General Knowledge
knowledge and information about everything
🕋 *مئی کی 27 اور 28 تاریخ جبکہ جولائی کی 16 تاریخ کو قبلہ کی سمت درست کرنے کا بہترین موقع* 🕋
🌻 *اپنا قبلہ درست کیجیے!*
📿 *مئی کی 27 اور 28 تاریخ کو قبلہ کی سمت درست کرنے کا طریقہ!*
مئی کی 27 اور 28 تاریخ کی دوپہر کو اِستواء یعنی زوال کے وقت سورج بیت اللہ کے عین اوپر سے گزرتا ہے، اس لیے اس وقت دنیا بھر میں گھروں، دفاتر اور مساجد سمیت ہر مقام کا قبلہ آسانی کے ساتھ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجکر 17 منٹ پر یہ موقع میسر آئے گا۔ اس لیے مذکورہ وقت سے پہلے ہی زمین پر ایک لکڑی وغیرہ نصب کی جائے، مذکورہ وقت یعنی 2 بجکر 17 منٹ پر اس لکڑی کے سایہ پر ایک خط یعنی لکیر کھینچ دی جائے، بس وہی لکیر قبلہ کی جس جانب ہوگی وہی قبلہ کی درست سمت ہوگی۔
❄ *چند ضروری وضاحتیں:*
1⃣ مئی کی 27 اور 28 تاریخ کو جب سورج کعبہ کے عین اوپر سے گزر رہا ہوگا تو اس وقت مکہ مکرمہ میں دوپہر کے 12 بجکر 17 منٹ ہورہے ہوں گے، اس لیے ہر ملک کے باشندے مکہ مکرمہ سے وقت کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے حساب لگا کر اپنے ملک کے وقت کے مطابق قبلہ کی درست سمت معلوم کرسکتے ہیں۔ واضح رہے کہ 16 جولائی کو پاکستانی وقت کے مطابق 2 بجکر 26 منٹ پر سورج بیت اللہ کے عین اوپر سے گزرتا ہے اس لیے اس تاریخ کو بھی قبلہ کی درست سمت معلوم کی جاسکتی ہے۔ اس کی تفصیلات فلکیات کی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے۔
2⃣ ماقبل میں قبلہ معلوم کرنے کا جو طریقہ ذکر ہوچکا یہ ایک آسان طریقہ ہے جو کہ ایک عام آدمی کے لیے بہت ہی سہولت کا باعث ہے، اس لیے جو حضرات گھروں، دفاتر، تعلیمی اداروں اور دیگر مقامات میں اندازے سے قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کرتے ہیں ان کے لیے یہ بہت ہی سنہری موقع ہے کہ وہ مئی کی 27 اور 28 تاریخ جبکہ جولائی کی 16 تاریخ کو آسانی کے ساتھ اپنا قبلہ درست کرسکتے ہیں۔
3⃣ چوں کہ آجکل قبلہ درست کرنے اور معلوم کرنے کے متعدد آلات اور اسباب بھی موجود ہیں، اس لیے اگر کسی نے ان آلات اور اسباب کی مدد سے قبلہ کی درست سمت معلوم کرلی ہو تو یہ بھی کافی ہے۔
4⃣ چوں کہ مکہ مکرمہ کے علاوہ دیگر ممالک کا قبلہ جہتِ کعبہ ہے کہ جس طرف کعبہ ہے اسی طرف رخ کریں، جس کی رو سے نمازی کے دائیں اور بائیں 45، 45 ڈگری تک قبلہ رخ شمار ہوگا، اس لیے اگر کوئی نمازی کا کعبے کی سیدھ سے 45 ڈگری تک دائیں یا بائیں جانب رخ پِھر بھی جائے تب بھی وہ قبلہ رخ ہی شمار ہوگا۔ اس لیے اگر مذکورہ تاریخوں کو سورج کے ذریعے قبلہ معلوم کرنے کے نتیجے میں کسی مسجد کے قبلے کی سمت میں معمولی فرق آرہا ہو تو اس میں انتشار اور تنازع پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیوں کہ ماقبل کی تفصیل سے معلوم ہوچکا ہے کہ 45 ڈگری تک نماز قبلہ رخ ہی شمار ہوتی ہے۔ (جواہر الفقہ، احسن الفتاوی)
