General knowledge
nll
مائیکروبائیولوجی کی تاریخ
حصہ اول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلکیات اور طبیعیات قدیم سائنسی علوم میں شامل ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ فلکیات کو نجوم سے نتھی رکھا گیا تھا پھر جیسے جیسے وقت گزرا فلکیات — نجوم سے الگ کر دی گئی ۔ یہ سب کیسے ہوا؟ یہ سب سائنس طریق کار کی بدولت ممکن ہوا ۔ یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ کسی فرد واحد نے اس طریق کو مکمل طور پر ایجاد نہیں کیا مگر یہ آہستہ آہستہ تعمیرا ہوا اور اس مضبوط طریق کی وجہ سے بہت سے علوم وجود میں آئے ۔ یہی وجہ ہے کہ حیاتیاتی علوم کی ترقی بہت سست روی کے ساتھ ہوئی ۔ شاید اس کی وجہ کسی نہ کسی طرح ہمارا حیاتی یا کیمیائی علوم کے ساتھ برتاؤ بھی ہے ۔ علم کیمیا کو کہاں ایک وقت جادو کے ساتھ نتھی کیا جاتا تھا اور حیاتیاتی علوم میں بیماریوں کا ذمہ دار الگ الگ چیزیں تھیں ۔ کوئی پراسس نہیں سمجھا جاتا تھا ۔
لگ بھگ دو تین صدیوں پہلے کی بات ہے لوگ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ زندگی عدم سے بھی وجود میں آ سکتی ہے اور ہم جو بیمار ہوتے ہیں یہ ہمارے گناہوں کا کیا دھرا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ زندگی کیسے وجود میں آئی یہ ابھی تک ایک بہت بڑا عقدہ ہے ۔
لوگ بیمار کیوں ہوتے ہیں اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہوتی تھی کیوں کہ لوگ مختلف تہذیبوں سے وابستہ تھے اس لیے ان کا طریق علاج بھی الگ الگ ہوتا تھا ۔ کچھ کا ماننا تھا بری بو کی وجہ سے ہے، کچھ کا یہ کہ گناہوں کی وجہ سے ہے، چھوت کی بیماری کا تصور تھا پر یہ بھی خبیث مخلوق کی کارستانیوں کا ذمہ تھا ۔
ویرو ( Varo ) اور کولیمیلا (Columella) پہلے تھے جنھوں نے یہ تجویز پیش کی کہ جب آپ سانس لیتے ہیں یا کھانا کھاتے اس دوران میں آپ کے اندر نہایت چھوٹی مخلوق جو نظر نہیں آتی چلی جاتی ہے جس کے باعث آپ بیمار ہوتے ہیں ۔
فریکستوریس ( Fracastorius) ویرونا سے تعلق رکھتے تھے انھوں نے کہا کہ چھوتی بیماریاں ( infections disease ) کونٹاجیم ویویم (Contagium vivum) سے لگتی ہیں ۔ ان کے بعد وان پلنسز (Von Plenciz) نے یہ تجویز دی کہ ہر بیماری ہر الگ ایجنٹ کی وجہ سے ہوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مائیکرو بائیولوجی کا اصطلاح فرانسیسی کیمیا دان لوئیس پاسچر نے دی تھی ۔ مائیکروبائیولوجی ایسے حیاتی آرگنامز کے مطالعے کا نام ہے جو مائیکروسکوپ حجم کے ہوں ۔ انیس سے پچاس کے بعد سے حیاتیات علوم وسعت اختیار کر رہے تھے اور اس وسعت کے نتیجے ہی مائیکروبائیولوجی کا علم بھی طلوع ہونا شروع ہوا ۔ مائیکروب کی اصطلاح پہلی مرتبہ غالبا سیڈلاٹ (Sedillot) نے استعمال کی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
دریافت کا دور
سترھویں صدی میں ایک انگریز سائنس دان تھے رابرٹ ہوک کے نام سے ۔ یہ پہلے تھے جنھوں نے لینز کا استعمال کرتے ہوئے ٹشوؤں کی چھوٹی اکائیوں کا مشاہدہ کیا اور اسے خلیہ یا سیل کہا گیا ۔
اینتونی فان لیون ہوک نے اپنی گھر سے تیار کی گئی مائیکرو اسکوپ کی مدد سے بھی ننھی دنیا کے باشندے دیکھے جنھیں اس نے اینیمل کلس (animalcules) کہا ۔
اینتونی فان لیون ہوک ہی غالبا پہلے شخص تھے جنھوں نے مائیکرو آرگنامز جیسا کہ بیکٹریا اور پروٹوزوا کا مشاہدہ کیا اور انھیں درستی سے بیان بجی کیا اور اسے اس نے ننھے یا چھوٹے چھوٹے جانور کہا ۔ یہ ایسے شخص تھے جنھوں نے دس سو پچاس کے قریب مائیکرو اسکوپ بھی بنائے ۔ اور تقریبا پچاس سال کے عرصے میں انھوں نے دو سو کے قریب خطوط بھی لکھے تھے ۔ ان کا کردار مائیکروبائیولوجی میں بہت زیادہ ہے اور انھیں رتبہ کے لیے اکثر بابائے مائیکروبائیولوجی کا خطاب دیا گیا
18/04/2022
میں تھک گیا ہوں!
برھمانڈ سے بڑا کوئی نہیں اس بات کا فیصلہ خود وقت آنے پر وقت کریگا ازل سے دوڑتے وقت کے گھوڑے کی ٹک ٹک مدھم اس لیے بھی سنائی دیتی ہے کہ برھمانڈ کی وشالت کا کوئی انت نہیں!
