Boota Pakistani

Boota Pakistani

Share

بوٹا پاکستانی زندہ آباد - پاکستان پائندہ آباد

27/05/2026

اک گل یاد رکھنی اے کہ بوٹے حالاں تک گالاں نئی کڈیاں ۔

اسرائیل کے جھنڈے کا دفاع کرنے والوں کو عید مبارک!

اللہ کرے آپ کی دانش ہمیشہ اسی طرح “روشن خیال” رہے کہ قوم کے جذبات آپ کو جہالت لگیں اور اسرائیلی جھنڈے پر اعتراض کرنے والے “فیس بکی مجاہد” دکھائی دیں۔
قلم بھی خوب ہے، جہاں اپنے مفادات ہوں وہاں دلیلیں پیدا ہو جاتی ہیں اور جہاں قومی حساسیت ہو وہاں طنز شروع ہو جاتا ہے۔

قوم ابھی اتنی بے حس نہیں ہوئی جتنا کچھ دانشور سمجھ بیٹھے ہیں۔
فلسطین آج بھی ہمارے ایمان، ضمیر اور قائداعظمؒ کے مؤقف کا حصہ ہے۔

خیر، عید ہے…
اللہ ہم سب کو سچ لکھنے، سچ بولنے اور کم از کم اپنے مؤقف میں مستقل رہنے کی توفیق دے۔

25/05/2026

میں کوئی باقاعدہ لکھاری یا کالم نگار نہیں ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے محلے کے ایک بھائی نے مجھے تھری سٹار میڈیا کے واٹس ایپ گروپ میں ایڈ کیا۔ وہاں اکثر نبیل انور صاحب کے کالم آتے رہتے تھے۔ کبھی چکوال کے کسی علاقے کی تاریخ پر بات ہوتی، کبھی کسی سماجی مسئلے پر اور کبھی کسی تاریخی واقعے پر۔ شروع میں میں نے یہی سمجھا کہ شاید وہ بڑے قابل، غیر جانبدار اور سنجیدہ صحافی ہیں۔

لیکن پھر ایک دن انہی کے گاؤں میں کم عمری کی شادی کا ایک واقعہ سامنے آیا۔ اس معاملے پر ایک دوسرے صحافی نے باقاعدہ نام لے کر نبیل انور صاحب کو لکھنے کا کہا، مگر حیرت انگیز طور پر وہاں خاموشی اختیار کر لی گئی۔ اسی وقت مجھے پہلی بار دال میں کچھ کالا محسوس ہوا اور زرد صحافت کی بو آنے لگی کہ شاید قلم صرف وہاں چلتا ہے جہاں اپنے مفادات، نظریات یا مخصوص ایجنڈے کو فائدہ پہنچانا مقصود ہو۔ اور اب یونیورسٹی آف چکوال اور اسرائیلی جھنڈے کے معاملے پر ان کی بے پر کی ہانکنے کے بعد تو اس بات پر یقین مزید پختہ ہو گیا ہے۔

یونیورسٹی آف چکوال میں اسرائیلی جھنڈے کی موجودگی کے معاملے پر لکھے گئے نبیل انور ڈھکو صاحب کے کالم میں ایک تعلیمی سرگرمی کے دفاع کے ساتھ ساتھ اُن تمام افراد کے جذبات اور اعتراضات کو “جہالت”، “فیس بکی مجاہدین” اور “منافقت” جیسے القابات سے نوازا گیا جو اسرائیل کے نام اور نشان کے حوالے سے حساس ہیں۔ اختلاف رائے ہر شہری کا حق ہے، لیکن قومی نظریات، قائداعظمؒ کے مؤقف اور امتِ مسلمہ کے جذبات کو طنز و تحقیر کا نشانہ بنانا کسی طور مناسب نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نبیل انور کی یہ تحریر سنجیدہ صحافت سے زیادہ زرد صحافت کی ایک عمدہ مثال محسوس ہوتی ہے، جہاں دلیل کے بجائے طنز، اشتعال اور مخالفین کی کردار کشی کو ترجیح دی گئی۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فلسطین کے مسئلے پر ہمیشہ دوٹوک اور واضح مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے اسرائیل کو مغرب کا ناجائز بچہ قرار دیتے ہوئے فلسطینی عربوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی۔ قائداعظمؒ نے فرمایا تھا کہ فلسطین عربوں کا ہے اور مسلمان دنیا کبھی فلسطینیوں پر یہودی قبضے کو دل سے قبول نہیں کرے گی۔ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا، اور یہی پاکستان کی مستقل خارجہ پالیسی ہے۔ یہ محض ایک سیاسی مؤقف نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور اخلاقی اصول بھی ہے۔

اسی طرح پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم Liaquat Ali Khan، سابق وزیرِاعظم Zulfikar Ali Bhutto اور دیگر قومی رہنماؤں نے بھی فلسطینی عوام کی جدوجہد کی ہمیشہ حمایت کی۔ بھٹو صاحب نے اسلامی سربراہی کانفرنسوں میں فلسطین کے مسئلے کو پوری قوت سے اٹھایا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کی۔ پاکستان کی پارلیمنٹ، افواج اور عوام کی اکثریت آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہے۔

