Asr e Rohaniat
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Asr e Rohaniat, Religious organisation, up more north karachi, Karachi.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اگر لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں تو یقین کریں کہ یہ صرف اللہ کریم کا کرم ہے، پروردگار ہم سب کا پردہ رکھے
اللہ کریم جانتا ہے کہ آپ کب، کن حالات سے گزرے ہیں، یقین کریں وقت بدل جائے گا کہ یہی کائنات کا اصول ہے، اللہ رب العزت ہم پر اپنی عنایات کا در کھلا رکھے
یا ذوالجلال والاکرام اپنی شان کے مطابق اتنا معاف فرما دے جتنا تو معاف کرنے والا ہے، ہم سب پر اپنا خاص فضل وکرم فرما
اَللّٰهُمَّ يَا وَاسِعَ الْعَطَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُنْزِلَ الشِّفَاءِ اَللّٰهُمََ يَا رَافِعَ الْبَلَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ شِفَائَكَ وَ عَافِيَتَكَ عَلَيْنَا وَ عَلٰى كُلِّ مَرِيْضٍ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اَللّٰهُمََ ارْفَعْ عَنَّا الْبَلَاءَ وَادْفَعِ الْوَبَآءَ عَنْ اُمَّةِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ لُطْفَكَ عَلَى الْعِبَادِ وَ احْفَظْ بِلَادَنَا وَ بِلَادَ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ
آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَ السَّلَامِ وَ التَّحِیَّۃِ وَ الثَّنَاءِ وَ التَّسْلِیْمِ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا
درود پاک کا دن جمعہ مبارک، تمام احباب محبت سے درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین کا باعث ہے
15-ربیع الاٰخر 1444 ہجری
11-نومبر 2022 عیسوی
28-کاتک 2079 بِکرمی
بروز جمعہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب تک آپ کے ہاتھ سے خیر نکلتا رہے گا آپ کے اوپر زوال نہیں آ سکتا، خیر سے مراد کوئی اچھی بات، اچھا مشورہ، خشک ہوتے پودے کو پانی دینا، شجر کاری، ایک پلیٹ کھانا، کچھ پیسے، دکھ میں دلاسہ، خوشی میں بلاحسد مبارک باد، پرندوں کو کھانا کھلانا، حشرات کی خوارک اور ان جیسی چھوٹی چھوٹی باتیں جن سے لوگوں میں خوشیاں بانٹی جا سکتی ہیں
اللہ کریم ہمیں توفیق مزید عطا فرمائے
اَللّٰهُمَّ يَا وَاسِعَ الْعَطَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُنْزِلَ الشِّفَاءِ اَللّٰهُمََ يَا رَافِعَ الْبَلَاءِ اَللّٰهُمََ يَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ شِفَائَكَ وَ عَافِيَتَكَ عَلَيْنَا وَ عَلٰى كُلِّ مَرِيْضٍ يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ
اَللّٰهُمََ ارْفَعْ عَنَّا الْبَلَاءَ وَادْفَعِ الْوَبَآءَ عَنْ اُمَّةِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ اَنْزِلْ رَحْمَتَكَ وَ لُطْفَكَ عَلَى الْعِبَادِ وَ احْفَظْ بِلَادَنَا وَ بِلَادَ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ كُلِّ شَرٍّ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ
آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ بِجَاہِ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ عَلَیْہِ أَفْضَلُ الصَّلَاۃِ وَ السَّلَامِ وَ التَّحِیَّۃِ وَ الثَّنَاءِ وَ التَّسْلِیْمِ وَ عَلٰی آلِہٖ وَ صَحْبِہٖ اَجْمَعِیْنَ وَ بَارِکْ وَ سَلِّمْ تَسْلِیْمًا کَثِیْرًا
