Daily Updates

Daily Updates

Share

ہر وقت، بر وقت

03/02/2026

سید واحد علی شاہ کو فنانس اینڈ اکاونٹ آفیسر محکمہ زراعت, لائیو سٹاک اینڈ فشریز گلگت بلتستان تعینات کردیا گیا.
سیدواحد علی شاہ نے حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے زریعے گلگت بلتستان لیول پر پہلی پوزیشن حاصل کرکے فنانس اینڈ اکاونٹس آفیسر تعینات ہوا تھا.
سید واحد علی شاہ کا تعلق ضلع نگر کے گاوں سید آباد(پھکر) سے ہے.

24/01/2026

گلگت.....ضلع نگر کے علاقے نگر خاص سے تعلق رکھنے والے معروف شعلہ بیان مقرر اور مذہبی اسکالر کیپٹن (ر) محمد سلیم، سابق ADC برائے چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر پاکستان، آج گلگت میں ختصر علالت کے بعد 97 سال کی عمر میں انتقال کر گئے مرحوم کی نماز جنازہ مرکزی امامیہ جامع مسجد میں ادا کرنے کے بعد نگرل قبرستان میں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں سپردِ خاک ہوئے ۔
مرحوم کے پسماندگان میں کے پسماندگان میں ایک بیوہ ،چار بیٹے اور ایک بیٹی ھے ۔
کیپٹن (ر) محمد سلیم ایک ممتاز، تجربہ کار اور نہایت قابل عسکری شخصیت تھے جنہوں نے پاکستان آرمی میں غیر معمولی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور وفاداری کے ساتھ نہایت اہم اور حساس ذمہ داریاں انجام دیں۔ وہ اُن افسروں میں شمار ہوتے تھے جنہیں تاریخی اور اسٹریٹجک نوعیت کے مشنز پر تعینات کیا گیا۔ وہ پاک چین سرحدی حدبندی (1963–1964) کے دوران اُس ٹیم کے سربراہ تھے جو Khunjerab، Parapik اور Mustajilga Passes میں بارڈر ڈیمارکیشن پر مامور تھی۔ خصوصاً Mustajilga Passes کی دریافت اور تصدیق میں ان کا کردار سرحدی حدبندی کی تاریخ میں ایک نمایاں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے اس نہایت دشوار مشن کے دوران محض سات دن کے راشن اور ایک پورٹر کے ساتھ قراقرم کے واٹرشیڈ ایریا میں، جو پندرہ ہزار فٹ سے زائد بلندی پر واقع تھا، دو انتہائی کٹھن اور غیر آرام دہ راتیں گزاریں اور اس دوران اس چینی حدبندی ٹیم سے کامیابی کے ساتھ رابطہ قائم کیا جو اپنی مرکزی ٹیم سے منقطع ہو چکی تھی۔ دنیا کی مشکل ترین سرحدوں میں سے ایک کی حدبندی کا عمل چند ہی ہفتوں میں مکمل ہونا، ان کی انتھک محنت، جرات اور پیشہ ورانہ تعاون کے بغیر ممکن نہ تھا، جس کے اعتراف میں ان کی خدمات پر ایک باضابطہ تعریفی نوٹ اس وقت کے سروے جنرل آف پاکستان کو ارسال کیا گیا۔

بعد ازاں سن 1967ء میں وہ Passu Air Strip کی تعمیر کے دوران تعینات اُس خصوصی ٹاسک فورس کے سربراہی حصہ رہے جو سینئر کمان کی زیرِ قیادت کام کر رہی تھی۔ یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تھا کہ تقریباً پندرہ سو (1500) افراد پر مشتمل باقاعدہ فوجی دستہ پاسو کے مقام پر قیام پذیر ہوا۔ شدید موسمی حالات، محدود ذرائع آمدورفت اور مواصلاتی مشکلات کے باوجود انہوں نے نہایت ذمہ داری، استقامت اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں اور مشن کی کامیابی میں مؤثر کردار ادا کیا۔

ان شاندار فیلڈ خدمات، اعلیٰ کردار , بے مثال اعتماد اور متاثر کن شخصیت کے سبب محمد سلیم کو آنریری کیپٹن کا اعزاز اور چیف آف آرمی اسٹاف اور صدرِ پاکستان کے آنریری ADC کے طور پر تعینات کیا گیا، جو ان کی پیشہ ورانہ ساکھ، دیانت داری اور اعلیٰ عسکری قیادت کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔

اسی تسلسل میں، سن 1984ء میں انہیں سیاچن گلیشیئر کے Siala and Bilafondla Sectors میں ایک نہایت حساس اور خصوصی مشن پر مامور کیا گیا، جہاں انہوں نے غیر معمولی جذبے، فرض شناسی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دی گئی ذمہ داری کامیابی سے انجام دی۔ ان کی اس شاندار کارکردگی کو سرکاری طور پر تسلیم کیا گیا اور باضابطہ طور پر ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔
فوجی خدمات کے ساتھ ساتھ کیپٹن (ر) محمد سلیم ایک نامور تاریخ دان، صاحبِ بصیرت دانشور اور منفرد اندازِ بیان کے حامل تھے۔ وہ کئی اہم تاریخی واقعات کے چشم دید گواہ رہے اور اپنی مشاہداتی بصیرت کے ذریعے تاریخ کو زندہ رکھنے کا فریضہ انجام دیتے رہے۔ آپ کا تعلق ضلع نگر کے علاقے نگر خاص سے تھا۔
ان تمام خدمات کے ساتھ ساتھ جب اپنے منفرد انداز بیان کے ساتھ ریڈیو پاکستان کے بروشسکی چینل پر پروگرامز کا آغاز کیا تو بروشسکی چینل کو ایک منفرد مقام بخشا۔
ان کی پوری زندگی خدمت، علمی تحقیق، فضائلِ اہلبیت علیہم اسلام کی ترویج، دیانت اور قومی وفاداری کی ایک روشن مثال ہے، جو نہ صرف عسکری تاریخ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید ورثہ چھوڑ گئی۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


گلگت بلتستان
Gilgit
1500