یہ کہنا کہ “صرف جھنڈا رکھا گیا تھا، لہرایا نہیں گیا تھا”، ایک کمزور دلیل ہے۔ دنیا بھر میں کسی بھی ملک کا جھنڈا اُس ریاست کی علامت، شناخت اور خودمختاری کی نمائندگی کرتا ہے۔ جب کسی ریاست کا جھنڈا کسی تقریب، ادارے یا پلیٹ فارم پر رکھا جاتا ہے تو عملی طور پر یہ اُس ریاست کی نمائندگی اور شناخت کو تسلیم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی تقریبات، اقوام متحدہ کے اجلاسوں اور بین الاقوامی ایونٹس میں جھنڈوں کو انتہائی حساس علامت تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستان چونکہ اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے پاکستانی سرزمین پر اسرائیلی پرچم کی موجودگی فطری طور پر عوامی حساسیت پیدا کرتی ہے۔

یہ درست ہے کہ دنیا کی بعض جامعات میں Model UN جیسی سرگرمیاں ہوتی ہیں، لیکن پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جہاں کچھ معاملات صرف “اکیڈمک ایکسرسائز” نہیں رہتے بلکہ قومی حساسیت اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر یونیورسٹی انتظامیہ واقعی اس معاملے کو تعلیمی سرگرمی سمجھتی تھی تو اسے پہلے سے واضح انداز میں وضاحت کرنی چاہیے تھی تاکہ عوام میں غلط فہمی پیدا نہ ہوتی۔ تعلیمی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ عوامی جذبات، قومی پالیسی اور نظریاتی حدود کو مکمل نظر انداز کر دیا جائے۔

نبیل صاحب نے اپنے کالم میں بار بار اُن افراد کا مذاق اڑایا جو اسرائیلی جھنڈے پر اعتراض کر رہے تھے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف مذہبی نہیں بلکہ انسانی مسئلہ بھی ہے۔ غزہ میں بچوں، عورتوں اور معصوم شہریوں پر ہونے والے مظالم پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔ ایسے وقت میں اگر پاکستانی عوام اسرائیلی پرچم پر ردعمل دیتے ہیں تو یہ اُن کے ضمیر، دینی وابستگی اور قومی مؤقف کی علامت ہے، نہ کہ جہالت۔

یہ بھی عجیب منطق ہے کہ اگر مغربی ممالک میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں تو پھر پاکستان میں اسرائیلی جھنڈے کی حساسیت ختم ہو جانی چاہیے۔ مغرب میں لوگ اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں، اُس کے پرچم کو عزت دینے کے لیے نہیں نکلتے۔ پاکستانی قوم فلسطین کے ساتھ کھڑی ہے اور یہی قائداعظمؒ کے پاکستان کا مؤقف بھی تھا۔

اصل مسئلہ جھنڈے سے زیادہ اُس سوچ کا ہے جو قومی حساسیت کو “انتہا پسندی” اور عوامی ردعمل کو “فساد” قرار دے کر عوام اور نظریۂ پاکستان کے درمیان فاصلے پیدا کرنا چاہتی ہے۔ اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن قوم کے جذبات کا مذاق اڑانا اور ہر مخالف آواز کو جاہل قرار دینا علمی رویہ نہیں۔

پاکستان کا مؤقف آج بھی واضح ہے:
فلسطین آزاد ہونا چاہیے، اسرائیلی مظالم بند ہونے چاہییں، اور پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا۔ یہی قائداعظمؒ کی سوچ تھی، یہی پاکستانی قوم کے دل کی آواز ہے۔

اب علامہ اقبال کے کچھ اشعار

مسلمانوں کے ساتھ اتنی بڑی دشمنی کیونکر کر سکتا ہے اس کا جواب علامہ اقبالؒ نے دیا ہے
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

غدارِ وطن نے یہ سکھایا ہے سبق اوراسلام کی اخوت پہ یہ غدار کی چوٹ ہے

23/05/2026

وزیر اعلیٰ سہیل کے پی سہیل آفریدی کی وفد کے ہمراہ جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ آمد
وزیراعلی نے شیخ ادریس کی شہادت پر مولانا فضل الرحمان سے تعزیت کی ۔
شیخ ادریس کی بلندی درجات کے لئے دعاء اور فاتحہ خوانی
ملاقات میں کے پی میں امن وامان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار
ملاقات میں صوبائی حقوق کے حوالے سے تفصیلی بات چیت
مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کے اعزاز میں عشائیہ
ملاقات وزیر اطلاعات کے پی شفیع جان بھی موجود
ملاقات میں انجینئر ضیاء الرحمان ،مولانا اسجد محمود شریک

Want your business to be the top-listed Media Company in Islamabad?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Islamabad