Lets Change The Future

Lets Change The Future

Share

We are The Youth From the diferent areas for a view to bring a great change in our views living hood

18/08/2025

دوست محمد لونا مرحوم کے کاغذات میں سے تقسیم ہندوستان کے بعد کی یہ 74 سالہ پرانی چٹھی بالکل محفوظ حالت میں برآمد ہوئی ہے۔ بچھڑ جانے والوں کی جتنی پرکشش یہ تحریر ہے اس پر مذید کچھ لکھنا مناسب نہیں
۔از امرتسر
21/2/50
21 فروی 1950
جناب برادرم صاحبان چوہدری وساوا ،چاوا،چاکر،روشن ولد بلاول،دادکاں لونا
آداب عرض ۔گزارش ہے کہ یہاں پر خیریت ہے اپنی خیریت سے آگاہ کریں
اسیں آر کھلے،تسیں پار کھلے،وچ پیندیاں گھمن گھیریاں نے۔
جس وقت تسیں یاد آؤندے ہو،ہنجواں ڈہل پیندیاں میریاں نے۔
محمد،سوئین،جیوائئ،بائئ،
نوشیر،شہادت،عباس ،شامد،
محمد،فتح بی بی، زیاداں،سکندر،لال،احمد،لطیف،
غرضیکہ سب کو ہم تمام کی طرف سے پیار ۔جس طرح ہم کارڈ لکھتے رہتے ہیں ،اس طرح گاہے بگاہے کارڈ لکھتے رہا کریں ۔
لال چند،ودھیا،شانتی،شام چند ،ان تینوں کی شادی ہوچکی ہے۔اور چانن داس،بھگوان داس کی منگنی ہوگئ ہے۔اور انکی شادی ،زندگی رہی تو سب کی جیٹھ میں کردی جاوےگی۔
میرٹھ شہر میں بزازی کا کام کرتے ہیں۔اور امرتسر میں زمین لی ہوئی ہے اور اس زمین میں سبزیوں کی کاشت کرتے ہیں ۔سبزی نیلام کروائی جاتی ہے،کاروبار بہت اچھا ہے۔آپ اپنے تمام حالات کو تحریر فرماویں ۔منافع کافی حاصل ہوجاتا ہے۔پرماتما کی کرپا سےاب بالکل کوئی تکلیف نہیں ہے ۔اب اسوقت کوشیلا رونتی کے پاس بھی پرماتما کی کرپا سے اب تین ہزار روپے کے قریب جمع ہوگیا ہے ۔دولت رام چھابڑا بھی ہمارے پاس امرتسر میں ہی رہتے ہیں۔اور اب ان کے پاس بھی کافی روپے ہیں۔ٹھاکر رام چھابڑا میرٹھ شہر میں رہتا ہے انکو بھی کوئئ تکلیف نہیں ہے ۔غلام محمد،حماند خاں،نذر محمد ولد شیر محمد ،کو پیار ۔روشاں ،مراداں ،صاباں،سیداں،
وریام ،سردول کو سلام دعا ۔احمد خاں،یعقوب ولد وریام ،نور محمد ،برکت علی ،رانی،جیوائئ،بی بی،کو پیار ،گندم کا بھاؤ 16 روپے،چنے11 روپے،گڑ24 روپے فی من،گھی دیسی میرٹھ شہر میں 5 روپے فی سیر ،امرتسر میں 6 روپے فی سیر ہے۔جس وقت اپ۔کارڈ لکھیے ،اسوقت تمام فصلات اور تمام اجناس ک۔بھاؤ لکھ کر تحریر فرماویں ،
از طرف سوہنا رام چھابڑا ۔بمقام امرتسر ،کٹڑہ خزانہ دروازہ۔گلی دھوبیاں والی نمبر2.مکان نمبر879/9 تحریر کنندہ شام چند 21/2/50
ہماند خاں ولد شیر کی بابت ہم کو کسی نے غلط فہمی میں لگایا ہے کہ سورگباش ہوگیا ہے۔آیا یہ ہماری غلط فہمی ٹھیک ہے؟یا کہ غلط ۔پرماتما اسکو غلط ہی ثابت کرے۔
جیونا۔کھدر،ہماند،راجہ،صادق ،اکوب،
دولاں ولد مراد،فتح،سیداں،روشاں بی بی کو تمام کی طرف سے آداب عرض ۔
راجہ ترکھان کو سلام،شاما ترکھان کو پیار۔نجابت،سیلابت،جیوائئ،نوراں،
غرضیکہ تمام بچوں کو پیار اور بڑوں کو سلام
Copied

