International Bridge School System
International Bridge School System has 3 Departments.
1. Day-Caring
2. Schooling
3. Computer Academ Computer Academy
28/08/2020
WeLcOmE to IBSS
The Best Choice for the Bright Future of your Child
Happy independence Day
at Home
Safe
میرا جسم میری مرضی... پڑھیے اور شئیر کیجیے. جزاک اللہ
یہ نعرہ ہے پختون تحفظ موومنٹ کی شروع کردہ ایک آزادی پسند، ہم جنس پرست، لبرل، سیکولر اور خیال مغربی سوچ کی حامل چند بےشرم خواتین کا بلند کردہ ایک نعرہ ہے جن میں اکثریت اپنے کردارِ بد کے سبب اپنے گھر اجاڑ چکی ہیں.
میرا جسم میری مرضی مجھے آزادی چاہیے جیسی لغویات یورپی معاشرے سے شروع ہوئیں جہاں عورت کو یہ باور کروایا گیا کہ وہ گھروں میں وہ خاندانوں میں، رشتوں میں قید ہیں جو انہیں دنیا میں ترقی سے روکنا چاہتے ہیں اس لیے عورت خود کو آزاد کرے اور اپنے حققوق کے لیے لڑے آزادی مانگے.
حققیت میں وہ معاشرہ عورتوں کو اپنی تسکین کے لیے استعمال کرنا چاہ رہا تھا کہ کسی طرح خواتین کو استعمال بھی کیا جائے اور انہیں اس میں اپنی بےعزتی اور استصحال بھی محسوس نہ ہو اور آج مغربی معاشرے میں یہی چل رہا ہے شاید چند ایک کڑوی باتیں یہاں بیان کروں جو ہم عام طور پر نہیں کرسکتے لیکن اس عورت مارچ کی غلاظت بیان کرنے کے لیے مجھے آج بولنا پڑ رہا بڑی ہی معذرت کے ساتھ.
یورپ میں آج عورت آزاد ہے عورت کا جسم عورت کی مرضی ہی چلتی ہے لیکن کیسے مرضی چلتی ہے اس کا اندازہ مغربی ڈراموں، مغربی فلموں اور اس سے آگے بڑھ کر پورن انڈسٹری میں دیکھا جاسکتا ہے کہ عورت کا جسم مگر پیسے والے کی مرضی. عورت وہاں گھر کی نہیں بلکہ کلبوں کی، شراب خانوں کی، جوے کے اڈوں کی فحاشی کے اڈوں کی، دوستوں کی محفلیں میں تحفے کے طور پر پیش کرنے کی حد تک رہ گئی ہے اگر نہیں رہی تو گھر کی نہیں رہی.
جب سے عورت نے میرا جسم میری مرضی کا نعرہ لگایا ہے یورپی معاشرے میں عورت صرف استعمال کی حد تک رہ چکی ہے نہ عورت ماں ہے نہ بہن ہے نہ بیوی ہے نہ بیٹی ہے بلکہ جس رشتے میں جہاں ملے اسے استعمال کرو یہ یورپی معاشرہ ہے.
ایک انگریز سے میں نے بڑی حسرت سے سنا تھا بلکہ روتے ہوئے سنا تھا کہ آپ لوگوں کو دیکھ کر خیال آتا ہے رشتے کیا ہوتے ہیں ورنہ ہماری تو نہ ماں ہے نہ بہن ہے نہ خالہ ہے نہ داری ہے کچھ نہیں ہے. نہ شوہر سے بیوی سے پوچھ سکتا ہے کہ کہاں سے آ رہی ہو کس کے ساتھ کیا کر کے آ رہی ہو اور نہ بھائی بہن سے پوچھ سکتا ہے وہ کس کے ساتھ کیا کرکے آ رہی ہے. باپ بیٹی کے سامنے بے بس، ماں بیٹے کے سامنے بے بس کیا یہ آزادی ہے؟
آزادی آزادی کرتی یورپی خواتین کو یورپ میں اس قدر بےدردی سے استعمال کیا گیا کہ اب وہاں کے مرد عورت کی بجائے کتے اور گدھے سے تعلقات تو قائم کرنا چاہتے ہیں مگر عورت سے اکتا چکے ہیں کیونکہ وہاں عورت کی قیمت ایک جنسی کھلونے سے ذیادہ کچھ نہیں.
