Inner Light
اسلام اباد روالپنڈی رشتہ فی سبیل اللہ
گھر میں چوری چکاری کا ڈر ہو تو پستول رکھا جا سکتا ہے۔ تاکہ مشکل وقت پر کام آئے۔ اس کو قبل از وقت حفاظتی اقدام کہہ سکتے ہیں۔
مگر آپ اس پستول کو ہر گھر آنے والے مہمان پر یا دوسرے کے گھر جا کر ان پر تاننا نہیں کرنا شروع کر دیتے؟
بالکل ایسے ہی حفاظتی اقدام کے طور پر ہم اپنی بیٹیوں کو فنانشیل انڈیپینڈنٹ بنانے لگے ہیں۔ یہ ایک عمدہ پیش رفت ہے، میں اس کے حق میں ہوں۔ مقصد یہی ہے کہ زندگی میں کسی بھی موڑ پر اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ اس کو اپنے لیے خود کمانا پڑے تو مشکل نہ ہو۔ وہ بغیر کسی محتاجی کے زندگی گزار سکے اور اگر باصلاحیت ہو تو اپنے شعبے یا شوق میں آگے بھی بڑھ سکے۔
مگر بیٹیاں اس خود مختاری کے پستول کو کاندھے پر ڈالے زندگی کے اہم ترین رشتے میں داخل ہوتی ہیں، اور مخالف سمجھ کر اپنے سب سے قریبی رشتے یعنی شوہر پر تان لیتی ہیں۔
میں کوئی تمہاری غلام نہیں ہوں۔
میں انپڑھ گنوار نہیں کہ تمہاری ہر بات مانوں۔
میں کام نہیں کرونگی۔
تمہاری کام والی کی ضرورت تھی، بیوی کی نہیں،
تم کسی کام والی سے ہی شادی کر لیتے۔ میری زندگی کیوں تباہ کی،
میں پڑھی لکھی ہوں اس لئے تمہاری جرات کیسے ہوئی مجھے یہ کہنے کی،
میں اپنے حقوق پہچانتی ہوں،
میں خود اپنا کما کر کھا سکتی ہوں۔
میں تمہاری روٹی کی محتاج نہیں،
مجھے تمہاری ضرورت ہی نہیں۔ وغیرہ وغیرہ،
اس ذہنیت کے ساتھ رشتے شروع کرنے والی لڑکیوں کے 50 فیصدی رشتے پہلے دو تین سال میں ہی ختم ہو رہے ہیں۔ اور رشتہ گروپوں میں "خلع یافتہ ایک بچے کے ساتھ" کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔
دنیا بھر میں انتہائی پسماندہ ملکوں سے مغرب کے جدید ترین ممالک تک میاں بیوی کا رشتہ اگر چلتا ہے تو باہمی مفاہمت پر۔ جیون ساتھی کی اچھائی برائی کو قبول کر کے۔ اسکی کمزوریوں کا مان رکھ کر اور اپنی طاقتوں کو اسکی طاقت بنا کر۔ جواباً دوسرا بھی آپکے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوتا ہے۔ اور وقت آنے پر آپکی کمزوریوں کو اپنی طاقت سے بدلتا ہے۔
سب سے بڑی غلط فہمی جو ہماری بچیوں کے ذہنوں میں ڈال دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اس رشتے میں انحصار صرف روپے پیسے کا ہے۔ وہ اگر آپ خود کما لیتی ہیں تو باقی سب کی کیا ضرورت ہے۔
جبکہ درحقیقت اس رشتے میں آپ کے جسم و روح کے بدلے دوسرا بھی اپنے جسم و روح کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ آپکی بیشمار جسمانی روحانی و نفسیاتی ضرورتوں کا انحصار اسکے وقت، توجہ، کوشش، اور آمادگی پر ہوتا ہے۔
اگر لڑکیاں صرف یہی سمجھ لیں کہ اس رشتے میں انکو بھی ایک جیتے جاگتے انسان کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی کہ انکے شوہر کو۔ تو شائد وہ بات بات پر خودمختاری والا پستول لہرانا بند کر دیں۔
ورنہ آنے والے وقت میں یہ مسائل گھمبیر ہوتے جائینگے، بلکہ ہو رہے ہیں، آپ نوٹ کر سکتے ہیں۔ ذرا اپنے ارد گرد نظر ماریں۔
اور رہی بات کام کی، تو وہ تو آپ کریں گی،
شوہر کے گھر کا نہیں تو پھر لوگوں کے گھر کا،
برتن کپڑے تو آپ دھوئیں گی، اگر شوہر کے گھر کے نہیں تو پھر لوگوں کے گھر کے،
یا پھر اپنے بھائی بھابیوں کے گھر کے،
کیوں کہ ماں باپ نے ہمیشہ نہیں رھنا۔
اب بھی وقت یے مل جل کر، افہام و تفہیم سے گھر چلائیں، آپ دونوں (میاں بیوی) ایک دوسرے کے لئے آسانیاں پیدا کریں، مشکلات نہیں۔
منقول
24/01/2024
Respecting your partner is deeper than just staying faithful.
Respecting your partner means to also respect their voice & allow them to be heard.
Respect is communication. Respect is avoiding the same mistakes or things you know will make your partner mad or sad.
15/01/2024
تو ملا ہے تو یہ احساس ہوا ہے مجھ کو
یہ عمر محبت کے لیے تھوڑی ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Islamabad