Quaid e Azam
Muhammad Ali Jinnah
Former Governor-General of Pakistan
He was a barrister, politician and the found
وطن سے وفاداری کے نغمے اور گانے تو بہت سنا دئے، اس عوام نے ٹیکس ادا کرکے تمہارے گھر چلائے، اب اس مشکل گھڑی میں تو عوام کا ساتھ دو۔
27/06/2026
ڈاکٹر اسرار صاحب نے ایک مرتبہ جوشِ خطابت میں بڑی تلخ حقیقت بیان کی تھی کہ اس کرہ ارضی کی سب سے منافق قوم پاکستان میں بستی ہے اور بخدا یہ سو فیصد حقیقت ہے۔
ہم صرف اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ہمارے پاکستانی معاشرے کی مجموعی حالت یہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کی غلطیاں تلاش کرتے ہیں دوسروں کی خامیاں دیکھتے ہیں ہمیں اپنا آپ برا نظر نہیں آتا اور اگر کوئی فکر مند انسان ہمیں ہماری کوئی خامی بتاتا ہے تو ہم اس کو منافق غدار دہشت گرد اور جو کہہ سکتے ہیں کہہ دیتے ہیں اور یہ سب سے اوپر طبقے سے لے کر سب سے نچلے طبقے تک کے ہر فرد کی نفسیات بن چکی ہیں۔
ہم میں سے ہر شخص بیک وقت شیطان بھی اور بیک وقت فرشتہ بھی بننا چاہتا ہے۔
31/05/2026
پاکستان کے بڑے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے بہت سے لوگوں کی پہلی اور آخری خواہش یہی بن چکی ہے کہ جتنا ہوسکے مال جمع کرلو، پھر ایک دن خاموشی سے یہ ملک چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے کسی دوسرے ملک جا بسو۔
مگر ذرا ایک لمحہ رک کر سوچو…
جب تمہیں اپنے رشتے دار پر بھروسہ نہیں، دوست پر یقین نہیں، اپنے بچوں اور اپنے باپ تک پر اعتماد نہیں، تو پھر تم نے یہ یقین کیسے کرلیا کہ جو عزت، پہچان اور طاقت تمہیں اپنے وطن میں حاصل ہے، وہی عزت تمہیں کسی غیر ملک میں بھی ملے گی؟
یہ کوئی معمولی سوال نہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو انسان کی پوری سوچ ہلا دیتا ہے۔
تمہارے پاس یہاں عہدہ ہے، اختیار ہے، وسائل ہیں۔ تم اس ملک میں وہ سب کچھ کرسکتے ہو جس کی تم باہر جا کر خواہش کرتے ہو۔ اگر تم نے کسی بھی وجہ سے یہ وطن چھوڑ دیا، تو ممکن ہے تمہارا یہ فیصلہ آنے والی نسلوں کو وہ نقصان دے جائے جس کا تم آج تصور بھی نہیں کرسکتے۔
حقیقت یہ ہے کہ تم بھی غلام ہو… بس فرق اتنا ہے کہ تمہاری زنجیریں سونے کی ہیں اور عوام کی لوہے کی۔
تمہیں بھی اسی نظام نے اپنے فائدے کے لیے کھڑا کیا ہے، کیونکہ غلام کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک اور غلام ہی سب سے بہتر ہتھیار ہوتا ہے۔
اب وقت صرف سوچنے کا نہیں رہا، کچھ کرنے کا ہے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ طاقتور کو ایسی باتوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، اور غریب سننے کے باوجود جاگتا نہیں۔
روزگار انسان کو اس لیے دیا گیا تھا کہ وہ اپنا اور دوسروں کا پیٹ بھر سکے، نہ کہ غیروں کے بینک اکاؤنٹس بھرنے کے لیے اپنی پوری زندگی کھپا دے۔
دنیا کے کئی غیر مسلم اپنی کمائی سے سسٹم بناتے ہیں، ادارے کھڑے کرتے ہیں، دوسروں کی مدد کرتے ہیں، اپنے معاشرے کو مضبوط بناتے ہیں۔ مگر یہاں اکثر امیر آدمی دولت کو ایسے لپیٹ کر بیٹھ جاتا ہے جیسے سانپ خزانے پر بیٹھا ہو۔ نہ خود سکون سے استعمال کرتا ہے، نہ کسی ضرورت مند کو فائدہ پہنچنے دیتا ہے۔
پھر ایک دن وہی دولت اولاد کے ہاتھوں برباد ہوتی ہے۔ کوئی اسے نشے میں اڑا دیتا ہے، کوئی جوا میں، کوئی عیاشی میں۔ اور آخر میں نہ دولت بچتی ہے، نہ عزت، نہ نام، نہ کوئی ایسا کام جو انسان کے بعد بھی زندہ رہ سکے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Karachi