Manzoor Levi
I am serving as a Social Activist and legal advisor.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک شخص آپ سے ملنے مدینے کو چلا💙 جب مدینے کے پاس پہنچا تو آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا۔۔ ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی۔۔۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا۔۔۔۔ جب آپ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے۔۔۔جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں۔۔ آپ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس شخص نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں ، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹھہرو میں آتا ہوں۔۔۔ آپ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے، وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو۔۔۔۔
آپ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں ،،،
سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے دوستو جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا بادشاہ ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق اعظم ہے ) ۔۔۔ جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے ۔۔۔۔۔ وہ شخص ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،، جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق خود ہیں۔۔۔۔ جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا "امیر المومنین" کی سدا سن کر اس شخص کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر فاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپے آپ وہ ہیں وہی والے عمر ہیں جس کے بارے میں حضرت علی نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟؟
آپ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ کی بیوی، خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے پاس آپ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں توں کہاں آیا ہے ؟ ؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں۔۔۔ غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں۔“
سبحان اللہ
حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ کے اخلاق و عادات ۔
(کنزالعمال ج ۶ : ۳۴۳)
❤️
جزاک اللہ خیرا
10/12/2025
(فتح ثمرقند اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے…)
حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمة
ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کے حکمران “عمر بن عبد العزیز” سے ملنا چاہتا تھا۔
اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔
پادری نے لکھا !
“ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔
مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کرکے ہمیں مفتوح کر لیاگیا ہے۔”
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے سلطنت اسلامیہ کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔
دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کررہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔
جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔
لوگوں نے کہا، “ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔”
قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھر پر جا کر دستک دی،
جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کررہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔
قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔
عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام : ”ایک قاضی کا تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔” مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔
سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا .. کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔
مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔
قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟
پادری نے کہا :قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔
قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟
قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔
سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کرلیا۔
قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی؟
قتیبہ نے کہا :نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کردیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔
اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہوتو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔
پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جاچکا تھا۔
ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔
ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کردے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور "لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ" کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔
دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔
کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔ آج غیر مسلم تو دور کی بات ،مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔
بلوچستان اور پشتونخوا میں قتل عام، غزہ میں قتل عام اور مسلمانوں کی بےحسی اس کی مثالیں ہیں۔
مستند حوالہ جات:
1) فتوح البلدان — امام بلاذری (م 279ھ)
باب: فتح سمرقند
(اہلِ سمرقند کی شکایت اور قاضی کے فیصلے کا بنیادی ذکر)
2) تاریخ الطبری — ابن جریر طبری (م 310ھ)
جلد 7 / واقعاتِ سمرقند
(قتیبہ بن مسلم کا فتحِ سمرقند اور اہلِ شہر کی فریاد کا حوالہ)
3) الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (م 630ھ)
سال 95–96 ہجری کے واقعات
(فتحِ سمرقند اور عدالتی فیصلہ مختصر بیان ہوا ہے)
دلچسپ و عجیب تاریخ
زندگی نے مجھے ایک سبق بہت دیر سے سکھایا۔ہر لڑائی لڑنے کے قابل نہیں ہوتی۔ ہر بحث آپ کی عزت نہیں بڑھاتی، اور ہر شخص آپ کی توجہ کے قابل نہیں ہوتا۔
زندگی سے سیکھیے کہ کب خاموشی اختیار کرنا سب سے طاقتور فیصلہ ہوتا ہے۔ کچھ چیزوں کے فیصلے وقت پر چھوڑ دیں ۔ اپنی توانائیاں غلط لوگوں پر خرچ مت کریں..
*دین اسلام کا ہر فرد اپنی جگہ قیمتی ہے*
یہ وہ دین ہے جو کبھی خالد بن ولیدؓ کی تلوار کا محتاج ہوا جب جنگیں شدت اختیار کر گئیں، اور کبھی حسان بن ثابتؓ کے اشعار کا محتاج ہوا جب فکری جنگیں چھڑ گئیں۔
خالدؓ حسانؓ کی جگہ نہیں لے سکتے تھے، اور حسانؓ خالدؓ کی جگہ نہیں لے سکتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک کو ایک مورچے پر کھڑا کیا ہے، اور ہم پر فرض ہے کہ اس مورچے کی حفاظت کریں — نہ اُسے کمتر سمجھیں اور نہ ہی اپنے مورچے کو دوسروں سے برتر جانیں۔
غزوہ تبوک کے موقع پر عثمان بن عفانؓ کا مال اُبی بن کعبؓ کی قراءت سے زیادہ اہم تھا، لیکن قرآن کے جمع کیے جانے کے وقت اُبی بن کعبؓ کی قراءت، عثمانؓ کے مال، خالدؓ کی تلوار اور حسانؓ کے اشعار سے بڑھ کر اہمیت رکھتی تھی۔
لہٰذا جب تمہاری باری آئے، تو شیر بن جاؤ!
جس طرح خیبر کی جنگ میں علی بن ابی طالبؓ کی تلوار مرحب کو ختم کر سکتی تھی، لیکن وہ بلالؓ جیسے غلام کو آزاد نہیں کرا سکتی تھی — اور ابوبکرؓ کا مال بلالؓ کو آزادی دلا سکتا تھا، لیکن مرحب کو نہیں مٹا سکتا تھا۔
یہ دین مقابلہ نہیں، بلکہ تکمیل کا دین ہے۔ ہر فرد کی اپنی جگہ ہے۔
آج بھی یہی حال ہے — مختلف مورچے ہیں، اور ہم سب کسی نہ کسی مورچے پر ہیں۔
• ماں اپنے گھر میں مورچے پر ہے، کیونکہ مردوں کی تربیت ایک عظیم کام ہے۔
• استاد اپنی کلاس میں مورچے پر ہے، کیونکہ جاہل قوم کو قیادت نہیں دی جا سکتی، وہ صرف تابع بن سکتی ہے۔
• مجاہد اپنے مورچے پر ہے، جس کی جگہ امام مسجد نہیں لے سکتا۔
• امام مسجد اپنے مورچے پر ہے، جس کی جگہ تاجر نہیں لے سکتا۔
لیکن تاجر کا صدقہ، خیرات اور لوگوں کی مدد بھی مجاہد کے خون اور امام کے علم جتنا اہم ہے۔
دیکھو اللہ نے تمہیں کہاں کھڑا کیا ہے — وہی تمہارا مورچہ ہے۔ اسے سنبھالو، اس میں محنت کرو، اور جب ہر فرد اپنا کردار ادا کرے گا، تب یہ اُمت اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرے گی۔
لہٰذا خود سے آغاز کرو — دوسروں سے توقع نہ رکھو کہ وہ تمہارا کام کریں گے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Gilgit