمارا ذہن چوبیس گھنٹے ماضی اور مستقبل میں گھومتا رہتاہے۔یہ سوچیں ہمارے اعصاب پر اثرانداز ہوتی ہیں اور ہمیں کمزور ، مایوس اور دکھی کردیتی ہیں۔انسان کی سوچوں والی پائپ لائن میں اگر منفی خیالات کا کچراپھنس جائے تو پھر اس میں اچھے خیالات نہیں آسکتے۔منفیت سوچتے سوچتے دماغ بھرجاتاہے ایسے میں اس کو صاف کرنا بہت ضروری ہوتاہے جیسے کلاس روم میں موجود بلیک بورڈ اگرلکھتے لکھتے بھرجائے تو اس کوصاف کرناپڑتاہے ،تب ہی نیالکھاجاسکتاہے،اسی طرح ذہن میں بھی مثبت سوچیں تب آئیں گی جب پہلے منفی سوچوںکو صاف کردیاجائے۔ماضی اور مستقبل کی فکروں سے آزاد کروانے کا ایک بہترین طریقہ مراقبہ ہے۔مراقبہ انسان کو لمحہ موجود میں لے کر آتاہے۔ لمحہ موجود بہت وسیع اور گہرا ہے۔اس میں آکر انسان صحیح معنوں میں اپنی زندگی سے لطف اندوز ہوتاہے۔لمحہ موجود کی طاقت سے انسان اپنی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کوکامیاب اور شاندار بناسکتاہے۔
خوشی
ایک عقل مند سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میںمالدارانسان کون ہے؟ عقل مندشخص بولا:’’ جس کی خوشیاں سستی ہیں۔‘‘
ہمارے ذہن میں صبح و شام یہ خیال ہوتاہے کہ جب میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہوں گاتب میں خوش ہوںگا۔خالی جگہ پر ہماری خواہشات ، تمنائیں اور آرزوئیں ہوتی ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ چیز ہمیں مل جائے تو بجائے خوش ہونے کے ہمارا ذہن اگلی خواہش پیدا کرلیتا ہے اور اس تک پہنچنے کی آرزو کرنے لگ جاتاہے۔اس طرح ایک کے بعد ایک نئی خواہشات جنم لیتی ہیں ، ہماری زندگی ختم ہوجاتی ہے اورپھر ہمیں خیال آتاہے کہ اپنی تمام خواہشات توہم نے پوری کرلیں لیکن پھر بھی ہم خوش نہیں ہوئے۔دراصل سارا مسئلہ ہماری سوچ میں ہے ۔ہم خوشی کوچیزوں ، حالات اور لوگوں سے جوڑدیتے ہیں اور یہی ایک بڑی غلطی کرجاتے ہیں۔یادرکھیں کہ ہم پیدائشی خوش ہیں اور اس کاثبوت یہ ہے کہ آپ نے کبھی کسی بچے کو ڈیپریشن یا اینگزائٹی میں نہیں دیکھا ہوگا ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خوشی ہمارے اندر ہی ہے لیکن ہم اس کو باہر کی چیزوں سے مشروط کردیتے ہیں اور یہ چیز ہماری روح کو تکلیف دیتی ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنے اندر شگرگزاری کی صفت پیدا کریں ۔آپ کامعمولی ہدف بھی اگر مکمل ہوجائے تو اس پربھرپور انداز میں خوشی منائیں۔یہ مت دیکھیں کہ زندگی میں کتنے لمحے ہیں بلکہ یہ دیکھیں کہ ایک لمحے میں کتنی زندگیاں ہیں۔اپنے پاس موجود نعمتوں کا احساس کریں ، انھیں انجوائے کریں اورمنفی خیالات کو ذہن پر طاری نہ ہونے دیںورنہ یہ آپ سے آپ کی خوشی اورآپ کاسکون چھین لیں گے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the university
Telephone
Address
Dunga Bunga
52110