یہ کائناتین یہ کھکشائین یہ ستارے یہ سیارے برف کے پھاڑ گیسوں کے گھمنڈیے گھوڑے یہ بلیک ہول یہ سپرنوا کیا کیا نہیں دیکھا مین نے..؟ مجھے اس لیے بھی سب کچھ دیکھنا پڑا کیونکہ تجھے دیکھنے کی آرزو جو ازل سے تھی!
تمھارے کھوج اور جستجو میں شعور سنبھالتے ہی بھٹکتا رہا ہوں کھربوں آسمانی پتھروں کی طرح جو برھمانڈ میں میری طرح بھٹک رہے ہیں!
میرے وجود کے لاکھوں سال کا سفر اب شاید دو تین صدیوں پر تمام ہوجائے کیونکہ ہم نے دھرتی پر ٹکے رہنے کے آڑ میں دھرتی کے ماحول سے حد سے زیادہ بدتمیزی کی ہے
اب ہمیں بیک وقت کئی نیچرل ڈزاسٹر کا ہمہ وقت مقابلہ رہیگا خوفناک سونامی بڑے اور برے طوفان دھشتناک زلزلے مسلسل بارشیں یا پھر مسلسل خشک سالی ہمیں خوراک اور پانی پر آپس میں لڑنے کو اکسائی گی ماحولیاتی آلودگی یا تبدیلی اپنے اثر رسوخ سے ہمیں دربدر کرے گی
ممکن ہے خلا سے کوئی بڑا آسمانی پتھر دھرتی پر گر کر انسانی نسل کو" گڈ بائی" کرے!
چاھتا ہوں کہ انسان نسل ختم ہونے سے پہلے مین تم سے مل لوں اور انسان کا کائنات میں آنے کا مقصد پورا ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں
ھم انسانوں نے کائنات میں کہیں اور موجود زندگی کی تلاش میں اپنے وسائل ھمت اور جرت کو دیکھ کر کوئی "کسر" نہیں چھوڑی!
وائجر ون سے لیکر جیمز ویب تلک تمام کاوشیں اور کوششیں تمہیں تلاش کرنے کے لیے تھین..
سچ مانو تو تمھاری تلاش کائنات میں انسانی وجود کا سب سے بڑا مقصد ہے ہمیں اس وقت ڈر لگتا ہے کیونکہ کائنات میں زندگی کے روپ میں فی الحال ہم یہاں دھرتی پر اکیلے ہین ..
مین چاھتا ہوں کہ جب زندگی اس دھرتی سے فنا ہونے لگے تو مجھے اطمینان ہو کائنات کے کسی اور گوشے میں زندگی "پل" رہے ہے!
مین اب تھک چکا ہوں کائنات کے کسی کونے میں تمھارا بسیرا ہے تو آو مل کے جاو اپنے مقصد سے اور مجھے سکون سے فنا ہونے دو!
17/04/2022
ہماری زمین کی ساخت کیسی ہے
ہماری زمین6378.1کلومیٹر گہری ہے اور یہ پانچ تہوں پر مشتمل ہے
جس میں سب سے اوپر کرسٹ ہے جو 35کلو میٹر کی گہرائی تک جاتا ہے جو زیادہ تر آکسیجن اور سیلیکون سے بنا ہوا ہے اور کچھ فیصد اس میں آئرن ،کیلشیم اور المونیم کی ہے۔
اس سے نیچے اپر مانٹل ہے جسے lithosphere بھی کہتے ہیں جو 660 کلومیٹر کی گہرائی تک جاتا ہے جو سلیکیٹ سے بنا ہوا ہے اس میں زیادہ مقدار آکسیجن اور سیلیکون کی ہے اور یہ زمین کا سب سے ٹھنڈا حصہ ہے پلیٹ ٹیکٹونکس کا عمل بھی اسی لئیر میں ہوتا ہے ۔
اس سے نیچے پھر لوہر مانٹل شروع ہو جاتا ہے جو asthenosphere بھی کہلاتا ہے یہ 2890 کلو میٹر کی گہرائی تک جاتا ہے جس میں زیادہ تر میگنیشیم اور سلیکون ہیں اور اس میں کچھ آئرن کے سلیکیٹ اور کاربونیٹ بھی ہیں۔
اس سے نیچے پھر آؤٹر کور ہے جو زمین کی سطح سے 5100 کلومیٹر تک گہرا ہے جو پگھلے ہوئے لوہے اور نکل سے بنا ہوا ہے۔
پھر سب سے آخر پر انر کور ہے۔جو پریشر کی وجہ سے ٹھوس حالت میں ہے۔اور یہ زمین کے مقابلے میں تھوڑا سا تیز گھومتا ہے جس کی وجہ سے زمین کا میگنیٹک فیلڈ پیدا ہوتا ہے۔
اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھنے لگا، ناسا نے خبردار کردیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا نے خبردار کیا ہے کہ دم دار ستارہ تیزی سے زمین کی جانب بڑھ رہا ہے جس کی چوڑائی تقریباً 80 میل ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سی/2014 یو این 271 نامی دم دار ستارہ 22 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتا ہوا نظام شمسی کے کنارے سے اس کے مرکز کی جانب بڑھ رہا ہے جس کا وزن تقریباً 5 ہزار کھرب ٹن ہے۔
ناسا کے سائنس داں کہتے ہیں کہ یہ ستارہ دیگر معلوم دم دار ستاروں کی نسبت 50 گنا بڑا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ستارہ پہلی مرتبہ 2010 میں دیکھا گیا تھا جب سے سائنس دانوں کی جانب سے اس پر تحقیق کی جا رہی ہے ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Islamabad