Qirtaas
@Qirtaas is non-profit organization for Urdu language, literature and culture. @qirtaas
23/05/2026
يَا خَدِيجَةُ، مَنْ يُصَدِّقُنِي؟
اے خدیجہ! میرا کون یقین کرے گا ؟🥺
(اللہ اکبر)
صل اللہ علیہ وسلم!!!
ایرانی سنیما کا یہی تو حسن ہے کہ وہ انسانی جذبات کے سب سے پیچیدہ اور سنگین موڑ کو بغیر کسی سستی ڈراما بازی یا چیخ و پکار کے، نہایت سادگی اور سلیقے کے ساتھ پیش کر دیتا ہے۔ مشہور ایرانی سیریل "یاغی" کا یہ منظر روایتی فلمی منظر نگاری سے ہٹ کر انسانی نفسیات اور ضبط کی ایک ایسی لازوال تصویر ہے جو دیکھنے والے کی روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ ڈائریکٹر نے یہاں ایک ہی وقت میں زندگی کے دو سب سے بڑے اور متضاد سچائیوں کو آمنے سامنے کھڑا کر دیا ہے، جہاں ایک طرف موت کا مہیب سکون ہے اور دوسری طرف زندگی کا بھرپور جشن۔
منظر کا آغاز ایک بوڑھے باپ کی خاموش رخصت سے ہوتا ہے۔ مرکزی اداکار علی شادمان نے اس لمحے کو جس کمال سے جیا ہے، وہ دنگ کر دینے والا ہے۔ وہ اپنے باپ کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھتا ہے، ان کی پیشانی اور ہاتھوں کو چومتا ہے، لیکن اس کے چہرے پر کوئی روایتی واویلا نہیں ملتا۔ وہ اپنے اس گہرے دکھ کو اس وقت گھر کے باقی لوگوں پر بھی ظاہر نہیں کرتا جو پاس ہی اپنے کاموں میں مصروف ہیں، کیونکہ وہ شاید اس تلخ حقیقت کو چند لمحوں کے لیے صرف اپنے تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔
اصل جذباتی طوفان تب شروع ہوتا ہے جب یہ بیٹا اس اداس کمرے سے باہر نکلتا ہے جہاں بچوں کی سالگرہ کی تقریب چل رہی ہے۔ وہاں غبارے ہیں، قہقہے ہیں اور خوشی کی پھوار ہے۔ زندگی اپنے پورے رنگ کے ساتھ ناچ رہی ہے اور اسی دوران ایک معصوم بچی اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جشن میں شامل ہونے کے لیے کھینچتی ہے۔ وہ شخص، جس کا باپ ابھی چند سیکنڈ پہلے دنیا چھوڑ گیا ہے، اس معصوم بچی کا دل رکھنے کے لیے میکانکی انداز میں اپنے ہاتھ ہلانے لگتا ہے۔ خوشی اور غمی کا یہ تضاد، اور اپنوں کے لیے اپنے سب سے بڑے دکھ کو اندر ہی اندر پی جانے کا یہ منظر دیکھنے والے کا دل کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔
کمرے کے ایک کونے میں بیٹھ کر سگریٹ سلگانا، اس کے دھوئیں میں اپنے اندر کے غبار کو اڑانے کی کوشش کرنا اور باپ کے بے جان ہاتھ کو ہونٹوں سے لگا کر رو پڑنا، یہ سب خاموش اشارے اس بات کی گواہی ہیں کہ بعض اوقات زندگی ہمیں کھل کر ماتم کرنے کی مہلت بھی نہیں دیتی۔ ہمارے ہاں دکھ کی گھڑی میں اس طرح کے سحر انگیز ضبط اور سلیقے کا فقدان نظر آتا ہے، لیکن یہ کلپ ثابت کرتا ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں اور چیخیں دم توڑ دیتی ہیں، وہاں چہرے کی خاموشی اور آنکھوں کا سپاٹ پن سب سے بڑا نوحہ بن جاتا ہے۔ واقعی، یہ ایک ایسا شاہکار منظر ہے جو دیر تک ذہن سے محو نہیں ہوتا۔ اور یہ صرف ایرانی سنیما کا کمال ہے ۔
راشد خان
Click here to claim your Sponsored Listing.
Contact the organization
Website
Address
Gilgit