5️⃣ زیرِ نظر تحریر میں قبلہ سے متعلق تفصیلی مسائل بیان کرنے مقصود نہیں، بلکہ صرف قبلہ معلوم کرنے کا طریقہ اور چند اہم وضاحتیں ذکر کرنا مقصود ہیں تاکہ اس اہم موقع سے ہر مسلمان فائدہ اٹھا سکیں۔
30/04/2022
page for sell
968 followers
Contact me on whatsapp
+923476378375
مردانہ بانجھ پن بے اولادی کا ایک اہم مسلہ ہے۔ روایتی طور پر بے اولادی کے لیے عورت کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے، مگر تحقیق کے مطابق تقریباً بے اولادی کے ادھے کیس میں کمی مرد میں ہوتی ہے۔ بہرحال کمی جس میں بھی ہو، یہ انسان کے اختیار سے باہر ایک بیماری ہے، جو کہ کسی کو قصوروار ٹھہرانے سے ختم نہیں ہوگی بلکہ مریض کو مزید پریشان کرتی ہے۔
سپرم کا نہ ہونا یعنی azoospermia مردانہ بانچ پن کی بڑی وجہ ہے۔ جو کسی حد تک قابل علاج ہے۔
منی میں سپرم کا نہ ہونا یعنی azoospermia کی ایک وجہ ان نالیوں میں رکاوٹ ہے جو کہ سپرم کو منی (semen) میں شامل کرتی ہیں۔ ان رکاوٹوں کو آپریشن کے ذریعے دور کیا جاتا ہے۔
البتہ اسکی دوسری بڑی وجہ سپرم کا بننا ہی نہ ہے۔ اس صورتحال میں خصیوں کا آپریشن کیا جاتا ہے، اور خصیوں میں موجود باریک باریک اکھٹی ہوئی ٹیوبز (seminiferous tubules) کے حصے کو الگ کیا جاتا ہے، ان ٹیوبز میں سپرم پیدا ہوتے ہیں۔ ٹیوب کے اس ٹکڑے میں کسی نارمل سپرم کی تلاش کی جاتی ہے، اگر سپرم کے ملنے میں کامیابی مل جائے تو پھر اس سپرم کو IVF تکنیک کے ذریعے سے عورت کے بیضے کے ساتھ ملاپ کے بعد بچے کی پیدائش کروائی جاتی ہے۔
لیکن اگر اس کام میں بھی بات نہ بنے تو آج کی تاریخ میں اور کوئی طریقہ نہیں جس کے ذریعے ایک بے اولاد جوڑا بچہ پیدا کرسکے، ایسا بچے جو کہ انکی جینیات رکھتا ہو۔ یعنی کہ ایسے بچہ جس کا وجود ان کے وجود سے بنے۔
اس تحریر کا مقصد اس کے بارے میں اپکو نئی "مصنوعی سپرم" بنانے کی تحقیق کے متعلق بتانا ہے، جو کہ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے مگر امید ہے کہ اس سے پر ثمر نتائج ملیں گے۔
مرد کے خصیوں میں سپرم بننے کے عمل کو spermatogenesis کہتے ہیں۔ جدید تحقیق و تکنیک سے یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ یہی سپرم اس انسان کے جسم کے دوسرے خلیوں سے بنائے جاسکیں۔ اس تیکنیک کو "in vitro gametogenesis" یعنی IVG کہتے ہیں۔
جن خلیوں سے سپرم بنائے جائیں گے وہ خصیوں کے خلیے بھی ہوسکتے ہیں، جن کی تقسیم (meiosis) سے قدرتی طور پر سپرم بنتے ہیں یا پھر وہ جسم کے دوسرے خلیے بھی ہوسکتے ہیں۔
جسم کے دوسرے خلیوں سے جیسا کہ جلد کے خلیوں سے مصنوعی سپرم بنانے کا آپشن زیر غور ہیں، جن میں کچھ رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو یہ ہے کہ سپرم میں جسم کے باقی سیلز کی نسبت کروموسوم کی تعداد ادھی ہوتی ہے (haploid)۔ ایک مکمل کرموسوم رکھنے والے جسمانی سیل (Diploid) سے ادھے کروموسوم والا سیل (سپرم) بنانا ایک مشکل عمل ہے ، جس میں کرموسومز اور ان میں موجود ڈی این اے کو ٹھیک ادھی مقدار میں تقسیم کرنے کا عمل آسان نہیں۔ البتہ جسم کے خلیوں نے کسی حد تک سپرم کے جراثومے جیسی خصوصیات دکھائی ہیں۔
