North Ghizer

North Ghizer

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from North Ghizer, Social Media Agency, Gilgit.

21/11/2021
02/11/2021

عنوان: میرا گلگت بلتستان۔
تحریر: عباسؔ ولی۔

؎ یہ دھرتی جان سے پیاری بہت ہے
ہمیں اس خاک سے یاری بہت ہے

نومبر جشنِ آزادی کا دن ہے
ہمیں اس دن کی تیاری بہت ہے

نکل آۓ گا آزادی کا سورج
ستم کی شب اگر بھاری بہت ہے۔

آصف علی آصف۔

پریستان تخّیُل کی آماجگاہ، فلک بوس پہاڑوں، جھیلوں اور سرسبزوشاداب وادیوں کی سر زمین "گلگت بلتستان" پاکستان کا شمالی علاقہ ہے۔
تاریخی طور پر گلگت بلتستان تین ریاستوں پر مشتمل تھا۔یعنی ہنزہ، گلگت اور بلتستان۔ 1848 میں کشمیر کے سکھ ڈوگرہ راجہ نے ان علاقوں پر بزور قبضہ کر لیا اور جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت یہ علاقہ کشمیر کے زیرِ نگیں تھا۔1948 میں گلگت بلتستان کے غیور عوام نے اپنے ہی زورِ بازو، بغیر کسی جدید ہتھاروں کے، اپنی قوت ایمانی سے اس خطے کو ڈوگرہ راج سے آزاد کرا لیا۔
گلگت بلتستان کی ابتدائی تاریخ کچھ یوں ہے؛۔۔۔
چینی سیاہ فاہیانگ جب اس علاقے میں داخل ہوا تو یہاں پلوا نامی ریاست قائم تھی جو کہ پورے گلگت بلتستان پے پھیلی ہوئی تھی اور اسکا صدر مقام موجودہ خپلو کا علاقہ تھا۔ پھر ساتھویں صدی میں اسکے بعض حصے تبت کی شاہی حکومت میں چلے گۓ۔ پھر 9 صدی میں یہ مقامی ریاستوں میں بٹ گئی جن میں سکردو کے مقپون اور ہنزہ کے ترکھان خاندان مشہور ہیں۔ مقپون خاندان کے راجاؤں نے بلتستان سمیت لراخ، گلگت اور چترال تک کے علاقوں پر حکومت کی۔ احمد شاہ مقپون اس خاندان کا آخری راجا تھا جسے ڈوگرہ افواج نے ایک ناکام بغاوت میں 1840 میں قتل کر ڈالا۔ پھر 1947 میں بر صغیر کے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہاں بھی آزادی کی شمع جلنے لگی۔ پھر کرنل مرزا حسن خان سمت گلگت بلتستان کے دیگر جانباز اور دلیر باسیوں سے اپنے جانثار ساتھیوں کے ہمراہ پورے علاقے کو ڈوگرہ استبداد سے آزاد کر لیا۔
2009 میں گلگت بلتستان کو آزاد حیسیت دے کر پہلی دفعہ یہاں انتخابات کرواۓ گۓ جس میں پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سید مہدی شاہ پہلے وزیر اعلیٰ منتخب ہوۓ۔

؎ہم بیٹے ہیں کہساروں کے
برفِیلے مست نظاروں کے

محتاج کہاں پہچان کے ہیں
ہم گلگت بلتستان کے ہیں ❤

خوبصورتی کے لحاظ سے گلگت بلتستان اپنی مثال آپ ہے۔ قدرت کی بنائی ہوئی خوبصورت وادیوں، جھیلوں، پہاڑوں اور آبشاروں کا تذکرہ گلگت بلتستان کی خوبصورتی کے بغیر نامکمل ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ٹھیک ہے کہ خوبصورتی پروردگار نے دیکھنے والے کی آنکھ میں رکھی ہے مگر خوبصورتی اپنے ظاہری وجود کے ساتھ بھی اس جہاں میں کارِ فرما ہے۔اہلِ زوق کے لطیف جذبات کو گنگناتی حسین وادیاں، میٹھے پانی کی سریلی آبشارے اور پریستان تخیل کی آماجگاہ گلگت بلتستان اپنے دیکھنے والوں پر ایک سحر طاری کۓ رکھتی ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ انتہائی سادہ، مہمان نواز اور خوش اخلاق ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ زبانوں کے تناسب کے لحاظ سے گلگت بلتستان کو پاکستان کے دیگر تمام صوبوں پر فوقیت حاصل ہے۔ یہاں کے باشندے کھوار، شینا، بلتی، بروشسکی اور وکھی سیمت دیگر کئ زبانیں بولتے ہیں۔