تمام احباب محبت سے درود پاک پڑھنے کو معمول بنا لیں کہ سعادت دارین کا باعث ہے
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مراقبے سے ہماری عام زندگی پر بھی کئی طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مراقبے کے ذریعے کئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ کارکردگی اور یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔
جس طرح جسم کے حواس ہیں اسی طرح روح بھی حواس رکھتی ہے اور روحانی حواس کو متحرک کرنے کا نام مراقبہ ہے۔ مراقبہ ایک ایسی کیفیت ہے جس میں فرد موجود ہوتے ہوئے بھی اس مقام پر نہیں ہوتا اور کسی دوسرے مقام پر نہ ہوتے ہوئے بھی وہاں موجود ہوتا ہے۔ اصل میں ہمارے اندر جتنی بھی قوت ہے جتنی بھی طاقت ہے‘ انرجی ہے‘ پاور ہے‘ روح ہے یہ سب خالق کی صفحات کا عکس ہے اور کائناتی علوم صرف روح کو حاصل ہیں‘ لہٰذا روح سے واقفیت انتہائی ضروری ہے‘ زندگی کا سراغ پانے کیلئے اپنے من میں ڈوبنا پڑتا ہے۔ پانچ حواص جومادیت میں محدود ہیں لیکن روح کے مرکز میں داخل ہوتے ہی یہ محدود حواس چونکہ مادے کی گرفت سے باہر نکلتے ہیں لہٰذا لامحدود ہوجاتے ہیں مثلاً نگاہ خواب میں کیا کچھ دیکھ لیتی ہے۔ سو وہ شے جوغیب ہے لیکن دسترس میں ہے کہ اسے مسخر کردیا جائے اسے اپنے وجود کے مقناطیسی نظام سے دیکھا جاسکتا ہے اور وجود کی طاقت سامنے لانے کیلئے شمع بنتی‘ چاند اور آخر میں سورج کو مسلسل دیکھ کر قوت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
انسانی وجود میں دماغ اس کائنات کا سب سے بڑا بھید ہے کہ دنیائے انسانیت کے تمام کارنامے‘ تفکر‘ تصور اور خیال کی غیرمرئی طاقت کا طواف کرتے ہیں اور نئے مفاہیم کے ساتھ نئے صبح و شام پیدا کرتے ہیں۔ لہٰذا دماغ میں موجود ذہن کی رفتار پر ہی عمل کی رفتار کا دارو مدار ہوتا ہے اور اس رفتار کو بڑھانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے علم! مراقبے میں جب یکسوئی حاصل ہوجائے اور روشنیوں کا نظام واضح ہونے لگے اور ہر روشنی اپنے مقام کے‘ مفہوم کے ساتھ ذہن کو روشن کرنے لگے توایک کیفیت یہ آتی ہے کہ تمام مناظر بند آنکھوں کے سامنے گھومنےلگتے ہیں یہ کیفیت ورود کہلاتی ہے اور اس کے بعد ایک درجہ وہ آتا ہے جب تمام مناظر کھلی آنکھ سے دیکھے جاتے ہیں یہ مقام شہود کہلاتا ہے۔
روشنیوں اور رنگوں کا ایک نظام ہے جو نہ صرف باہر کی دنیا میں پھیلا ہوا ہے بلکہ بھید کی دنیا پر بھی اس کی حکومت چلتی ہے اور جس رنگ کی قوت غالب آرہی ہو انسان کا مزاج بھی اسی رنگ میں ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رنگ اپنی جگہ اہم ہوتے ہیں رنگوں کی مدد سے علاج بھی کیا جاتا ہے۔ لمس کی مدد سے بھی علاج ممکن ہے‘ رنگ اپنا روپ مختلف طریقوں سے ظاہر کرتے ہیں آواز کا جو کمبی نیشن ہوتا ہےاس میں بھی کئی رنگ پائےجاتے ہیں۔ یعنی آوازوں کی مرکزیت اور ان کے ملاپ کے اندر بے شمار رنگ ہوتے ہیں اس لیے مختلف جذبوں کے تحت نکلی ہوئی آوازوں کے اس کمبی نیشن سے اندر موجود رنگوں پر فرق پڑتا ہے اور تبدیلی وجود سے باہر ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ اس کا نام مراقبہ ہےاور مختلف قسم کے مناظر آنکھوں کے سامنے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے رابطہ اور تعلق کی قوت جتنی زیادہ مضبوط ہوگی۔ اتنی ہی طاقت کے ساتھ ہمارے دلوں میں اللہ کی محبت جھلکے گی اور پھوٹے گی۔
