The SHK Blog
Writer/Social Media Marketing Expert/Consultant
9 to 6میں رہ کر آپ صرف خواب دیکھ سکتے ہیں انھیں پورا نہیں کر سکتے،
جاب آپ کو صرف اتنا ہی دیتی ہے جس میں آپ کھانا کھا سکیں،کپڑے خرید سکیں اور بجلی کے بل ادا کر سکیں۔
اگر آپ میری طرح بے چین روح ہیں اور آپ کے خواب ہیں تو آپ کو یہ سوچنا ہو گا کہ 9 to 6کب تک۔
کب تک اسی ریٹ ریس میں رہنا ہے،کب تک سوموار شروع ہوتے ہی جمعہ کی شام کا انتظار کرنا ہے،کب تک اپنے خوابوں کو Postpone کرنا ہے۔
میں خود بھی جاب ہی کر رہا ہوں میں اسے برا نہیں کہتا۔مگرتمام عمر جاب میں رہنا برا ضرور ہے۔
تھوڑے سے پیسوں کے لئے اپنی صلاحتیں،اپنی سوچ اپنا وقت بیچ دینابھلا کہاں کا انصاف ہے۔
اگر آپ اپنی جاب میں مطمئن ہیں تو پھر تو بات ٹھیک ہے۔لیکن اگر نہیں ہیں تو اسی جاب سے چپکے رہنے کی بجائے اسے اپنے آئیڈیل کیرئیر تک پہنچنے کی ایک سیڑھی سمجھیں نا کہ ساری زندگی رہنے کی جگہ۔
آپ کو پسند ہے یا فیوچر میں جو آپ بننا چاہتے ہیں،ہرروز چار پانچ گھنٹے وہ کام کرتے رہیں،ایک دن ایسا ضرور آئے گا کہ آپ اپنی من پسند دنیا تخلیق کرنے میں کامیاب ہو چکے ہوں گے اوراس زندگی سے نجات پا چکے ہوں گے جسے آپ جینا ہی نہیں چاہتے۔
اکستان میں لوگوں کی اکثریت لوئر مڈل کلا س فیملی سے تعلق رکھتی ہے،اس کلاس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگی صریحاّ جہدوجہد ہوتی ہے۔
میں بھی ایسی ہی ایک فیملی کا فرد ہوں،جس کے بہت سے خواب ہیں،جس کے بہت سے مسائل بھی ہیں،جس نے 24سا ل کی عمر میں زندگی کا ہر وہ ذائقہ چکھا ہوا ہے جو شائد لوگ ساٹھ ستر سال کی زندگی گزارنے کے بعد چکھتے ہیں۔
گھریلومسائل سے لے کر،تعلیم،کیرئیر،زاتی زندگی،پردیس،تنہائی،ڈیپریشن،ریجکشن،خالی جیب،اور سب سے بڑھ کر اپنی ماں کو اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارنے تک،زندگی کا ایسا کون سا رنگ ہے جو نظروں سے اوجھل رہا ہو۔اس کچی جوانی میں ساری قوسِ قراح ہی تو دیکھ لی ہے۔
مگر کیا میں پہلا شخص ہوں جس نے ابھی ہی زندگی کے اتنے رنگ دیکھ لیے ہیں،
میرا نہیں خیال۔
میری ماں مری ہے تو آپ کا بھی تو کوئی اپنا بچھڑ ا ہو گا۔
میں نے ڈیپریشن سہا ہے،انزائٹی نے میری آنکھوں پر حلقے ڈالے ہیں تو کوئی رات ایسی بھی تو ہو گی جو آپ نے بھی جاگ کر گزاری ہوگی۔
میں نے اگر محبت میں ٹھوکریں کھائی ہیں تو کوئی شخص آپ کو بھی تو اچھا لگا ہوگا۔
میں نے اگر اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہاسٹل میں گزارا ہے تو آپ بھی کچھ وقت کے لئے ہی سہی مگر گھر سے باہر تو رہیں ہوں گے۔
میں نے اگر 30انٹرویو دیے ہیں تو دو چار کا تجربہ تو آپ کو بھی ہوگا۔
میں نے اگر Toxic Bossکا رویہ سہا ہے تو جاب کا تجربہ تو آپ کو بھی ہوگا۔
میں نے اگر ساری قوسِ قزاح دیکھ لی ہے تو کچھ رنگوں سے واقفیت تو آپ کی بھی ہوگی۔
at the end بچتا ہمارے پاس صرف صبر ہی ہے۔
پسندیدہ شخص چھوڑ گیا تو صبر۔
کوئی اپنا دنیا سے رخصت ہو گیا تو صبر۔
کسی سے پھڈا ہوگیا تو صبر۔
کیرئیر میں اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں تو بھی صبر۔
مالی معماملات درست نہیں ہیں تو بھی صبر۔
اگر دیکھا جائے تو زندگی میں ہمیں ہر روز کسی نہ کسی چیز پر صبر کرنا پڑتا ہے۔
دنیا سے تھکے ہارے انسان کا سب سے بڑا ہتھیار کیا ہوتا ہے صبر۔