18/08/2025

بیگم کافی دیر سے الماریاں پھرول رہی تھی، میں نے ایک دو بار پوچھا بھی کہ کیا تلاش کر رہی ہو تو مجھے سختی سے خاموش رہنے کا کہہ کر دوبارہ سے تلاش شروع کر دی۔۔ آخر تھک ہار کر میری طرف مڑی اور غصے سے بولی۔۔ "آپ نے میرا زیور بیچ دیا ہے کیا"؟
میں ہکا بکا ہی رہ گیا کہ میں آخر ایسی حرکت کیوں کروں گا، مجھ میں سو برائیاں سہی لیکن چور تو ہرگز نہیں ہوں۔۔
جواب نہ پا کر بیگم نے دوبارہ سے سخت لہجے میں کہا۔۔ "مجھے میرا زیور واپس چاہئے، سولر سسٹم لگوانا ہے تو اپنے پیسوں سے لگوائیں، یہ کوئی طریقہ نہیں ہے"..
بیگم کی بات سن کر ایک دم سے میری نظروں کے سامنے سوشل میڈیا کی سولر پینل سے متعلق پوسٹیں گھوم گئیں کہ بیوی کا زیور بیچ کر بھی سولر پینل لگوانا پڑے تو لگوا لیں، بجلی بہت مہنگی ہو گئی ہے۔۔
بیگم صاحبہ کے پرتشدد تیور دیکھتے ہوئے میں نے جلدی سے الماری کھولی اور اپنے بیگ میں سے زیورات کی پوٹلی نکال کر اس کے حوالے کر دی۔۔ ارادہ تو میرا بھی سولر سسٹم لگوانے کا تھا لیکن پہلے ہی پکڑا گیا۔۔😃
اوئے ڈیجیٹل دانشورو ۔۔ توانوں اللہ پچھے۔۔ کیوں پٹھے مشورے دے کر گھروں میں لڑائیاں ڈلواتے ہو۔۔😉

18/08/2025
13/08/2025

خاتون کلثوم اکبری اس وقت تقریباً دو دہائیوں کے عرصے میں 11 مردوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کے بعد مقدمے کا سامنا کر رہی ہے۔ جن 11 مردوں کو اس نے قتل کیا وہ سب اس کے شوہر تھے۔ اسے ستمبر 2023 میں اس کے عمر رسیدہ شوہر کی موت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس نے گزشتہ 20 سالوں میں 10 دیگر مردوں کو قتل کرنے کا اعتراف کرلیا۔

تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے متاثرین کی تعداد اس اعداد و شمار سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نے 18 عارضی شادیاں (متعہ) اور 19 مستقل شادیاں کی ہیں۔ اور یہ سبھی کے شوہر فوت ہو چکے ہیں۔ اس سے متاثرین کی تعداد 20 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

جرم کا طریقہ
ایرانی اخبار ’’ ھفت صبح‘‘ کی طرف سے سامنے آنے والے انکشاف کے مطابق کلثوم اکبری نے خود کو ایک خیال رکھنے والی اور مثالی بیوی کے طور پر پیش کیا جس نے مالدار بوڑھوں سے ان کی مالی حیثیت کی تصدیق کے بعد شادی کی۔ اس کے بعد اس نے انہیں ایسے لطیف انداز میں زہر دیا جس سے شک پیدا نہ ہو۔