یورپ میں آزادی کے نام پر حققوق کے نام پر ہزاروں خواتین کو عہدے ملے مگر کروڑوں عورتوں کو ذلالت اور بےغرتی بےحیائی کی دلدل میں پھنسا کر خوب جی بھر کر استعمال کیا گیا جس کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتا.
اب وہی میرا جسم میری مرضی والی خواتین کو کبھی یورپ کی گلیوں میں گلے میں پٹہ ڈلے جانور کیطرح پھرایا جاتا ہے تو کبھی سینکڑوں مردوں کی بھیڑ میں اسے جانوروں کی طرح استعمال کیا جاتا ہے اور یہی ایک عورت سینکڑوں مردوں کی تسکین کا باعث بنی ہوتی ہے جسے استعمال کے بعد ٹشو پیپر کی طرح کسی کوڑا دان میں پھینک دیا جاتا ہے.
یورپ کی گلیوں میں شام کے بعد یہی آزادی پسند عورتیں بازاروں میں ٹھہری میرا جسم میری مرضی کرتی ہیں اور وہی بھیڑیے جو انہیں آزادی اور حققوقِ نسواں کے نام پر آزاد خیالی کا درس دیتے تھے وہ انہی خواتین کو اپنی ہوس کے لیے استعمال کرکے گھر سے باہر پھینک کر سو جاتے ہیں اور میرا جسم میری مرضی ساری رات کسی دوسرے حققوقِ نسواں کے علمبردار کے انتظار میں صبح تک سڑکوں پر پھرتی رہتی ہے.
یورپ کی آزادی پسند خواتین کی اکثریت کا کوئی شوہر نہیں کوئی بیٹا کوئی بھائی نہیں بس صرف ہیں تو استعمال کرنے والے گاہک، وہاں عورت ماں نہیں، بہن نہیں بیٹی نہیں بلکہ عورت "Bitch" ہے "Slut" ہے، "W***e" ہے مگر ماں بہن بیٹی نہیں. وہاں راہ چلتی عورت کو ماں، باجی، آپی، خالہ، بہن، بیٹی نہیں کہا جاتا وہاں انہیں گالی دی جاتی ہے وہاں انہیں چھیڑا جاتا ہے ذلیل کیا جاتا ہے دبوچا جاتا ہے.
آج پاکستان میں چند بدکردار عورتیں اسی یورپ کی آزادی کو پاکستان میں لانا چاہتی ہیں کہ عورت مرد کے تحفظ سے آزاد ہو کر استعمال ہو اسے اس کا جسم اسکی مرضی کا ایک جھوٹا نعرہ پکڑا کر گلی گلی چوراہے ذلیل کیا جائے جسے اللہ پاک نے شادی جیسے ایک مقدس رشتے میں باندھ کر ایک شوہر تک ہی محدود کرکے محفوظ کردیا وہ عورت ہر گندی نظر کا شکار ہو وہ ایک شوہر کی بجائے ہر مرد سے استعمال ہو یہ ہے اس عورت مارچ کی حقیقت اور انکی منشاء.