یہ صبر ہی ہوتا ہے۔جو انسان کو مشکل وقت میں حوصلہ دیتا ہے۔مجھے لگتاہے کہ زندگی میں انسان کو بہت سی چیزوں پر اختیار ہونے کے باوجود اختیار نہیں ہوتا۔انسان کو چاہتے ہوئے یا نا چاہتے ہوئے go with flowکی پالیسی کے تحت وقت کے بہاؤ کے ساتھ بہنا ہی پڑتا ہے۔شاید یہی زندگی ہے بعض اوقات شاید وقت کے بہاؤ کے ساتھ بہنا ہی زندگی بن جاتا ہے۔
اگر ایسا ہے تو ہم ایک ہی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم مختلف نہیں ہیں،ہمارے مسائل،ہمارے درد،ہماری جہدوجہد کی کہانی اور ہمارے خواب سبھی کچھ سانجھا ہے۔
میں ایک ایسا شخص ہو ں جو زندگی کے کھٹن ترین حالات میں بھی اپنے خوابوں کو مرنے نہیں دینا چاہتا،جو ایسی کلاس کا نمائند ہ ہے جس کی زندگی صریحاّ جہدوجہد ہے۔
میں جب اپنے جیسے لوگو ں سے ملتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میری کہانی صرف میری نہیں ہے یہ ہر اس مڈل کلاس نوجوان کی داستان ہے،جو زندگی میں کچھ کرنا چاہتا ہے اور جس کے پاس شدید اور ان تھک محنت کے سوا اور کوئی آپشن نہیں۔
یہی سوچ کر میں نے TheSHKblogشروع کیا۔
اس میں،میں آپ سے شئیر کروں گا اپنی روزمری زندگی کی باتیں،اپنی سابقہ زندگی میں کون کون سے بلنڈر کیے،اپنے خواب،اور ان کو پورا کرنے کی جہدوجہد کی کہانیاں۔میں کیا سیکھ رہا ہوں کیا کر رہا ہوں،سب کچھ سادہ لفظوں میں آپ کے سامنے۔
مجھے یقین ہے کہ میرے ٹوٹے پھوٹے لفظ آپ کے لئے کارآمد ثابت ہوں گے۔میری باتیں پڑھ کر آپ کو یہ ضرور محسو س ہوگا کہ کہیں نہ کہیں یہ بات،یہ واقعہ یہ حادثہ میرے ساتھ بھی رونما ہوا ہے۔
کیوں کہ ہم ایک جیسے ہی ہیں،نام بدلنے سے،کردار بدلنے سے کہانی تو نہیں بدل جایا کرتی۔
سید حسنین کاظمی
ہم میں سے اکثر لوگ ملازمت پیشہ ہوتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اکثر لوگ ہی اپنی ملازمت سے تنگ بھی ہوں گے۔کوئی ذریعہ معاش نہ ہونے کی وجہ سے بہ امر مجبوری نوکری کر رہے ہوتے ہیں۔
مگر ایک لمحے کے لئے ٹھہر کر سوچئے جاب اتنی بھی بری نہیں۔
جاب سے ہم پیسے تو کماتے ہی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی ایسی خوبیاں ہماری شخصیت میں پیدا ہوتی ہیں جو ایک اچھی زندگی گزارنے کے لئے ضروری ہوتی ہیں
جیسے کہ صبح اٹھ کر تیار ہو کر نوبجے آفس پہنچنا آپ کے اندر ڈسپلن پیدا کرتا ہے،جو کسی بھی کامیابی کی بنیادہے۔
جاب سے ہم Uncomforableماحول میں بھی Survive کرنا سیکھتے ہیں۔
جاب سے ہم یہ بھی سیکھتے ہیں کہ زندگی میں ہر وقت ہماری مرضی نہیں چلتی۔بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ آپ جو صرف سر جھکا کر سننا پڑتا ہے۔بہت اچھا اور اگلے کے چودہ طبق روشن کر دینے والا جواب ہونے کے باوجود بھی زبان کو تالا لگا کے رکھنا پڑتا ہے۔
جاب آپ کے اندر Patience پیدا کرتی ہے جو زندگی کی بنیادی کلید ہے۔
جاب ہی کے ایکسپرئنس سے ایک عام سا شخص مستقبل کا ایک کامیاب انٹرپرینیور یا بھی لیڈر بنتا ہے۔
سید حسنین کاظمی
ایک ہی دن میں دس گھنٹے کسی کام کو دینے کے بعد اگلا پورا ہفتہ سے بھول جانے سے بہت بہتر یہ ہے کہ ایک دن میں آدھا گھنٹہ کام کریں مگر مکمل توجہ اور فوکس سے کریں۔
ہمارے کسی بھی کام میں واضح رزلٹ حاصل نہ کرسکنے کی سب سے بڑی وجہ ہی یہ ہوتی ہے کہ ہم جوش میں ایک ہی دن میں سارا کچھ اچیو کرنا چاہتے ہیں اور پھر جوش مانند پڑنے کے بعد یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہم کسی پروجیکٹ پر کام بھی کر رہے تھے۔
سید حسنین کاظمی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Haripur