Ganish Times
Ganish
The first settlement of Hunza(Over a 1000 years old)
Restored with the cooperation Of NCRAD(1997-2001)
اسماعیلی برادری کے مذہبی پیشوا کے ہنزہ آمد کے بعد اسماعیلی برادری کی گھروں میں واپسی پر چهل گنش کے نننے بچے پہولوں سے استقبال کر رہے ہیں ۔
سانحہ 28 مارچ 2022ء
ہنزہ کی تاریخ کا اندوہناک باب
ہنزہ کی سرزمین، جو صدیوں سے امن، محبت اور رواداری کی علامت رہی ہے، 28 مارچ 2022ء کو ایک ایسے المیے کی گواہ بنی جس نے نہ صرف علاقے کی تاریخ کو سیاہ کیا بلکہ پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ یہ سانحہ دونٹ داس گنش ہنزہ میں پیش آیا ۔ایک واقعہ جو اپنی ہولناکی اور بربریت میں مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔
اس اندوہناک واقعے کے دوران میرے بھائی مرحوم منظور حسین کے ساتھ انتہائی سفاکانہ سلوک کیا گیا۔ ان کی قبر کشائی کی گئی اور دو دن تک ان کی لاش بے یارو مددگار کے کے ایچ پر پڑی رہی۔ جنازے میں شرکت سینکڑوں افراد پر پتھر برسائے گئے، درجنوں افراد زخمی ہوئے، یہاں تک کہ جب ان کے جنازے کو تدفین کے لیے لے جانے والے ایک نجی ہسپتال کی ایمبولینس کو بھی آگ لگا دی گئی۔
یہ تمام کارروائیاں سمائر اور نگر خاص کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے شرپسندوں اور دہشت گردوں نے کیں۔ ریاست کی طرف سے نامزد شدت پسند اور دہشتگردوں کے خلاف اے ٹی اے کے دفعات شامل کر کے ایف آئی آر درج کی مگر آج تک کوئی گرفتار نہیں ہو سکا۔ یہ معاملہ صرف چند ناموں تک محدود نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سمائر اور نگر خاص کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد اس پورے معاملے میں شریک اور قبیح فعل میں ملوث ہیں۔
سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ آج تک کسی ایک شخص نے بھی اس معاملے پر شرمندگی کا احساس تک نہیں کیا۔ نہ کوئی معذرت، نہ کوئی ندامت، نہ کسی سطح پر احتساب گویا یہ سفاکانہ فعل ان کے نزدیک قابلِ فخر کام ہے۔
سانحے کو چار سال بیت چکے ہیں مگر ملوث دہشت گردوں کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ عوام کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ آخر کیوں ان مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جا رہا؟
حقیقت یہ ہے کہ ریاست اور حکومت ان دہشت گردوں کو مکمل چھوٹ دے رہی ہے اور اس کی بڑی وجہ مذہب کے نام پر بلیک میلنگ، یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ان شرپسندوں کا تعلق ایک خاص فرقے سے ہے، اور مذہب کے نام پر ریاست کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ قانون کے نفاذ میں تاخیر، مذہبی بنیادوں پر کی جا رہی ہے جو کسی بھی ریاست کے لیے قابلِ قبول نہیں۔
علاقے کے عوام، جو اس صدمے کے باوجود صبر آزما ہیں، آج بھی انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ اُن کا اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ملوث تمام عناصر خواہ وہ کسی بھی طبقے، مذہب یا سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قبر کشائی، ایمبولینس کو نذرِ آتش کرنے اور دہشت گردی کے دیگر جرائم کے لیے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
جب تک ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوتی، جب تک اس سفاکانہ فعل پر شرمندگی کا اظہار نہیں کیا جاتا، اس المیے کا باب بند نہیں ہو سکتا۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنے کردار کا مظاہرہ کرے اور مظلوموں کو انصاف دلائے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Ganish
Hunza
16500