اسے یہ نام دیتے ہیں فیمنزم کا یعنی عورت کو مرد پر فوقیت ہو حکمرانی حاصل ہو لیکن اگر یہ کہوں کہ یورپی مردوں کا یورپی عورتوں سے اپنی ہوس پوری کروانے کی ایک چال تھی جسے عورت نے بڑی خندہ پیشانی سے قبول کیا اور خود کو حاکم سمجھ کر مردوں کے استعمال میں آگئیں خوش تھیں کہ مردوں کے چنگل سے نکل گئیں، مردوں کے گلے میں جانوروں کی طرح پٹہ ڈال کر کھینچ کھانچ کر خوش ہوتی رہیں لیکن آخری میں ہوس مرد ہی کی پوری ہوتی اور عورت خوش ہے کہ مجھے مرد پر حکومت حاصل ہے.
آج بھائی، والد، شوہر کی حفاظت میں راہ چلتی کسی عورت کو کسی غیر مرد سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا کسی عورت کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ کوئی اسے راہ چلتے گالی دے گا اسکا ہاتھ پکڑے گا چھیڑے گا. ہمارے معاشرے میں برائیوں کی کمی نہیں لیکن ابھی ایک حیاء ایک شرم کا مادہ باقی ہے ابھی اللہ نے ہمیں اس یورپ سے بچایا ہوا ہے بس یہ چند بےحیاء عورتیں اور پختونوں کی دشمن پی ٹی ایم اس قوم سے شرم حیاء ختم کرنے کے درپے ہیں انہیں حیاءدار بیٹی پسند نہیں انہیں شرم و حیاء پسند نہیں. انہیں نہیں پسند کے ہماری خواتین عزت سے رہ کر ایسے بچے پیدا کریں جو پاکستان اور دین کے کام آئیں اور کل کو یہودیوں کے سامنے کھڑے ہوں.
بچیں ان بے حیاؤں سے ان بے غیرتوں سے یہ سارے فری میسینز ہیں یہ سارے دجال کے چیلے اور شیطان کے کتے ہیں انہیں فحاشی پھیلانی ہے انہیں رشتوں کی تذلیل کرنی ہے مگر دوسروں کی. کہیں منظور سے، کہیں علی وزیر سے کہیں محسن داوڑ سے کہیں میڈیا پہ بیٹھے اینکرز، سنگرز، ایکٹرز سے، کہیں انکے حمایتی ستاستدانوں سے کہ نکالیں اپنی مائیں، بہنیں، بیٹیاں اور بیویاں اگر انکے حققوق کی اتنی ہی فکر ہے نہیں نہیں یہ لوگ قوم کی بیٹیوں کو اپنے دجالی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں اپنی عورتیں کو سامنے نہیں لائیں گے.
خدارا ان سے بچیں یہ خود ہوں یا انکے حمایتی ہوں چاہے سیاستدان ہو، اداکار ہوں، اداکارائیں ہوں، اینکرز ہوں یا سماجی کارکنان اس کا تعلق کہیں نہ کہیں فری میسن سے جڑا ہے یہ دولت اور شہرت کے بھوکے ننگے ہونے اور ننگے کرنے کو بھی تیار ہیں یہ ساری بےحیائیاں دجال اور شیطان کی خوشنودی سے جڑی ہیں کوئی حققوق کی بات نہیں بس پاکستان میں اسلام ان سے برداشت نہیں.
ورنہ میری بہنیں، مائیں خود سوچیں جس عورت نے کہا کہ میرا جسم میرے رب کی مرضی وہ عورت آج اللہ کے کرم و فضل سے اپنے گھروں میں اپنے شوہر، بچوں اور خاندانوں کیساتھ آباد ہیں اور جنہوں نے کہا میرا جسم میری مرضی وہ آج دنیا بھر میں ذلت اور پستی کی گہرائیوں میں جا پڑی ہیں تو فیصلہ آپکا.
Team
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
43-A Block, Satellite Town
Jhang
35200
Opening Hours
| Monday | 08:00 - 17:00 |
| Tuesday | 08:00 - 17:00 |
| Wednesday | 08:00 - 17:00 |
| Thursday | 08:00 - 17:00 |
| Friday | 08:00 - 12:00 |
| 14:00 - 17:00 | |
| Saturday | 08:00 - 17:00 |