Channel 6

Channel 6

Share

Channel 6 is an infotainment Social Media Channel which aims to become the Voice of Reason in the world full of bigotry and prejudice.

10/05/2026



ماں … اور صرف ایک دن؟

مجھے وہ دن آج بھی بخوبی یاد ہے جب میں اپنے محترم باس، سیکرٹری ایکسائز سندھ جناب مسعودالرحمان مسعود صاحب کے ساتھ سفر میں تھا۔ دورانِ گفتگو وہ فرمانے لگے:

“میری ماں کی وفات کے بعد آج تک کوئی ایک دن ایسا نہیں گزرا جب میں نے اُن سے بات نہ کی ہو۔”

یہ جملہ سن کر میرا دل لرز اٹھا۔ میں سوچنے لگا، کیا میں اپنی ماں سے بے وفائی کا مرتکب ہوا ہوں؟ زندگی میں یقیناً ایسے دن آئے ہوں گے جب میں نے انہیں باقاعدہ یاد نہ کیا ہو، ان کا ذکر نہ کیا ہو، مگر آج ربع صدی گزرنے کے بعد بھی پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایسے دن انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ بہت کم… شاید نہ ہونے کے برابر… وہ بدنصیب لمحے ہوں گے جب آنکھوں کے سامنے سے وہ پُرنور چہرہ اوجھل ہوا ہو۔

ماں بھی کیا کبھی بھلائی جا سکتی ہے؟

ویسے تو ہر انسان کے لیے اس کی اپنی ماں سب سے زیادہ محبوب اور محترم ہوتی ہے، مگر بعض مائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو صرف اپنی اولاد ہی کی نہیں رہتیں، وہ “جگت ماں” بن جاتی ہیں۔

سروس کے ابتدائی دنوں میں، جب میری ٹریننگ جہلم میں تھی، میں نے بڑی مشکل سے امی جی کو آمادہ کیا کہ کچھ عرصہ میرے ساتھ رہیں تاکہ ان کے دانتوں کا علاج ہو سکے۔ جہلم کینٹ کی ایک پُرفضا اور وسیع کوٹھی کی انیکسی میں ان کا تقریباً تین ہفتے قیام میرے لیے کسی عید سے کم نہ تھا۔ دل میں ہر وقت ایک انجانا خوف رہتا کہ کہیں اچانک واپسی کا اعلان نہ کر دیں، کیونکہ پھر انہیں روکنا ممکن نہ ہوتا۔

ڈاکٹر کرنل ضیاءالحق صاحب کی شفقت کا بڑا دخل تھا کہ یہ قیام طوالت اختیار کر سکا۔ وہ خود ہسپتال جاتے ہوئے راستے میں رک کر امی جی سے دعائیں لیتے۔ علاج وقفوں سے جاری رہتا اور یوں یہ خوبصورت وقت بڑھتا چلا گیا۔

تین ہفتے بعد امی جی نے واپسی کی تیاری شروع کر دی۔ اس تیاری میں کپڑوں، ٹافیوں، کھلونوں اور نہ جانے کیا کیا چیزوں کا انبار تھا۔ یہ ساری خریداری انہوں نے اپنی عقیدت مند خواتین کے ذریعے کی تھی اور مجھے اس کی زیادہ خبر بھی نہ تھی۔

اُن دنوں پیر کھارا شریف تک سفر کرنا کسی معرکے سے کم نہ تھا۔ آخری حصہ تو بالخصوص صبر آزما ہوتا تھا۔ سڑک نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی، صرف پتھروں، گرد اور جھٹکوں سے بھرا راستہ۔ گاڑی چلتی کم اور رینگتی زیادہ تھی۔

ہمارا گھر ویسے بھی گاؤں کی آخری سرحد پر واقع تھا۔ جیسے ہی گاؤں کے بچوں کو خبر ہوئی کہ امی جی آ رہی ہیں، بچے آہستہ آہستہ گاڑی کے ساتھ جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اچانک ایک بچی کی خوشی سے بھری آواز بلند ہوئی:

“اساڈے امی ہوری آ گئے نیں!”

پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ آواز ایک ترانے کی صورت اختیار کر گئی۔

جب سامان زنان خانے میں پہنچا تو درجنوں بچے امی جی کے گرد جمع تھے۔ کسی کے لیے چوڑیاں نکلیں، کسی کے لیے دوپٹہ، کسی بچے کے لیے کھلونا جیپ، اور سب کے لیے ٹافیاں، چاکلیٹ اور مرنڈے۔ بچے خوشی سے جھوم رہے تھے، اور امی جی کی آنکھوں میں محبت کی وہ روشنی تھی جو صرف ماں کا خاصہ ہے۔

اُس روز پہلی مرتبہ شدت سے احساس ہوا کہ یہ ماں صرف اپنے بچوں کی ماں نہیں، بلکہ اس کا مقام عام ماؤں سے کہیں بلند ہے۔

ماں… اور پھر ایسی ماں، جس کی بنیاد خوفِ خدا اور محبتِ رسول ﷺ پر ہو؛ جسے فکر ہو تو صرف اس بات کی کہ اس کے بچے دین سے وابستہ رہیں؛ جو محض حافظِ قرآن نہ ہو بلکہ قرآن کے احکام پر عمل کرنے والی ہو؛ جس کی ناراضی دنیاوی کوتاہیوں پر نہیں بلکہ احکامِ الٰہی سے غفلت پر ہو — ایسی مائیں نسلوں کی تربیت کرتی ہیں، صرف بچوں کی پرورش نہیں۔

اللہ کریم نے توفیق عطا فرمائی تو موٹروے سروس ایریا پیر کھارا شریف کا آغاز ہوا۔ وہاں پہلی عمارت ایک مسجد کی صورت میں تعمیر ہوئی، جس کا نام “مسجد حافظہ زینب بی بی” رکھا گیا۔

لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے کوہستانِ نمک کے آغاز سے قبل یہ مسجد آج بھی مسافروں اور نمازیوں کے لیے باعثِ راحت ہے۔ بہت سے دوستوں نے اس مسجد میں ایک خاص روحانی کیفیت اور قلبی سکون کا ذکر کیا ہے۔ میرے لیے تو یہی کافی ہے کہ جو خاتون ساری عمر نماز اور قرآن کا درس دیتی رہی، آج اُس کے نام کی مسجد روزانہ سینکڑوں نمازیوں کی عبادت میں آسانی اور سکون کا سبب بن رہی ہے۔

ماں… صرف ایک دن کا عنوان نہیں۔

ماں تو ہر دن ہے۔
ہر دعا میں ہے۔
ہر یاد میں ہے۔
ہر کامیابی کے پیچھے ہے۔
اور انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

کسی ایک دن کو “ماں کا دن” کہنا… ماں کے مقام کو محدود کرنے جیسا محسوس ہوتا ہے۔

Tariq Mehmood Pirzada

10/05/2026
04/05/2026

وطن تے والو ہا 💔
پردیسی دل دی پکار
گھر دی یاد ستاندی اے 😢

Want your business to be the top-listed Media Company in Karachi?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Karachi
Karachi