"میرا وطن"

اک مثالی چمن ہے _____میرا وطن
یعنی باغِ عدن ہے _____ میرا وطن

اس کے پاؤں تلے ہے ___ سارا جہاں
سب سے اونچا وطن ہے میرا وطن

اس کا اک نام ________بامِ دنیا ہے
کُل جہاں کا ____گگن ہے میرا وطن

سبزہ و گُل پہاڑ _____اور جھیلیں
حُسن کی انجمن ہے ____میرا وطن

یہ جو ہیں سلسلے _____پہاڑوں کے
یہی کوہ و دمن ہے ____ میرا وطن

یہ ہے لیلیٰ میں اِس کا مجنوں ہوں
میرا سچا سجن ہے ____ میرا وطن

اس کی چاہت میں ہوں میں دیوانہ
میرا دیوانہ پن ہے _____ میرا وطن

پائلیں بجتی ہیں ___فضا میں یہاں
چھن چھنا چھن چھنن ہےمیرا وطن

یہ ہے گلگوت ______یعنی قبرستان
غاصبوں کا دفن ہے ____ میرا وطن

آج کل _____ سازشوں کا موسم ہے
اِن دنوں ____ پُرفتن ہے میرا وطن

اس کا حافظ ____خدا ہی ہے شاہد
صدقۂ پنجتن ہے ______میرا وطن

شاہد حسین شاہد۔

گلگت بلتستان کے شمال مغرب میں افغانستان کی واخان پٹی ہے جو پاکستان کو تاجکستان سے الگ کرتی ہے۔جبکہ شمال مشرق میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کا ایغوا کا علاقہ ہے۔ جنوب مشرق میں مقبوضہ کشمیر، جنوب میں آزاد کشمیر جبکہ مغرب میں صوبہ سرحد واقع ہے۔
گلگت بلتستان میں سات ہزار میٹر سے بلند چوٹیاں واقع ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی "کے -ٹو" بھی اس خطے میں موجود ہے۔ علاوہ ازیں دنیا کے بلند اود دشوار پہاڑی گزار قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش یہاں آکر ملتے ہیں۔جب کہ دینا کے تین بڑے گلیشیز بھی اس خطۂ ارض میں واقع ہیں۔

تمام گلگت بلتستان کے غیور اور بہادروں کو گلگت بلتستان کی آزادی بہت بہت مبارک ہو۔ خدا اس خطۂ ارض کو تا قیامت آزاد، آباد اور شاد رکھیں۔ آمین۔🙌❤

02/11/2021

امداد کی اپیل
ضلع غذر تحصیل اشکومن شونس تعلق رکھنے والی ریحانہ دولت ولد دولت شاہ جو کہ اس وقت آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی میں بلڈ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں جس کا کا علاج چل رہا ہے مالی حالت کمزور ہونے کی وجہ سے آپ تمام بھائیوں اور دوستوں سے امداد کی اپیل کرتے ہیں جو بھائی اس معصوم بچی کی مدد کرے گی اللہ پاک اس کا اجر أس کو دے گا
Name: ‎HBl Bank account nambar
Phone: ‎‎0023027000890901‎‎
دولت شاہ موبائل نمبر
03121528396

(فضل گلگتی واٹس ایپ نمبر

(+923175696337
تمام دوستوں سے گزارش ہے اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ کوئی نہ کوئی اس غریب بچی کی مدد کرے گی۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Gilgit