KING TOOL VIP1
Daily Pardes is the leading Newspaper of Pakistan. Welcome to our community - a hub for news, views, Daily Pardes is an Urdu daily newspaper in Pakistan.
24/02/2017
سونم کپور نے والدین کو چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا
ممبئی(نیوزڈیسک) بھارتی اداکارہ سونم کپور نے والدین سے علیحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے نئے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق سونم کپور نے شوبز اور دیگر مصروفیات کے باعث والدین سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ممبئی کے پوش علاقے باندرہ میں اپارٹمنٹ خریدنے سے متعلق اہل خانہ کو آگاہ کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سونم کپور نے ممبئی کے پوش علاقے باندرہ میں انتہائی شاندار اپارٹمنٹ بھی خرید لیا ہے جب کہ اداکارہ جلد ہی اپنے نئے اپارٹمنٹ میں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔سونم کپور نے علیحدگی کے فیصلے سے اپنے والدین کو بھی آگاہ کردیا ہے تاہم نئے گھر خریدنے کی خبر کو سب سے خفیہ رکھا جارہا ہے اور کپور خاندان کی طرف سے بھی اس کی کوئی تصدیق نہیں کی جارہی
۔یاد رہے بالی ووڈ اداکارہ سونم کپور نے مختصر عرصے میں بالی ووڈ انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئیں، انہوں نے منفرد انداز سے اداکاری کر کے مداحوں کے دل موہ لیے۔بھارتی میڈیا میں یہ بات بھی زیر گردش ہے کہ سونم کپور آج کل اداکار آنند کے بہت قریب آتی جارہی ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے اپنی محبت کا اظہار بھی کرچکے ہیں، سونم جلد شادی کا ارادہ رکھتی ہے اس لیے انہوں نے والدین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔
24/02/2017
میچ فکسنگ پوری دنیا میں ہوتی ہے،چیئرمین پی سی بی
لاہور(نیوزڈیسک)چیئرمین پی سی بی شہریار خان نے کہا ہے کہ میچ فکسنگ پوری دنیا میں ہوتی ہے، ہندوستان ،بنگلا دیش اور سری لنکا سمیت جہاں بھی ٹی ٹوئنٹی میچز ہوتے ہیں وہاں بکی آجاتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے اجلاس کے دوران کیا ،کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینٹر مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت ہوا ۔ مشاہد اللہ خان نے چیئرمین پی سی بی سے پوچھا کہ بتائیں آئی سی سی سےآپ نےرابطہ کیایاانھوں نے آپ سےرابطہ کیا،اگرآپ نےآئی سی سی سےرابطہ کیاتھاتوآپکوخبروں کی تردیدکرنی چاہیےتھی۔ چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے بتایا کہ ہمارے پاس یہ اطلاع تھی کہ ایسا واقعہ ہونے لگا ہے اس لیے تیار تھے،پہلا پی ایس ایل کامیاب ہوا تو دوسرے میں بکی آگئے،جوکھلاڑیوں سے براہ راست نہیں بلکہ رشتہ داروں یاسابق کھلاڑیوں کے ذریعےرابطہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوسف کا ناصرجمشید سے رابطہ ہوا،دونوں لندن سے دبئی آئے،ناصرجمشید نے کھلاڑیوں سے کہا یہ شخص آپ سے ملنا چاہتا ہے،ناصرجمشید نے 3 کھلاڑیوں خالد لطیف،شرجیل اورعرفان کویوسف سےملوایا۔
شہریار خان نے مزید بتایا کہ کھلاڑیوں کو مستقل طور پر اردو اور انگریزی زبان میں بریفنگ دی جاتی ہے جب کہ انہوں نے اقرار کیا کہ کھلاڑیوں نے بورڈ کو نہیں بتایا کہ بکی سے بات ہوئی ہے،یہ ان کا آفیشل بیان ہے ،جو پہلے بیان سے تھوڑا مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو شواہد ملے ان سے لگا کہ شرجیل نے بکی کی بات پرمیچ میں پیشرفت کی،خالد نے اس دن میچ کھیلا نہیں تھا، لیکن اس نے رضامندی کا اظہار کیا تھا،عرفان سے بکی نے بات کی، لیکن اس نےایک کان سے سن کردوسرے سے نکال دی،اس نے سیکیورٹی آفیشل کو اس کی اطلاع نہیں دی۔
24/02/2017
کنگنا رناوت کو جان سے مارنے کی دھمکی
ممبئی(نیوزڈیسک)بولی وڈ اداکارہ کنگنارناوت کا کہنا ہےہریتک روشن سے جھگڑےپردھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ مجھے کچھ’بڑےلوگوں ‘نے گھر بلا کر دھمکایا اور کہا کہ اگر زبان کھولی تو مار دیا جائے گا۔ تاہم ماضی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا مجھ پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا, جو ہونا تھا وہ سب ہو چکا ہے, کہانی ختم ہو چکی ہے اور اب سب کا میری زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ دونوں اسٹارز کے درمیان اختلافات کا آغاز گزشتہ سال ہوا تھا ۔اختلافات میں شدت اس وقت آئی جب دونوں اسٹارز نے ایک دوسرے کو قانونی نوٹس بھیجے تھے ۔ اس دوران لفظی جنگ کا سلسہ جاری رہا لیکن دیگر بولی وڈ اداکاروں نےکنگناکو مشورہ دیا تھا کہ وہ اس متعلق کوئی بات منظر عام پر نہ لائیں۔
24/02/2017
حضرت عمرکاانصاف
دو نوجوان عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں “یا عمر یہ ہے وہ شخص” عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہیں ” کیا کیا ہے اس شخص نے ؟” “یا امیر المؤمنین ۔ اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے” عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں “کیا کہہ رہے ہو ۔ اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے ؟” عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں ” کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے ؟” وہ شخص کہتا ہے “ہاں امیر المؤمنین ۔ مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ” عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ” کس طرح قتل ہوا ہے ؟” وہ شخص کہتا ہے “یا عمر ۔ انکا باپ اپنے اُونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا ۔ میں نے منع کیا ۔ باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا ” عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ” پھر تو قصاص دینا پڑے گا ۔ موت ہے اسکی سزا ” نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں ۔ نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے ؟ ان سب باتوں سے بھلا عمر رضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کیا ۔ کیونکہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتٰی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو ۔ قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔ وہ شخص کہتا ہے ”ا ے امیر المؤمنین ۔ اُس کے نام پر جس کے حُکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحرا میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجئے تاکہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے ۔ میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا” عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحرا میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟” مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے ۔ خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے ۔ کون ضمانت دے اسکی ؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے ؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔ اور کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔ محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے۔ اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیونکہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں ؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا، خود عمر رضی اللہ عنہ بھی سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں ”معاف کر دو اس شخص کو ”
نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں ”نہیں امیر المؤمنین ۔ جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں ۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ” عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ”اے لوگو ۔ ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟” ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی” عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں “ابوذر ۔ اس نے قتل کیا ہے” ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں “چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو” عمر رضی اللہ عنہ “جانتے ہو اسے ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ ” نہیں جانتا ” عمر رضی اللہ عنہ ” تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ ”میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا ۔ انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا ” عمر رضی اللہ عنہ ”ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا ” ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں ” امیر المؤمنین ۔ پھر اللہ مالک ہے” عمر رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے ۔ کچھ ضروری تیاریوں کیلئے ۔ بیوی بچوں کو الوداع کہنے ۔ اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے اور پھر اس کے بعد قصاص کی ادائیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔ اور پھر تین راتوں کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے ۔ انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا۔ عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے ۔ نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں ” کدھر ہے وہ آدمی ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں “مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین” ابوذر رضی اللہ عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ محفل میں ہُو کا عالم ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے ؟ یہ سچ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمر رضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے ۔ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے ۔ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا ۔ نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے ۔ حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔ مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے ۔ بے ساختہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے۔ ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ” اے شخص ۔ اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا۔ نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا ” وہ بولا ” امیر المؤمنین ۔ اللہ کی قسم ۔ بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے ۔ دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں ۔ اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحرا میں تنہا چھوڑ کر ۔ جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان ۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں ۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے” عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا ” ابوذر ۔ تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی ؟” ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا ” اے عمر ۔ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے” سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟ نوجوانوں نے جن کا باپ مرا تھا روتے ہوئے کہا ” اے امیر المؤمنین ۔ ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں ۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے” عمر رضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر نے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمايا ۔۔۔ ” اے نوجوانو ۔ تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے” ” اے ابو ذر ۔ اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے” ” اور اے شخص ۔ اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے” ” اور اے امیر المؤمنین ۔ اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Islamabad
44000