ایک آپشن یہ بھی ہے کہ خصیوں کے ان سیلز سے سپرم بنایا جائے جن سے قدرتی طور پر سپرم بنتا ہے، مگر azoospermia کے مرض میں نارمل طریقے سے سپرم نہیں بن پاتے سو کیوں نہ خصیوں کے انہی سیلز کو لیا جائے جو قدرتی طور پر haploid ہوتے ہیں، اور ان سے مصنوعی طور پر سپرم بنایا جائے۔ مگر یہاں ایک مسلہ یہ ہے کہ azoospermia کے بہت سے مریض ایسے بھی ہیں کہ جن میں یہ سیلز بھی موجود نہیں ہوتے (Sertoli cell only syndrome)۔ تو اس صورتحال میں ان سے یہ سیلز نہیں لیے جاسکتے۔
ایک اور آپشن ان مریضوں کے لیے ہے ، جن میں سپرم بننے کے عمل کے دوران بننے والے سیلز بنتے ہیں مگر وہ میچور نہیں ہوپاتے۔ یعنی spermatogonia بنتے ہیں، مگر وہ میچور سپرم میں نہیں بدل سکتے ۔ ایسا ممکن ہے کہ ان spermatogonia کو مصنوعی طریقے سے بیضے میں داخل کردیا جائے۔
ایک اور ممکنہ طریقہ سٹیم سیلز سے سپرم سیلز کو بنانا ہے۔
سٹیم سیلز ایسے سیلز ہوتے ہیں جن میں تقسیم ہونے کی بہت زیادہ قابلیت ہوتی ہے اور تقسیم ہونے کے بعد وہ اپنی تعداد بھی بڑھاتے ہیں اور ساتھ میں ان میں سے کچھ سیلز دوسری قسم کے سیلز میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ ماں کے پیٹ میں موجود بچے کا سارا جسم انھی سٹیم سیلز سے بنتا ہے۔ ایک بالغ انسان کے جسم کے کچھ اعضا میں بھی سٹیم سیلز ہوتے ہیں جو اپنے جیسے اور کسی دوسری قسم کے سیلز بناتے رہتے ہیں۔ مگر یہ سٹیم سیلز ماں کے پیٹ میں موجود بچے کے سٹیم سیلز جیسے نہیں ہوتے، ماں کے جسم میں موجود بچے کے سٹیم سیلز کو ploripotent stem cells کہا جاتا ہے جو کہ جسم کا کوئی بھی اور سٹیم سیل بنا سکتے ہیں، مگر بالغ انسان میں موجود سٹیم سیلز صرف کچھ خاص قسم کے سیلز ہی بناسکتے ہیں۔
سٹیم سیلز سے سپرم سیلز بنانے کا عمل بھی زیر غور ہے مگر یہاں پر ابھی haploid اور diploid والا مسلہ سر اٹھاتا ہے۔ سٹیم سیلز diploid ہوتے ہیں، اور بالغ انسان کے جسم میں موجود سٹیم سیلز صرف مخصوص قسم کے سیلز ہی بنا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں یہ ممکنہ کام بھی کیا جاسکتا ہے کہ جسم کے خلیوں میں ploripotent stem cells والی خصوصیات پیدا کی جائیں اور پھر سٹیم سیلز کی طرح ان سیلز سے سپرم بنائے جائیں۔
بطور تھیوری یہ سب باتیں ممکن ہیں، جبکہ عملی طور پر ہم ابھی اس قابل نہیں ہوسکے۔ البتہ اس تھیوری کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ چوہوں میں مصنوعی سپرمز بنانے کی کامیابی کی خبریں آچکی ہیں ، اور ان سپرم سے چوہوں میں بچے بھی پیدا ہوچکے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Jaranwala