وہ ذیابیطس یا ہائی بلڈ پریشر کی دوائیں اپنے مشروبات میں گھول دیتی۔ اچانک علامات کو روکنے کے لیے خوراک میں ان کا بتدریج اضافہ کرتی تھی۔ شروع میں وہ بظاہر شوہر کو بچانے کی کوشش کرنے کے لیے اسے ہسپتال لے جاتی تھی۔ پھر خاموشی سے اسے دوبارہ زہر دے دیتی۔ یہاں تک کہ ڈاکٹروں کی جانب سے موت کی اصل وجہ کا پتہ لگائے بغیر اس کا شوہر مر جاتا تھا۔

اپنے پہلے جرائم میں سے ایک میں اس نے صنعتی الکحل کا مہلک مرکب استعمال کیا اور شکار کا تکیے سے گلا گھونٹ دیا۔ اس کے بعد اسے وراثت میں زمین کا ایک بڑا پلاٹ ملا جو اس کے شوہر کے نام تھا۔

جرم کا پردہ فاش کیسے ہوا
ان جرائم پر برسوں تک کسی کا دھیان نہیں دیا گیا۔ خاص طور پر چونکہ متاثرین تمام عمر رسیدہ اور خراب صحت کے حامل تھے اور اس وجہ سے ان کی موت قدرتی دکھائی دیتی تھی۔ تاہم غلام رضا بابائی نامی ایک بزرگ کی موت کے بعد 2023 کے وسط میں کلثوم اکبری پر شکوک و شبہات بڑھنے لگے۔ غلام رضا نے اپنی موت سے قبل اپنی بیوی کے اعمال پر شکوک کا اظہار کیا تھا۔ ان شکوک و شبہات نے اس کے بھائی کو باضابطہ شکایت درج کرانے پر اکسایا اور اس کی وجہ سے اس کیس کی جامع تحقیقات شروع ہو گئیں۔

مقدمے کی سماعت کے دوران کلثوم اکبری نے ابتدائی طور پر اپنے خلاف لگائے گئے الزامات سے انکار کیا لیکن عدالت کی جانب سے اس کے کیے گئے قتل کے طریقے کی ویڈیو دکھائی گئی تو وہ اعتراف جرم کرنے پر مجبور ہوگئی۔ سماعت کے دوران اس نے پچھتاوا کرتے ہوئے جج سے کہا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ چیزیں یہاں تک پہنچ جائیں گی تو میں ایسا نہ کرتی۔

تاہم مقتولین کے خاندانوں کے ایک فرد نے یہ کہتے ہوئے جواب دیا کہ جرائم کی باریک بینی اور منظم منصوبہ بندی سے پاگل پن کی نشاندہی نہیں ہوتی بلکہ مکمل آگاہی اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ دفاعی وکیل نے اپنے مؤکل کے نفسیاتی معائنے کی درخواست کی لیکن استغاثہ نے زور دے کر کہا کہ جرائم احتیاط سے منتخب دوائیوں کا استعمال کرتے ہوئے کیے گئے۔ جان بوجھ کر مجرمانہ رویہ اپنایا گیا اور یہ دماغی عارضے کا نتیجہ نہیں تھا۔

مطالبات
متاثرین میں سے چار کے اہل خانہ نے مقدمے کی سماعت میں شرکت کی اور انتقامی سزا پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جبکہ باقی خاندانوں کی جانب سے آئندہ اجلاسوں میں اپنے مطالبات پیش کرنے کی توقع ہے۔ کیس میں شکایت کنندگان کی تعداد 45 سے زائد بتائی گئی ہے جن میں مقتولین کے ورثاء اور خون کے رشتہ دار شامل ہیں۔ ان خاندانوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ اس کیس کو طنزیہ کہانی یا تفریحی مواد کے طور پر نہ دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جرم سے گہرے زخم لگے ہیں۔

العربیہ اُردو
General Knowledge

Address


Vehari
Islamabad

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lets Change The Future posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Islamabad.