Social Welfare Organization Chorit

Social Welfare  Organization Chorit

Share

promote the basic needs of poor and helpless people.

Photos from Social Welfare  Organization Chorit's post 31/03/2025

کارکنان سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کی طرف سے تمام اہل اسلام کو عیدالفطر مبارک ہو۔
الحمداللہ آج عیدالفطر کے اس عظیم اور پر مسرت دن کے موقعے پر سوشل ویلفیئر آرگنائزیشن چورت کی طرف سے ضرورت مند لوگوں کو امدادی فنڈ تقسیم کیا گیا۔
ہم تمام احباب کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالا.

04/02/2025

ایلیمنٹری رزلٹ کی ناکامی
اور یونین رحمان پور
رحمن پور یونین میں ایلیمنٹری بورڑ کا رزلٹ انتہائی مایوس کن رہا اور سوشل میڈیا میں ایک ٹرینڈ بن گیا ۔
ہر زی شعور آدمی نے اپنی ذہنیت اور تجربے کی بنیاد پر قیمتی آرا پیش کئے جو حق بجانب ہیں۔ کسی بھی فرد کے لئے ناکامی ایک بڑا صدمہ ہے اور خاص کر ان غریب والدین کے لئے جو اپنی پیٹ کاٹ کر بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے ہیں۔ آ اگر کسی کا بچہ فیل ہوا ہے تو اس نے کسی نہ کسی کو تارگٹ کرنا ہے اور اس تارگٹ فائر میں معلم، بالا حکام ، یا ادارے سے منسلک کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔ لیکن اب پچتاۓکیا ہوت جب چڑیا چھ گئی کھیت۔
اب ہمیں اس کا کوئی حل ڈھونڈ نا ہوگا تاکہ ہم اپنی نئی نسل کو مزید ناکامی کے شکنجے سے نکال سکے۔
رحمن پور یونین میں رزلٹ ناکامی کی بنیادی وجوہات میری ناقص رائے کے مطابق حسب ذیل ہیں۔
باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یونین میں اساتذہ کی کل اسامیاں سو کے آس پاس ہیں جس میں سے تینتیس پوسٹیں خالی ہیں اور تقریباً بیس سے پچیس اساتزہ ڈاون سٹیز میں ڈیوٹی دے رہے ہیں اور کل ملایا جائے تو پچاس۔ ساٹھ بنتے ہیں اگر سو میں سے ساٹھ اساتزہ نہ ہو تو سکولوں کا نظام کیسے چلے گا۔
دوسری بڑی وجہ مڈل سکولوں کو ہائی اور پرائمری سکولوں کو مڈل کرنا حلانکہ گورنمنٹ کھاتے میں پرائمری ہیں اور مڈل کا سٹاف سیکشن نہیں ہے جس کی وجہ سے سکولوں میں اساتزہ کو ایک اضافی بوجھ ہوتا ہے حالانکہ بچارے اپنے مخصوص پیریڈ مجبوری سے پڑھاتے ہیں۔ اس کی مثال گرلز ہائی سکول چورت اور مڈل سکول نہاکے ہیں جو ابھی تک افیشل ہائی اور مڈل نہیں ہیں
تیسری بنیادی وجہ اساتزہ کا رویہ ہے جو سکول نظم ونسق میں دلچسپی نہیں رکھتے ہیں اگر بچہ سکول سے غیر حاضر ہوتا ہے اور پندرہ بیس دن بعد بھی سکول آتا ہے تو اس کو کلاس میں رکھا جاتا ہے کیونکہ کوئی نہ کوئی ٹیچر اس کا رشتہ دار نکلتا ہے اور بغیر والدین کو بلا ۓ اس کو کلاس میں رکھا جاتا ہے جو سب سے بڑی نالائقی ہے ۔ اس کے علاوہ بہت سارےاساتزہ جدید تدریسی نظام سے ہم آشنا نہیں ہیں اور روایتی تدریسی طریقوں سے پڑھاتے ہیں جو اس جدید طرز تعلیم کے لئے موزوں نہیں ہے
ایک اور بڑی وجہ والدین کی لاپرواہی ہے کبھی کوئی اپنے بچے سے یہ نہیں پوچھتا ہے کہ آج آپ نے سکول میں کیا پڑھا، کس ٹیچر نے کونسا ہومورک دیا، کس کتاب کا سلیبس مکمل ہے اور کس کا نہیں۔ اگو والدین اپنے بچوں سے پوچھ ینگے تو کون سا ٹیچر نہیں پڑھاتا ہے اور کس سبجیکٹ کا سلیبس مکمل نہیں ہے سب کچھ عیاں ہو جائے گا اور اس طرح وہ اساتزہ کی لاپرواہی کا بھی ادراک کر سکتے ہیں۔
سب سے اہم اور بنیادی وجہ ایجوکیشنل ایڈمنسٹریشن ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سکول میں نظم ونسق کی نگرانی نہ کرنا، سیاسی پریشر میں مخصوص طبقے کو نوازنا یعنی شہروں کی طرف ٹرانسفر کرنا، اساتزہ کو جزاوسزا سے استثنا حاصل ہونا۔ امتحانات کا دسمبر میں منعقد کرنا کیونکہ امتحانات دینے کے بعد بچے سردیوں میں بے کار پڑھے رہتے ہیں ورنہ امتحان کے پریشر میں پوری سردیاں کسی نہ کسی کے پاس ٹیوشن پڑھتے تھے
باقی ناظرین بھی اپنے رائےکمنٹ سیکشن میں پیش کر سکتے ہیں
تعلیمی نطام کی درست بحالی کے لئے ہم جناب سیکریٹری ایجوکیشن، جناب وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان، اور چیف سیکریٹری سے پرزور مطالبہ کرتے ہیکہ خالی آسامیوں کو ایڑورٹائز کر کے فلفور اساتزہ کی کمی کو پورا کیا جائے اور اساتزہ کی ریپیٹریشن کر کے تمام کو اپنے پیرنٹ سٹیشن میں حاضر کیا جاۓ اور اساتزہ کی تدریس کارکردگی میں جزا و سزا کا عنصر متعارف کرایا جائے بصورت دیگر ہم تعلیمی سال ۲۰۲۵ میں سکولوں کا بائیکاٹ کرینگے اور احتجاج کی کال دینگے۔ سکولوں کو احسن انداز میں چلانے کے لئے سکول کمیٹی کو عمل میں لایا جائے۔
المشتہر۔۔۔ لیاقت اللہ انفارمیشن سیکریٹری swoc

Want your organization to be the top-listed Non Profit Organization in Gilgit?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Gilgit