مراقبے کے فوائد سائنس کی رو سے: ترقی یافتہ ممالک میں مراقبے کے موضوع پر سائنسی و تحقیقی کام شب و روز جاری ہے‘ جدید سائنسی آلات سے اخذ کیے جانےوالے نتائج سے نہ ثابت ہوا ہے کہ مراقبے سے انسان کو ہمہ جہت فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ ان نتائج کے پیش نظر مراقبہ کو ایک ٹیکنالوجی کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مراقبے سے ہماری عام زندگی پر بھی کئی طرح کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مراقبے کے ذریعے کئی جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں سے نجات مل سکتی ہے۔ کارکردگی اور یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور ذہنی صلاحیتوں کو جلا ملتی ہے۔ تسبیح کے دوران مسلسل توجہ ارتکاز ضروری ہے۔ زبانی طور پر یا دل ہی دل میں تسبیح کے الفاظ دہرانے کے دوران بھی اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ اصل تسبیح وہ ہے‘ جو دل یا سانس سے ادا ہو۔ اللہ نے ہمیں سانس اور دل اسی لیےعطا کیے ہیں کہ ہم ان کی مدد سے اسے یاد کریں۔ صرف زبان سے اسےیاد نہ کریں۔ سانس کو دماغ کی سواری بھی کہا جاتا ہے۔ اس لیے سانس کے بارےمیں معلومات مراقبے کا ایک اہم جزو ہے۔ اس حوالے سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ تسبیح یا جاپ کے ذریعے آپ کو اپنی قدرتی
سانس کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے۔ آپ ایک منٹ میں پندرہ بار ایک گھنٹے میں نو سو مرتبہ اور چوبیس گھنٹے میں 21600 سانس لیتے ہیں لیکن کبھی اس کا احساس نہیں ہوتا۔ آپ کو صرف یہ معلوم ہے کہ سانس کی آمدورفت ایک لازمی عمل ہے‘ سانس زندگی کی کلید ہے اور یہی سانس ارتکا اور مراقبے کی بنیاد ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں عمل تنفس کی مختلف مہینوں کا علم ہونا چاہیےجو یہ ہیں:۔ 1۔ قدرتی تنفس۔ 2۔ قدرتی تنفس سے گہری سانس۔ 3۔ پرسکون عمل تنفس۔ 4۔ تنفس میں رکاوٹ۔ آپ تنفس کی ان چار کیفیتوں کا بستراستراحت پر خود بھی جائزہ لے سکتے ہیں‘ آپ جب بستر پر دراز ہوتے ہیں تو آپ کا تنفس معمول کے مطابق ہوتا ہے۔ نیم خوابی کی حالت میں آپ گہرے تنفس میں ہوتے ہیں‘ گہری نیند میں آپ کاتنفس پرسکون حالت میں ہوتاہے اور آپ ہلکے خراٹوں کی آواز محسوس بھی کرسکتے ہیں۔ بعض اوقات گہری نیند کی حالت میں تنفس کا سلسلہ منقطع بھی ہوجاتا ہے۔ آپ اچانک جاگ جاتے ہیں۔ تنفس کی ان چار کیفیتوں کا مشاہدہ مراقبے کے دوران بھی کہا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اپنے قدرتی تنفس پر نصف گھنٹےیا اس سے زیادہ عرصے تک توجہ مرکوز رکھتے ہیں تو آپ ایک گہری کیفیت میں چلےجاتے ہیں اور آخر کار انتہائی پرسکون ہوجاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں تیسرا نکتہ سانس کی آمدورفت سے آگاہی اور جسم میں اس کی حرکات و سکنات کی محسوسات ہیں۔ چوتھا نکتہ منہ کی آواز ہے جس کا سلسلہ تنفس کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے۔ آپ مسلسل جب سانس لیتے ہیں تو سبحان اللہ والحمدللہ کی آواز نکلتی ہے اور ارتکا کی لہریں اپنے جسم میں محسوس کرتے ہیں تو اس سے آپ کو جسمانی قوت کی بحالی میں بھی مدد ملتی ہے۔
بلڈ پریشر کا قرآن سے علاج
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Address
Up More North Karachi
Karachi
73505